Updated: June 03, 2026, 9:57 PM IST
| Washington
ایک تجزیاتی مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی میڈیا بار بار ایسی خبریں شائع کرتے ہیں جن سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امریکی صدور، خواہ وہ ڈونالڈ ٹرمپ ہوں یا جو بائیڈن، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی پالیسیوں سے ناراض ہیں۔ مضمون کے مطابق، ان خبروں کے باوجود امریکی حمایت میں کبھی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ مصنف کا استدلال ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مبینہ اختلافات کا یہ بیانیہ عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
مشرقِ وسطیٰ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران ایک نمایاں رجحان یہ رہا ہے کہ بار بار ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ امریکی قیادت اسرائیلی اقدامات، خصوصاً غزہ میں ہونے والی کارروائیوں، سے ناراض یا مایوس ہے۔ اس سلسلے کی تازہ مثال Axios کی ایک رپورٹ ہے، جسے ناقدین مغربی دنیا میں اسرائیلی مؤقف کے سب سے سرگرم ترجمانوں میں شمار کرتے ہیں۔ اگر کوئی اب بھی امریکی میڈیا کے پیش کردہ اس سیاسی تھیٹر پر یقین رکھتا ہے، جسے مصنف اسرائیلی اثر و رسوخ سے بھرپور قرار دیتا ہے، تو اس کے مطابق وہ حقیقت سے نظریں چرا رہا ہے۔
Axios کے رپورٹر باراک راوِڈ، جو ماضی میں اسرائیلی فوج سے وابستہ رہ چکے ہیں اور اکثر گمنام ذرائع کے حوالے سے خصوصی خبریں شائع کرتے ہیں، اس نوعیت کی متعدد رپورٹس کے مصنف رہے ہیں۔ ان کی تازہ رپورٹ کے مطابق، بیروت پر اسرائیلی بمباری دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان ایک ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں ٹرمپ نے مبینہ طور پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ راوِڈ کے مطابق، ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ ’’تم پاگل ہو رہے ہو۔ اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ میں تمہیں بچا رہا ہوں، لیکن اب ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے اور اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرنے لگے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: ایندھن کا بحران شدید، ہنگامی اقدامات کا اعلان
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ اس قدر ناراض تھے کہ ایک موقع پر انہوں نے چیخ کر کہا کہ ’’تم کر کیا رہے ہو؟‘‘ یہ پہلا موقع نہیں کہ راوِڈ نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کی خبریں شائع کی ہوں۔ گزشتہ برسوں میں بھی انہوں نے متعدد رپورٹس میں یہی تاثر دیا کہ امریکی صدر اسرائیلی قیادت سے ناخوش ہیں۔
مثال کے طور پر:
’’ٹرمپ غزہ جنگ سے مایوس، نیتن یاہو سے اسے ختم کرنے کا مطالبہ‘‘ (۲۰؍ مئی ۲۰۲۵ء)
’’ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران جوہری مذاکرات میں مداخلت سے خبردار کیا‘‘ (۲۷؍ مئی ۲۰۲۶ء)
’’غزہ پر گفتگو کے دوران ٹرمپ کا نیتن یاہو سے کہنا: تم ہمیشہ منفی سوچتے ہو‘‘ (۵؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء)
اسی نوعیت کی رپورٹس سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی مسلسل سامنے آتی رہیں۔ ان میں یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ بائیڈن اور نیتن یاہو کے تعلقات کشیدہ ہیں اور واشنگٹن اسرائیلی پالیسیوں سے نالاں ہے۔
ان رپورٹس میں شامل چند نمایاں مثالیں یہ ہیں:
’’غزہ جنگ کے ۱۰۰؍ دن مکمل ہونے پر بائیڈن کا صبر جواب دے گیا‘‘ (جنوری ۲۰۲۴ء)
’’بائیڈن نیتن یاہو سے ناراض لیکن اسرائیل کی حمایت برقرار‘‘ (۱۰؍ مارچ ۲۰۲۴ء)
’’امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان اختلافات میں اضافہ‘‘ (۱۲؍ مارچ ۲۰۲۴ء)
’’بائیڈن اور نیتن یاہو کی گفتگو سے قبل وائٹ ہاؤس میں شدید کشیدگی‘‘ (۳؍ اپریل ۲۰۲۴ء)
’’ہم آپ کی حمایت نہیں کریں گے: بائیڈن کا الٹی میٹم‘‘ (۵؍ اپریل ۲۰۲۴ء)
’’امریکہ ایران پر اسرائیلی جوابی حملے کی حمایت نہیں کرے گا‘‘ (۱۴؍ اپریل ۲۰۲۴ء)
’’علاقائی جنگ کے خطرات پر بائیڈن کی نیتن یاہو کو تنبیہ‘‘ (۲؍ اگست ۲۰۲۴ء)
’’بائیڈن کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو یرغمالوں اور جنگ بندی کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے‘‘ (۲؍ ستمبر ۲۰۲۴ء)
یہ بھی پڑھئے: امریکہ، ہندوستان اور دیگر ۵۹ ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کررہا ہے
مصنف کے مطابق، ان تمام مبینہ اختلافات کے باوجود امریکی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آئی اور اسرائیل کو امریکی حمایت بدستور حاصل رہی۔ مضمون میں استدلال کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی یہ خبریں ایک ایسے سیاسی تھیٹر کا حصہ ہیں جو عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ اسرائیل امریکی پالیسی کا تابع ہے اور واشنگٹن ہی اس کے اقدامات کو کنٹرول کرتا ہے۔ مصنف کے مطابق، تاریخی شواہد اس تصور کی مکمل تائید نہیں کرتے۔
تحریر میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے قیام کے بعد سے متعدد اہم معاملات میں آزادانہ فیصلے کیے اور بعض مواقع پر امریکی مفادات سے ہٹ کر بھی اقدامات کیے۔ مصنف ایران کے خلاف امریکی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اگرچہ ایسی کارروائیوں کی امریکی عوام میں مخالفت موجود ہے، اس کے باوجود واشنگٹن اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں امریکہ کو مالی، سیاسی اور عسکری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی پارلیمنٹ کا ڈجیٹل خودمختاری و پرائیویسی کوترجیح، فرانسیسی براؤزکا استعمال
تحریر کے مطابق، ٹرمپ نے ایک موقع پر کہا تھا: ’’میں امریکیوں کی مالی حالت کے بارے میں نہیں سوچتا، میں صرف ایک چیز کے بارے میں سوچتا ہوں: ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔‘‘
مصنف کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی میں امریکی انتظامیہ، چاہے اس کا سربراہ کوئی بھی ہو، اسرائیل کے مفادات کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات امریکی قومی مفادات پر بھی اس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مضمون کے اختتام پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی میڈیا میں اسرائیل اور امریکی قیادت کے درمیان اختلافات کی بار بار گردش کرنے والی کہانیاں محض ایک سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد عوامی تاثر کو متاثر کرنا ہے۔ مصنف کے مطابق، جو لوگ اب بھی اس بیانیے پر یقین رکھتے ہیں، وہ زمینی حقائق کو سمجھنے میں ناکام رہیں گے۔