Updated: June 28, 2026, 6:01 PM IST
| Hyderabad
تلنگانہ کے ایک اسکول میں اردو کلاس چلانے پر پرنسپل کے ساتھ بی جے پی کارکنوںنے زیادتی کی ، پولیس نے اسکول کے کارنسپانڈنٹ، پرنسپل اور اردو ٹیچر کے خلاف مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی بھڑکانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ، بی جے پی لیڈر بولو سمیت تقریباً۲۰؍ افراد پر اسکول میں غیر قانونی داخلے اور عملے کے ساتھ زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے آرموڑ میں واقع بھارت چندرا اسکول کے کارنسپانڈنٹ، پرنسپل اور اردو ٹیچر کے خلاف مذہبی دشمنی پھیلانے کا مقدمہ اس وقت درج کیا گیا جب بی جے پی کارکنان اور والدین اسکول میں داخل ہوئے اور اردو کی تعلیم کے دوران ہندو طلبہ کو کلمہ پڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ برپا کیا۔سیاست ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق، متعدد تنظیموں نے پیر۲۹؍ جون کو نظام آباد بند کا اعلان کیا ہے۔
ونڈولا بولو، جو بی جے پی کا آرموڑ صدر ہے، نے مبینہ طور پر پرنسپل عامر خان کو طمانچہ مارا اور تلخ کلامی کی۔ یہ واقعہ۲۷؍ جون کو آرموڑ کے نجی اسکول بھارت چندرا اسکول میں پیش آیا۔ آرموڑ ایس ایچ او پی ستیانارائن نے ٹی این ایم کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔پولیس نے بولو سمیت تقریباً۲۰؍ افراد کے خلاف غیر قانونی داخلے، دھمکیوں اور حملے کا مقدمہ درج کیا، جبکہ اسکول کارنسپانڈنٹ مالیا، پرنسپل عامر خان اور اردو ٹیچر حنا پر مذہبی گروہوں میں دشمنی بھڑکانے (بی این ایس سیکشن۱۹۶؍) کا الزام ہے۔عامر خان کے مطابق، داخلہ کے وقت کچھ مسلم والدین نے اسکول سے اپنے بچوں کو اردو پڑھانے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ’’میں نے کہا کہ میں انتظامیہ سے بات کروں گا اور وعدہ کیا کہ آئندہ تعلیمی سال سے اسے نافذ کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘عامر نے کہا کہ ’’جون میں جب داخلہ شروع ہوا تو کارنسپانڈنٹ مالیہ نے ایک ٹیچر مقرر کیا۔ انہوں نے مضمون طے کیا، میرا کام صرف ٹائم ٹیبل بنانا اور اسے نافذ کرنا تھا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ چند روز قبل کچھ ہندو والدین آئے اور پوچھا کہ وہ ان کے بچوں کو اردو کیوں پڑھا رہے ہیں۔ عامر خان نے کہا کہ ’’ایک والدین نے کہا کہ ان کے بچے نے بتایا کہ میں انہیں نماز پڑھانا سکھا رہا ہوں، انہوں نے مجھے گالیاں دیں اور پوچھا کہ کیا میں لو جہاد کر رہا ہوں۔‘‘عامر خان کے مطابق، ان کا ارادہ تھا کہ مسلم طلبہ کو اردو کلاس کے لیے الگ کریں، لیکن تعمیراتی کام کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اضافی کلاس روم نہ ہونے کی وجہ سے ٹیچر نے اردو اس وقت پڑھائی جب دوسرے بچے اسی کمرے میں تھے، اور ہندو بچوں نے وہ لکھ لیا۔ یہ ہماری غلطی کیسے ہوئی؟‘‘ بعد ازاں کلاس معطل کردی گئی۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ پھر یہ بی جے پی والے آئے اور ہنگامہ شروع کیا، اور پھر تشدد کا نشانہ بنایا۔عامر خان نے کہا کہ اردو ٹیچر جو تین چار روز قبل آئی تھیں، انہیں معلوم نہیں تھا کہ بچوں کو پڑھانے سے پہلے الگ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ’’ پولیس نے مجھے میرے اپنے دفتر میں فرش پر بٹھا دیا، مجھے ایک گھنٹے سے زیادہ وہیں بیٹھنا پڑا۔‘‘ان کے مطابق، بچوں کو صرف اردو کے حروف تہجی پڑھائے گئے اور کچھ نہیں۔ اس واقعہ کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سے وابستہ سوشل میڈیا ہینڈل محمد مبشر نے ایکس پر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور اسٹیٹ ڈی جی پی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، ’’آپ کے اہلکاروں نے ایک پرنسپل کے ساتھ مجرم جیسا سلوک کیا، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ہم خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بی جے پی کے غنڈوں اور آرموڑ پولیس اسٹیشن کے عملے کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ آپ اور آپ کی جماعت کو سیاسی طور پر مہنگا پڑے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون، یو سی سی کے نفاذ کا اعلان، ان میں کیا ہے؟
اس کے علاوہ مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے ایکس پر لکھا، ’’تلنگانہ آہستہ آہستہ کانگریس حکومت کی نگرانی میں آر ایس ایس کی لیبارٹری بن رہا ہے۔ آرموڑ، ضلع نظام آباد کے بھارت چندرا ہائی اسکول میں ایک اردو ٹیچر پر مبینہ آر ایس ایس/بی جے پی کارکنان کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔امجد اللہ خان نے یہ بھی کہا کہ سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ حملہ مبینہ طور پر آرموڑ ٹاؤن کے انسپکٹر اور سب انسپکٹر کی موجودگی میں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’جب سے پی سائی چیتنیا آئی پی ایس نے نظام آباد کے پولیس کمشنر کا عہدہ سنبھالا ہے، اقلیتی برادری کے افراد پر بار بار حملے ہو رہے ہیں جبکہ پولیس انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘‘