ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا پٹیشن کے فریق یعنی شیو سینا کے ’غداروں ‘ سے ملاقات کرنا اور انہیں یہ کہنا ہےکہ تم گھبراؤ نہیں مَیں تمہارے ساتھ ہوں، کیاسپریم کورٹ پر دباؤ بنانے اور دھمکانے کی کوشش نہیں ہے؟
EPAPER
Updated: August 09, 2026, 11:04 AM IST | Mumbai
ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا پٹیشن کے فریق یعنی شیو سینا کے ’غداروں ‘ سے ملاقات کرنا اور انہیں یہ کہنا ہےکہ تم گھبراؤ نہیں مَیں تمہارے ساتھ ہوں، کیاسپریم کورٹ پر دباؤ بنانے اور دھمکانے کی کوشش نہیں ہے؟
شیو سینا ( ادھو) کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے سنیچر کو حکومت سے سنگین سوالات کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب اصل شیو سینا کس کی؟ اس پٹیشن پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے، ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا پٹیشن کے فریق یعنی شیو سینا کے ’غداروں ‘ سے ملاقات کرنا اور انہیں یہ کہنا ہےکہ تم گھبراؤ نہیں مَیں تمہارے ساتھ ہوں، کیاسپریم کورٹ پر دباؤ بنانے اور دھمکانے کی کوشش نہیں ہے؟ ( وہ یہ کہنا چاہتے ہیں )کہ سپریم کورٹ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے کیونکہ مَیں ان کے ساتھ ہوں۔ ‘‘ادھوٹھاکرے نے سنیچر کو ممبئی کے باندرہ ولاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ ماتوشری میں پریس کا نفرنس کے دوران یہ سوال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کے پاس ملک کے مستقبل سنوارنے والے نوجوانوں سے ملاقات کرنے کا وقت نہیں ہے، پارلیمنٹ میں آنے کا وقت نہیں ہے لیکن ان کے پاس ملک کے غداروں سے ملاقات کرنے کا وقت ہے۔ وہ نہ صرف ان سے ملاقات کر رہے ہیں بلکہ انہیں یہ بھی یہ یقین بھی دلارہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ اس طرح مودی کیا یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے غداروں کے ساتھ ہیں ؟ یاد رہے کہ ایک روز قبل شیو سینا سربراہ ایکناتھ شندے، شیو سینا ( ادھو ) چھوڑ کر ان کی پارٹی میں شامل ہونے والے ۶؍ اراکین پارلیمان کے ساتھ وزیر اعلیٰ مودی سے ملنے گئے تھے۔ ادھو ٹھاکرے نے سوال اٹھایا کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں کی گئی جب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ممبئی آئے ہوئے ہیں تو کیا یہ امیت شاہ اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو بھی پیغام دیا گیاہے کہ مودی ایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میونسپل اسکولوں میں ٹیچرزکی کمی،والدین بچوں کاداخلہ نجی اسکولوں میں کرانےپرمجبور
گالیاں سننے میں مودی نے ریکارڈ توڑ دیا
اس دوران ادھو ٹھاکرے نے حال ہی میں طلبہ کے ذریعے دی گئی گالیوں کے تعلق سے وزیراعظم پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ سچ ہے کہ مودی نے کانگریس کی طرح سرکار نہیں چلائی کیونکہ چند دنوں میں جتنی گالیاں مودی اور امیت شاہ نے کھائیں اتنی تو کانگریس نے ۷۰؍ برسوں میں نہیں کھائیں۔ ‘‘
لاٹھی اور پیلٹ گن چلانے والا دوست نہیں ہو سکتا
سابق وزیر اعلیٰ نے جنتر منتر پر طلبہ پر چلائی گئی کیل لگی ہوئی لاٹھیوں اور پیلٹ گن کے تعلق سے بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج سے سامنے نریندر مودی کو مجبور ہوکر انسٹا گرام پر آکر طلبہ سے بات چیت کرنی پڑی۔ رات گیارہ بجے انہوں نے ’فرینڈس‘ کہہ کر نوجوانوں کو مخاطب کیا لیکن جس نے پر امن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر کیل لگی ہوئی لاٹھیاں برسائیں، چھرے برسانے والی پیلٹ گن سے فائرنگ کی، ان پرآنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لڑکیوں تک کو بری طرح پیٹا وہ آپ کا دوست کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ یاد رہے کہ ان دنوں ایکناتھ شندے اور ان کے ساتھیوں کی بغاوت کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس پر جلد ہی فیصلہ آ سکتا ہے۔ اس لئے ایکناتھ شندے کی مودی سے بار بار ملاقاتیں معنی خیز سمجھی جا رہی ہیں۔
ادھو ٹھاکرے کے سوالوں کے جواب میں بی جے پی کے ترجمان نوناتھ بن نے کہا کہ ’’مودی ادھو کی طرح ایم پی کیلئے اپنے دروازے بند نہیں کرتے۔ اسی لئے انہوں نے ان اراکین پارلیمان سے ملاقات کی۔