• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’خَطروں کے کھلاڑی ۱۵‘‘ سے جلد باہر ہونے کا درد اب بھی دل میں ہے: اویکا گور

Updated: August 30, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai

اداکارہ اویکا گور نے ’’خَطروں کے کھلاڑی ۱۵‘‘ سے اپنے ایلیمینیشن کے بعد پہلی مرتبہ اپنے تجربے اور جذبات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ شو سے اتنی جلدی باہر ہونا ان کے لیے آسان نہیں رہا۔ اویکا نے کہا کہ ایلیمینیشن کے بعد جب وہ گھر بیٹھ کر شو دیکھتی ہیں تو ان کے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ اگر وہ اس وقت وہاں موجود ہوتیں تو شاید اس سے بہتر کارکردگی دکھا سکتی تھیں۔

Avika Gor.Photo:INN
اویکاگور۔ تصویر:آئی این این

اداکارہ اویکا گور نے ’’خَطروں کے کھلاڑی ۱۵‘‘ سے اپنے ایلیمینیشن کے بعد پہلی مرتبہ اپنے تجربے اور جذبات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ شو سے اتنی جلدی باہر ہونا ان کے لیے آسان نہیں رہا۔ اویکا نے کہا کہ ایلیمینیشن کے بعد جب وہ گھر بیٹھ کر شو دیکھتی ہیں تو ان کے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ اگر وہ اس وقت وہاں موجود ہوتیں تو شاید اس سے بہتر کارکردگی دکھا سکتی تھیں۔ تاہم، بعد میں انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ٹی وی پر بیٹھ کر کسی اسٹنٹ کو دیکھنا اور خود خوف، دباؤ اور ایڈرینالین کے درمیان اسے انجام دینا بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
اویکا گور نے انسٹاگرام پر ایک طویل نوٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ’’خَطروں کے کھلاڑی‘‘ نے ان کی زندگی اور خود کو دیکھنے کے انداز پر گہرا اثر ڈالا ہے۔انہوں نے لکھا کہ شو دیکھنے کے بعد انہیں اپنے بارے میں ایک بات محسوس ہوئی۔ وہ خود کو یہ سوچتے ہوئے پاتی ہیں کہ اگر وہ وہاں موجود ہوتیں تو انہوں نے ہار نہیں مانی ہوتی، مزید کوشش کی ہوتی اور بہتر کارکردگی دکھائی ہوتی۔ اویکا نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شو کو آرام سے صوفے پر بیٹھ کر دیکھتے ہوئے انہیں ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے وہ ’’خَطروں کے کھلاڑی‘‘ کی ماہر بن گئی ہوں۔ لیکن پھر انہیں یاد آتا ہے کہ وہ اپنی آرام دہ زندگی میں بیٹھ کر شو دیکھ رہی ہیں، جہاں نہ اس وقت کا دباؤ ہے اور نہ ہی اسٹنٹ کرنے کا خوف۔ ان کے مطابق باہر بیٹھ کر کسی صورتِ حال کا ہیرو بننا بہت آسان ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:طالبان، کابل میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا خواہاں

اویکا نے کہا کہ جب کوئی چیز ہمارے لیے بہت اہم ہوتی ہے تو ہم اسے بار بار اپنے ذہن میں دُہراتے ہیں، مختلف فیصلوں کا تصور کرتے ہیں اور کہانی کا ایسا ورژن بنا لیتے ہیں جو حقیقت میں کبھی ہوا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید اسی وجہ سے اتنی جلدی ایلیمینیٹ ہونا ان کے لیے مکمل طور پر بھلا پانا مشکل رہا ہے۔
اویکا کے مطابق، ان کے اندر اب بھی کہیں نہ کہیں وہ لڑکی موجود ہے جو سوچتی ہے کہ اس کے پاس شو میں دینے کے لیے بہت کچھ تھا۔ شاید واقعی تھا بھی، لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مسلسل اسی سوچ میں رہنا درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ماننا الگ بات ہے کہ آپ میں مزید بہتر کرنے کی صلاحیت تھی، جبکہ ہر وقت اسی دنیا میں رہنا بالکل مختلف بات ہے۔
 اویکا نے بتایا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ شو میں حصہ لیا تو وہ صرف ۲۱؍ سال  کی تھیں۔ اس وقت ’’خَطروں کے کھلاڑی‘‘ نے انہیں خود کو اور اپنے مستقبل کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے میں مدد دی۔وہ خوف کا سامنا کرنے اور مشکل اسٹنٹس کرنے کے ارادے سے شو میں گئی تھیں، لیکن وہاں سے واپس آنے کے بعد انہیں اپنے بارے میں بہت سی نئی باتیں سمجھ آئیں۔ اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ محنت، تیاری، خود کو آگے بڑھانے اور اپنی پسند کی زندگی بنانے پر یقین کیا ہے۔ اسی لیے ایسی چیز کو قبول کرنا جو مکمل طور پر ان کے اختیار سے باہر ہو، ان کے لیے مشکل اور دل توڑنے والا تجربہ رہا۔

یہ بھی پڑھئے:ششی کپور کا شمار اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہالی ووڈ میں بھی اپنی پہچان بنائی

انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ انسان کسی چیز کے لیے اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود نتیجہ ویسا نہیں ملتا جیسا اس نے تصور کیا ہوتا ہے۔ اویکا کے مطابق کلوزر کا مطلب یہ طے کرنا نہیں کہ آپ شو میں رہنے کے قابل تھیں یا آپ بہتر کارکردگی دکھا سکتی تھیں۔ اصل کلوزر یہ قبول کرنا ہے کہ کہانی اس انداز میں ختم نہیں ہوئی جس طرح ہم نے اسے اپنے ذہن میں لکھا تھا۔ واضح رہے کہ ’’خَطروں کے کھلاڑی ۱۵‘‘ میں اویکا گور کا سفر  دوسرے ہفتے  میں ہی ختم ہوگیا تھا۔ ایلیمینیشن اسٹنٹ میں ان کا مقابلہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اورہان اوترامانی عرف اوڑی  سے ہوا تھا۔ اوڑی نے یہ اسٹنٹ تقریباً ۱۰؍ منٹ  میں مکمل کیا، جبکہ اویکا کو اسے مکمل کرنے میں ۱۳؍منٹ سے زیادہ  وقت لگا۔ اسی کارکردگی کے بعد ان کا شو میں سفر ختم ہوگیا۔ اویکا کی حالیہ گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ ایلیمینیشن سے مایوس ہوئی تھیں، لیکن اب وہ اس تجربے کو اپنی زندگی اور شخصیت کو بہتر طور پر سمجھنے کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK