Updated: August 17, 2026, 7:03 PM IST
| Bengaluru
کرناٹک حکومت نے دیہی سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم میں مواقع فراہم کرنے کیلئے۷ء۵؍ فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے میڈیکل و انجینئرنگ کے ساتھ اسکولوں میں اے آئی اور کوڈنگ کی تعلیم متعارف کرانے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق چھٹی جماعت سے اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرائی جائے گی۔ تصویر: آئی این این
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سنیچرکو دیہی سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لیے پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم، بشمول میڈیکل اور انجینئرنگ کے کورسیز میں ۷ء۵؍ فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انہوں نے بنگلورو کے فیلڈ مارشل مانیک شا پریڈ گراؤنڈ میں یومِ آزادی کی تقریر کے دوران کیا۔ حکومت ریزرویشن کی سہولت کے ساتھ دیہی طلبہ کیلئے ’سہایا-ہستا، ہوسا-ہستا‘ اسکیم(Sahaya-Hasta, Hosa-Hasta scheme) بھی نافذ کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کیلئے پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، اعلان میں اہلیت کے معیار، داخلے کے طریقۂ کار یا ریزرویشن کب سے نافذ ہوگا، اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے خود فرقہ پرست اور دہشت گرد ہیں‘‘
یہ اعلان تعلیم اور ٹیکنالوجی پر مرکوز اقدامات کے ایک وسیع سلسلے کے ساتھ کیا گیا ہے۔ شیوکمار نے ’اے آئی اکشرا ابھیان‘ اور ’کوڈنگ گُرکُلا‘ پروگرام کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت چھٹی جماعت سے اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرائی جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو مصنوعی ذہانت اور کوڈنگ کی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیدا ہونے والے نئے مواقع کیلئے تیار کرنا ہے۔ شیوکمار نے اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اب ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے اے آئی اور کوڈنگ پروگراموں کو کرناٹک کے طلبہ کیلئے ایک نئے مرحلے کا حصہ قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق حکومت بنگلورو میں ہندوستان کی پہلی سرکاری ملکیت والی اے آئی یونیورسٹی قائم کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ان اقدامات کو اسکولوں اور کالجوں کے معیار کو بہتر بنانے پر ریاست کی وسیع تر توجہ سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام میں اصلاحات کیلئے تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ دیہی تعلیم سے متعلق اقدامات نوجوانوں، تعلیم اور روزگار پر مرکوز اعلانات کے ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہیں۔ شیوکمار نے کہا کہ حکومت چھ ماہ کے اندر تقریباً۷۲؍ ہزار سرکاری اسامیوں کو پُر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ نجی شعبے میں ملازمت کے خواہش مند افراد کیلئے’اُدیّوگ سیتو‘ متعارف کرایا جائے گا اور ’اُدیّوگ ندھی‘ اقدام کو جاری رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں کے شہیدوں اور مجاہدین آزادی کے ناموں اور کارناموں پرمشتمل نمائش
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک کا وسیع تر وژن نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی تعمیر پر مرکوز ہے۔ ریاست نے ۲۰۴۷ءتک اپنی معیشت کو۳؍ ٹریلین امریکی ڈالر، یعنی تقریباً۳۲۰؍لاکھ کروڑ روپے، تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دیہی سرکاری اسکولوں کے طلبہ کیلئے مجوزہ۷ء۵؍فیصد ریزرویشن سے میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے پیشہ ورانہ کورسیز میں داخلے کیلئے ایک الگ راستہ فراہم ہوسکتا ہے۔ کوٹے سے متعلق مزید تفصیلات، بشمول اس کے نفاذ اور داخلے کے قواعد، سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ یہ سہولت عملی طور پر کس طرح نافذ ہوگی۔