Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوگل نے میٹا کو بڑا جھٹکا دے دیا، جیمنائی اے آئی کے استعمال پر نئی پابندیاں

Updated: June 28, 2026, 8:04 PM IST | New York

میٹا نے گوگل سے اپنی مصنوعی ذہانت منصوبوں کے لیے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی درخواست کی تھی، تاہم گوگل اس طلب کو مکمل طور پر پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

Meta.Photo:INN
میٹا۔ تصویر:آئی این این

گوگل نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کی جانب سے اپنے اے آئی ماڈلز کے استعمال پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔رپورٹ کے مطابق میٹا نے گوگل سے اپنی مصنوعی ذہانت منصوبوں کے لیے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی درخواست کی تھی، تاہم گوگل اس طلب کو مکمل طور پر پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے رواں سال مارچ میں میٹا کو آگاہ کیا تھا کہ وہ مطلوبہ سطح پر جیمنائی اے آئی ماڈلز کی کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کمی کے باعث میٹا کے کئی اندرونی اے آئی منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ:ڈی آر کانگو نے ازبکستان کو شکست دے کر شاندار واپسی کی


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گوگل کے دیگر صارفین بھی کمپیوٹنگ وسائل کی محدود دستیابی سے متاثر ہوئے، تاہم سب سے زیادہ اثر میٹا پر پڑا کیونکہ اس کی جانب سے اے آئی ماڈلز کے استعمال کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔ ذرائع کے مطابق ان پابندیوں کے بعد میٹا نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے آئی ٹوکنز کا زیادہ محتاط اور مؤثر استعمال کریں۔ اے آئی ٹوکنز وہ یونٹس ہوتے ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کی مقدار ناپی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:گیلکسی سلمان خان کے مداحوں کے لیے ایک مقدس مقام بن چکا تھا


ادھر گوگل اور میٹا نے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا جبکہ خبر رساں ادارہ روئٹرس بھی اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اربوں ڈالرس کے نئے ڈیٹا سینٹرز اور جدید چپس پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے مطلوبہ کمپیوٹنگ صلاحیت اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق گوگل کلاؤڈ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم کمپنی کے سی ای او سندر پچائی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ کمپیوٹنگ وسائل کی کمی کے باعث مزید ترقی کے مواقع متاثر ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK