نتیش تیواری کی فلم ’’رامائن ‘‘ کے وی ایف ایکس کے بارے میں جاری تنقید کے درمیان، رتیک روشن نے تفصیلی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے فلم کی حمایت ظاہر کی ہے۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 10:12 PM IST | Mumbai
نتیش تیواری کی فلم ’’رامائن ‘‘ کے وی ایف ایکس کے بارے میں جاری تنقید کے درمیان، رتیک روشن نے تفصیلی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے فلم کی حمایت ظاہر کی ہے۔
رامائن کے فلمسازوں نے ۲؍ اپریل کو رنبیر کپور کو بطوررام پیش کرتے ہوئے پہلا ٹیزر جاری کیاجبکہ کئی لوگوں نے ٹیزر میں اداکار کی شائستہ شکل کی تعریف کی، کچھ لوگ بصری اثرات (وی ایف ایکس) سے ناخوش تھے اور وی ایف ایکس کا موازنہ ’’ویڈیو گیم‘‘ سے کیا۔ یہ ایک بڑے بجٹ کا پروجیکٹ ہے، جس میں اسٹار اسٹڈڈ کاسٹ شامل ہے اوریہ فلم کو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ جاری تنقید کے دوران، رتیک روشن نے نیتیش تیواری کے اس سب سے بڑی کوشش کی حمایت کی اور ایک تفصیلی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے کی۔
سیاق و سباق اہم ہے
تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے اداکار نے تسلیم کیا کہ ’’خراب وی ایف ایکس موجود ہے، اور اسے دیکھنا تکلیف دہ ہے۔‘‘ تاہم، ہر تنقید فلم کے مقصد کو سمجھ کر نہیں کی جاتی۔ اپنی ابتدائی دلچسپی اور خاص طور پربیک ٹو دی فیوچر دیکھنے کے بعد، انہوں نے کہا کہ ’’ میں اپنے والد کے وی ایچ ایس پلیئر کے ساتھ بیٹھ کر فریمز کو اسٹڈی کرتا، پاوز پلے، پاوز پلے کرتا رہتاہوں یہاں تک کہ پلیئر خراب ہو جاتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:لیزا مشرا نے۲۰۲۲ء میں ۶؍ ماہ تک آواز گنوا دینے کا انکشاف کیا
انہوں نے زور دیا کہ ’’کالکی، باہوبلی، رامائن جیسے پروجیکٹس کے فلم سازوں میں ہمت اور وژن ہے کہ وہ وہ کریں جو پہلے کبھی نہیں ہوا، تاکہ ناظرین ایسا کچھ دیکھ سکیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا،اور صرف اس نیت کے لیے ہی ’’تعریف کی جانی چاہیے!‘‘
یہ بھی پڑھئے:مصر کی ۱۸؍سالہ حنا گودا کی تاریخ ساز کارکردگی،افریقہ کے لیے تاریخ رقم
مختلف انداز، مختلف توقعات
رتیک روشن نے بتایا کہ وی ایف ایکس ایک یکساں معیار کی چیز نہیں ہے۔ ان کے مطابق وی ایف ایکس بھاری فلموں کو زندہ کرنے کے لیے ہزاروں فنکار دن رات برسوں کام کرتے ہیں، تو کم از کم یہ ہے کہ ہم انہیں بہتر آگاہی کے ساتھ سمجھیں!‘‘ انہوں نے کہا کہ خراب وی ایف ایکس تب ہوتا ہے جب فلم حقیقت پسندی (photorealism) کے لیے بنائی گئی ہو اور فزکس اور تفصیل میں مستقل مزاجی برقرار نہ ہو، جبکہ ایک اسٹائلائزڈ یا’’کہانی نما‘‘ (storybook) انداز کو اس کی فنکارانہ کشش کے اعتبار سے پرکھنا چاہیے، نہ کہ حقیقت پسندی کے لحاظ سے اورآپ فلمساز پر تنقید نہیں کر سکتے صرف اس لیے کہ اس نے ایک انداز چنا جبکہ آپ کو دوسرا پسند ہے۔ یہ منصفانہ نہیں۔‘‘‘