Updated: August 17, 2026, 7:05 PM IST
| New York
کرسٹوفر نولن کی فلم ’’دی اوڈیسی ‘‘ نے عالمی باکس آفس پر ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق فلم کی دنیا بھر میں کمائی ۲ء۱؍ ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے اور اب یہ تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی آر ریٹڈ فلم کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
دی اوڈیسی۔ تصویر:آئی این این
کرسٹوفر نولن کی فلم ’’دی اوڈیسی ‘‘ نے عالمی باکس آفس پر ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق فلم کی دنیا بھر میں کمائی ۲ء۱؍ ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے اور اب یہ تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی آر ریٹڈ فلم کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ’’دی اوڈیسی‘‘ نے ریلیز کے بعد سے مسلسل مضبوط کاروبار برقرار رکھا ہے۔ فلم نے پہلے ویک اینڈ میں ہی شمالی امریکہ میں تقریباً ۱۲۴؍ ملین ڈالرس کمائے تھے، جو کرسٹوفر نولن کی فلموں کیلئے ایک ریکارڈ اوپننگ تھی۔ فلم کی خاص بات اس کا لمبا رن ٹائم، آر ریٹنگ اور بڑے پیمانے پر آئی میکس پریزنٹیشن کے باوجود عالمی ناظرین کو سنیما گھروں تک کھینچنا ہے۔ تازہ ترین اعداد کے مطابق فلم کی عالمی کمائی اب ۲ء۱؍ ارب ڈالرس سے اوپر ہے۔ شمالی امریکہ میں بھی فلم نے ۵۰۰؍ ملین ڈالر کا ہندسہ عبور کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سپر جائنٹس نے اپنا پہلا مینز ہنڈرڈ خطاب جیت لیا
’’دی اوڈیسی ‘‘(The Odyssey)کو امریکہ میں آر ریٹنگ دی گئی ہے۔ یہ درجہ بندی اسے عام فیملی آڈینس والی بلاک بسٹر فلموں سے مختلف بناتی ہے۔ اس کے باوجود فلم نے ایک ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کرکے پہلے ہی آر ریٹڈ فلموں کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ فلم اب سب سے زیادہ کمائی کرنے والی آر ریٹڈ فلم بننے کے لیے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ یہ کامیابی اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کیونکہ آر ریٹڈ فلموں میں عام طور پر ناظرین کی عمر سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے عالمی باکس آفس کی ممکنہ مارکیٹ محدود ہوجاتی ہے۔
’’دی اوڈیسی ‘‘ کی کامیابی نے کرسٹوفر نولن کو بھی باکس آفس کے لحاظ سے ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ فلم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے بعد نولن کی تیسری ارب ڈالر کمانے والی فلم بن چکی ہے۔ اس سے پہلے ’’دی ڈارک نائٹ رائزیز‘‘ اور’’اوپن ہائمر‘‘ سمیت ان کی فلموں نے بھی غیر معمولی عالمی کاروبارکیا ہے جبکہ ’’دی اوڈیسی ‘‘ اب ان کے کریئر کی سب سے بڑی کامیاب فلموں میں شامل ہوچکی ہے۔
فلم یونانی شاعر ہومر کی مشہور قدیم رزمیہ داستان دی اوڈیسی پر مبنی ہے، جس میں ٹروجن جنگ کے بعد اوڈیسیئس کے اپنے گھر واپسی کے طویل اور خطرناک سفر کو دکھایا گیا ہے۔ ’’دی اوڈیسی‘‘ کا مبینہ بجٹ تقریباً ۲۵۰؍ ملین ڈالرس ہے، جس کی وجہ سے یہ نولن کے کریئر کی مہنگی ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فلم کو مکمل طور پرآئی میکس ۷۰؍ ایم ایم فلم کیمروں پر شوٹ کیا گیا، جس نے اس کے بڑے پیمانے کے سنیما تجربے کو مزید نمایاں کردیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’ڈان ۳‘‘ تنازع: رنویر سنگھ کے والد فلم پروڈیوسرز کی تنظیم سے ملاقات پر رضامند
فلم کے لیے چین کی مارکیٹ بھی اہم رہی ہے۔ ہالی ووڈ فلموں کے لیے چینی مارکیٹ میں موجودہ حالات نسبتاً مشکل ہیں، لیکن نولن کی مقبولیت کی وجہ سے’’دی اوڈیسی‘‘ نے بہتر کارکردگی کی توقع کی گئی تھی۔ فلم کی بیجنگ پریمیئر تقریب میں بھی مثبت ردعمل دیکھنے کو ملا۔