Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب مراٹھا سماج کا آخری اور فیصلہ کن احتجاج ہوگا

Updated: August 09, 2026, 11:04 AM IST | Usmanabad

منوج جرنگے نے مراٹھا سماج سے اپیل کی کہ وہ ۲۹؍ اگست کے احتجاج کیلئے منظم ہو جائیں ، فرنویس اور شندے پر دھوکہ دینے کا الزام ۔

Manoj Jarange allegation: Hands tied in front, betrayed from behind. Photo: INN
منوج جرنگے کا الزام: سامنے ہاتھ جوڑے گئے، پیچھے سے دغادی گئی۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے نے اعلان کیا ہے کہ ۲۹؍ اگست سے شروع ہونے والا مراٹھا سماج کا احتجاج آخری اور فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت مراٹھا سماج کے ساتھ کھلے طور پر نا انصافی کر رہی ہے۔ مراٹھا سماج کے کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ منوج جرنگے نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ آئندہ ۲۹؍ اگست سے جالنہ میں واقع اپنے گائوں انتراولی سراتی میں ایک بار پھر بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ اس کیلئے ماحوال سازگار کرنے کی خاطر انہوں نے ایک روز قبل مغربی مہاراشٹر کا دورہ شروع کیا ہے۔ سنیچر کو وہ عثمان آباد میں واقع تلجا بھوانی مندر پہنچے جہاں انہوں پوجا کی اور اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے عثمان آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ 
منوج جرنگے نے اس موقع پر میڈیا کے سامنے کاغذات دکھاتے ہوئے کہا ’’ شندے کمیٹی نے خود گائوں کی سطح پر قدیم کنبی رجسٹریشن ڈھونڈ کر نکالا۔ کمیٹی نے جن لوگوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ انہی لوگوں کے سرٹیفکیٹ اب اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے حکم پر منسوخ کئے جا رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ورشا بوڈکے نامی خاتون کا کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ ہو جاتا ہے لیکن ان کے سگے بھائی کا سرٹیفکیٹ منظور ہو جاتا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ جیوتی دہی ہنڈے کے سرٹیفکیٹ کو کمیٹی نے منظوری دی ہے لیکن افسران نے ان کے سرٹیفکیٹ پر لکھا ہے ’’ پیسے دیجئے ‘‘ اس اشارتی زبان کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے ان باتوں کیلئے وزیر محصول چندر شیکھر باونکولے اور وزیر برائے سماجی انصاف سنجے شرساٹ کو مورد الزم ٹھہرایا۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا سے نیرول میں ڈی وائی پاٹل اسپتال تک مفت بس سروس برسوں سے جاری

مراٹھا کارکن کا کہنا ہے ’’ وزیروں نے افسران کو اشاروں کی زبان میں خط لکھ کر ۵؍ دنوں کے اندر کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایسا ملک میں پہلی بار ہوا ہے۔ مراٹھا سماج کے بچوں کے حقوق چھیننے کیلئے حکومت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ اورنگ آباد میں ذات تصدیق کمیٹی کی جانب سے منظوری ملنےکے باوجود سنجے شرساٹ کے کہنے پر کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ کئے گئے۔ مراٹھا ووٹوں کے دم پر جیت کر آنے والے اب مراٹھا سماج کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں۔ ‘‘ منوج جرنگے نے دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ’’ دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کہتے ہیں کہ ہماری کوئی غلطی نہیں ہے۔ پھر یہ سب کس کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ میں بی جے پی اور شیوسینا کے اندر موجود مراٹھا لیڈران سے کہتا ہوں کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور سنجے شرساٹ اور باونکولے کی غلطیوں کو سدھاریں۔ ‘‘ انہوں نے عثمان آباد کے باشندوں سے کہا کہ آپ تیار رہیں۔ ۲۹؍ اگست کا احتجاج آخری اور فیصلہ کن ہوگا۔ ہم ۵۸؍ لاکھ کنبی سرٹیفکیٹ جاری کروا کر رہیں گے۔ اب ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت کو ایک منٹ کا بھی وقت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا سماج کو دھیان رکھنا چاہئے۔ ہم کسی بھی پارٹی میں کام کریں لیکن جب ذات کی بات آئے تو ہمیں سب سے پہلے ذات کو ترجیح دینی چاہئے۔ جرنگے کا اگلا پڑائو شولا پور میں ہوگا۔ ایک کے بعد ایک اضلاع میں وہ مراٹھا سماج کو ۲۹؍ اگست کے احتجاج کیلئے تیار کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK