انہیں نوئیڈا کے صنعتی ملازمین کے احتجاج میں فساد کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 9:07 AM IST | Agency | Noida
انہیں نوئیڈا کے صنعتی ملازمین کے احتجاج میں فساد کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
آکرتی چودھری قانون کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن کیا۔ اپریل ۲۰۲۶ء میں جب نوئیڈا کے صنعتی ملازمین اجرت میں اضافے کیلئے پرامن احتجاج کر رہے تھے، جو بعد میں پرتشدد ہوگیا تھا، تب آکرتی اور دیگر کو فساد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان پر این ایس اے لگا دیا گیا۔ ۱۳؍ مئی کو آکرتی چودھری کے ساتھ ہی صحافی اور سماجی رضاکار ستیم ورما پر بھی این ایس اے لگایا گیا تھا۔ یہ دونوں، ان متعدد سماجی رضاکاروں میں شامل تھے جنہیں ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ آکرتی تب سے اب تک جیل میں تھیں۔ ۱۲؍ اپریل کو گرفتاری کے بعد ان کا نام ۱۱؍ ایف آئی آر میں درج کیا گیا تھا۔ ان پر این ایس اے ایک ماہ بعد لگایا گیا۔ پولیس، عدالت میں آکرتی کیخلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔ واضح رہے کہ صنعتی ملازمین کا مذکورہ احتجاج ۸۰؍ الگ الگ مقامات پر ہوا تھا جس میں کم و بیش ۴۰؍ ہزار ملازمین نے حصہ لیا تھا۔
گزشتہ بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے آکرتی کے خلاف لگائے گئے این ایس اے کو منسوخ کردیا۔ فیصلہ سناتے وقت جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو نے ضلع کلکٹر سے لے کر ’’ایس ایچ او‘‘ تک کی تنخواہوں میں سے پیسے کاٹ کر ۵؍ لاکھ روپے آکرتی کو دینے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ عدالت نے اُس ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) میدھا روپم کو بھی ہدف بنایا جنہوں نے آکرتی کی حراست کے آرڈر پر دستخط کئے۔ میدھا روپم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی صاحبزادی اور نوئیڈا کی پہلی خاتون ضلع مجسٹریٹ ہیں۔ ان کے شوہر منیش بنسل بھی آئی اے ایس افسر ہیں۔ فاضل ججوں نے کہا کہ گرفتار شدگان کے خلاف پولیس کی رپورٹ الزامات سے بھری پڑی تھی اور شواہد کے نام پر اس میں کچھ نہیں ہے۔ ایسے میں ڈی ایم کو چاہئے تھا کہ وہ، این ایس اے جیسا سخت قانون عائد کرنے سے پہلے رپورٹ کا باریکی سے جائزہ لینے کے بعد ہی آرڈر پاس کرتیں۔ عدالت کے بقول: جو واقعات رونما ہوئے ان سے ایسا لگتا ہے کہ ڈی ایم میدھا روپم، آکرتی چودھری کو مثال بنا کر پیش کرنا چاہتی تھیں تاکہ دیگر رضاکاروں کو بھی ان کے اظہار رائے کے حق سے روکا جائے۔