حکمران نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ٹیزر کو ’فضول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نازی پروپیگنڈا کرنے والے گوئبلز کو بھی شرمندہ کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: June 28, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai
حکمران نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ٹیزر کو ’فضول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نازی پروپیگنڈا کرنے والے گوئبلز کو بھی شرمندہ کرتا ہے۔
اجے دیوگن کی آنے والی فلم ’’چوہان‘‘ کے ٹیزر نے کشمیر میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے کیونکہ ناقدین کے مطابق اس میں ان سیکڑوں مظاہرین کا مذاق اڑایا گیا ہے جو سیکوریٹی فورسیزکی پیلٹ گنوں سے بینائی سے محروم ہوئے تھے۔ اس واقعہ کو جدید تاریخ میں اجتماعی طور پر لوگوں کی بینائی چھن جانے کے بڑے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوٹیوب انڈیا: کیری میناٹی سب سے آگے، عالمی دوڑ میں ہندوستانی کریئیٹرز کہاں ہیں؟
فلم ’’چوہان‘‘ کا ۱۴۴؍ سیکنڈ کا پروموشنل ویڈیو، جو اگلے سال یکم اکتوبر کو ریلیز ہونے والی ہے، یہ تاثر دیتا ہے کہ پیلٹ گنیں، آنسو گیس اور واٹر کینن کی طرح، صرف محدود نقصان پہنچاتی ہیں اور کشمیر میں پتھراؤ کرنے والوں سے نمٹنے کا ایک عارضی حل ہیں۔ اس بیان نے کشمیر میں شدید دکھ اور غصے کو جنم دیا، جہاں صرف۲۰۱۶ء سے ۲۰۱۸ء کے درمیان تقریباً ۱۵۰۰؍ بالغ افراد اور بچے ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے۔
ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک صارف نے ۱۸؍ ماہ کی حبا نثارکا ویڈیو شیئر کیا، جو ۲۰۱۸ء میں اپنے گھر کے اندر آنکھ میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئی تھی، جب باہر مظاہرین اور سیکوریٹی فورسیز کے درمیان جھڑپ جاری تھی۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا’’یہ ہے حبا، کشمیر کی سب سے کم عمر پیلٹ متاثرہ بچی۔ اگر یہ منظر آپ کو متاثر نہیں کرتا تو آپ بے حس ہیں۔ یہی ہے کہ بالی ووڈ کس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپاتا ہے۔‘‘
دونوں آنکھوں کی بینائی کھونے والوں میں اس وقت کی ۱۴؍ سالہ انشاء مشتاق بھی شامل تھیں، جنہوں نے بعد میں تمام مشکلات کے باوجود بارہویں جماعت کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔مرکزی حکومت نے ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنیں متعارف کروائیں، جنہیں غیر مہلک ہتھیار قرار دیا گیا تھا۔ تاہم جولائی ۲۰۱۶ء میں نوجوان عسکریت پسند برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، جس کے بعد ان کا استعمال بہت بڑھ گیا۔
۲۰۱۶ء سے۲۰۱۸ء کے درمیان پیلیٹ گنوں سے بینائی سے محروم ہونے والوں کی مجموعی تعداد ۱۴۵۹؍ بتائی جاتی ہے، جبکہ ۲۰۱۹ء کے سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ اگست ۲۰۱۹ء میں آرٹیکل ۳۷۰؍ کی منسوخی سے قبل اسپتالوں نے ایسے اعداد و شمار جاری کرنا بند کر دیے تھے۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کے بعد ۲۰۱۹ء میں حکومت نے پیلٹ گنوں کے استعمال کو محدود کر دیا۔
ویڈیو میں اجے دیوگن کی آواز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ۷۵؍برسوں میں جموں و کشمیر میں ۱۵؍ لاکھ فوجی تعینات کیے گئے، ۳۵؍ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی، مگر پتھراؤ کرنے والوں کے پتھروں کا کوئی جواب نہ مل سکا۔ اس کے بعد آواز آتی ہے: ۷۵؍ سال بعد جواب آ رہا ہے۔ پٹھانوں سے کہہ دو، چوہان آ رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پوری وادی کو پٹھان کہہ کر تمام مسلمانوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جبکہ چوہان (ایک راجپوت کردار) کو حتمی حل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔کچھ مبصرین نے اس کا تعلق شاہ رخ خان کی کامیاب فلم ’’پٹھان‘‘ سے بھی جوڑا ہے، جس میں پٹھان کردار کو مثبت انداز میں دکھایا گیا تھا۔برطانوی اخباردی گارجین نے ۲۰۱۶ء میں لکھا تھا کہ کشمیر شاید دنیا کی پہلی ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کی بینائی چھین لی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:دل تو پاگل ہے: کرشمہ والا کردار جوہی، کاجول، اُرمیلا، منیشا مسترد کرچکی تھیں
برطانیہ میں مقیم کشمیری مصنف اور صحافی مرزا وحید نے ہفتے کے روز ایکس پر لکھا ’’ایک ہندوستانی فلم کمپنی نے ایسی فلم کا اعلان کیا ہے جو ۲۰۱۶ء میں پیلٹ گنوں سے نابینا ہونے والے کشمیری نوجوانوں کا مذاق اڑاتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا ’’میں نے اس وقت اس موضوع پر ایک طویل مضمون لکھا تھا، اگر نفرت پر مبنی سنیما کے اس دور میں لوگ اب بھی تفصیلی مضامین پڑھتے ہوں۔‘‘
انہوں نے اپنے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ’’چار اور پانچ سال کے بچے بھی ایسے تھے جن کی آنکھوں کے پردوں میں کئی کئی پیلٹ پیوست ہو گئے، جس سے وہ جزوی یا مکمل طور پر عمر بھر کے لیے نابینا ہو گئے۔ ستمبر ۲۰۱۶ء کے آغاز تک کشمیر کے مرکزی اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ ۹؍ جولائی سے اوسطاً ہر دوسرے گھنٹے میں ایک شخص کی آنکھ پیلٹ لگنے سے پھٹ رہی تھی۔‘‘ انہوں نے ایک ڈاکٹر کا حوالہ بھی نقل کیا’’اس کا مطلب ہے روزانہ ۱۲؍ آنکھوں کے آپریشن۔ یہ انتہائی خوفناک ہے۔‘‘