امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران پر حملے روک سکتا ہے اور اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، جس نے توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 1:07 PM IST | New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران پر حملے روک سکتا ہے اور اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، جس نے توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران پر حملے روک سکتا ہے اور اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، جس نے توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو الجزیرہ کو بتایا کہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ پیغامات کے تبادلے کے باوجود کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملے شروع کیے تقریباً پانچ ہفتے ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ، جو اس سے پہلے دعویٰ کر چکے تھے کہ ایران مذاکرات میں شامل ہے اور معاہدے کے لیے ’’منتیں‘‘ کر رہا ہے، منگل کو اس مبینہ سفارتی کوشش کے بارے میں اپنے مؤقف میں تبدیلی دکھائی دی۔ انہوں نے کہا’’ایران کو معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، نہیں۔‘‘ جب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا کامیاب سفارتکاری امریکہ کے لیے تنازع ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ’’بہت جلد نکل جائے گا… شاید دو ہفتے، شاید تین۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’جب ہمیں محسوس ہوگا کہ انہیں ایک طویل عرصے کے لیے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیا ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہیں گے، تب ہم نکل جائیں گے۔‘‘ایران ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں پُرامن ہیں اور اس نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے:ایران جنگ:کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں۵ء۱۹۵؍ روپے کا اضافہ
ایران سے متعلق خارجہ پالیسی کے ماہر ٹریٹا پارسی، جو کوئنسی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیں، نے الجزیرہ کو بتایا کہ ٹرمپ کے بیانات کو احتیاط سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا کہ ٹرمپ اس تنازع سے اچانک نکل جائیں جو پورے خطے میں پھیل چکا ہے اور ہزاروں افراد کی جان لے چکا ہے زیادہ تر ایران اور لبنان میں، جہاں اسرائیل نے فضائی حملوں کے ساتھ زمینی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے جن میں بہت سے شہری بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا روہت شیٹی کی نجی گاڑیوں پر ’پولیس‘ کے ٹیگ اور لائٹس غیر قانونی ہیں
پارسی نے کہاکہ یاد رکھیں، شروع میں کہا گیا تھا کہ یہ جنگ چار دن میں ختم ہو جائے گی۔ پھر تین ہفتے پہلے کہا گیا کہ اس میں تین ہفتے لگیں گے۔ تین ہفتے گزر چکے ہیں، اور اب ہم سن رہے ہیں کہ یہ دو سے تین ہفتے لگیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹائم لائن مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ آخرکار امریکہ اب اس جنگ پر قابو میں نہیں رہا جو اب ایک ’’ناکامی‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔