Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلمانوں کوسماجی،سیاسی طورپرالگ تھلگ کرنےکیخلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نےملک گیر تحریک کااعلان کیا

Updated: June 23, 2026, 10:08 AM IST | New Delhi

مدارس و مساجد اور مسلم بستیوں  کے انہدام پراظہارِ تشویش، ملک کے بدتر ہوتے حالات سے نمٹنے کیلئے انصاف پسند افراد کو ساتھ لینے کا عزم

Members of the All India Muslim Personal Law Board during a meeting.
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اراکین میٹنگ کے دوران

 آل انڈیامسلم پرسنل لا ء بورڈ نے بی جے پی کے زیر اقتدا رریاستوں میں مسلمانوں پر  مظالم، ہجومی تشدد،مساجد ومدارس کے انہدام اور مسلم بستیوں  پر بلڈوزر چلانے کے واقعات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان کیا ہے۔ بورڈ نے سرکاری تقریبات ، اسکولوں  اورامداد یافتہ مدارس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے اور مختلف ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی پیش رفت اور کمال مولیٰ مسجد کے تعلق سے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔
مسلم پرسنل لاء کی مجلس عاملہ کے اہم فیصلوں سے  پریس کلب آف انڈیا میں میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کرتے ہوئے بورڈ کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے بتایا کہ  بورڈ ملک وملت کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پرسخت تشویش  میں مبتلا ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے اقتدار والی  ریاستوں   میں  مسلمانوں کی جان ومال ،عزت و آبرو، مساجدو مدارس،  قبرستانوں،بنیادی حقوق یہاں تک کے ان کے ایمان وعقیدے خطرے میں ہیں۔ انہوں  نے کہاکہ پورے ملک میں  نفرت ،تعصب اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی فضامنظم طور پر پروان چڑھائی جارہی ہے اوراس میں  خود بی جے پی کے اعلیٰ  عہدیداران پیش پیش ہیں۔
 بورڈ کے ترجمان نے مزید کہاکہ مجلس عاملہ میں فیصلہ کیا گیاہے کہ ملک کےباشعور،انصاف پسند اورجمہوری اقدار کے حامل طبقات کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئےملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال،فرقہ وارانہ کشیدگی اور بنیادی حقوق کو پامال کئے جانے سے متعلق ایک جامع دستاویز تیار کرکے اس کو شائع کیا جائے گا۔مجلس عاملہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو سماجی وسیاسی طورپر حاشیہ پر دھکیلنے، دستوری تقاضوں کی پامالی،نفرت   کے فروغ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی کونقصان پہنچانے ،مسلمانوں کی جان ومال ،عزت و آبرو پر حملوں کے خلاف ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند اور محب وطن افراد کو ساتھ میں لے کر تحریک چلائی جائے گی جس کیلئے ایک مجلس عمل تشکیل دی جارہی ہے۔ بورڈ نے کمال مولیٰ مسجد کے تعلق سے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK