• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ وینزویلا تنازع: چین کا امریکہ سے صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ

Updated: January 04, 2026, 3:20 PM IST | Washington

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے

Chinese President with Venezuelan President. Photo: INN
چین کے صدر وینزویلا کے صدر کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

وینزویلا بحران پر چین کا سخت ردِعمل، امریکہ سے صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ

چین نے امریکہ سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس اقدام پر چین شدید تشویش میں ہے۔ وزارت خارجہ نے زور دیا کہ امریکہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی کو یقینی بنائے اور انہیں فوراً رہا کرے۔ چین نے یہ بھی کہا کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں بند کرے اور تمام مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔ 
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر نیو یارک منتقل کر دیا۔ چین نے اس کارروائی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے میں امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ 

ممدانی نے ٹرمپ کو وینزویلا میں امریکی ’ایکٹ آف وار‘کی مخالفت کرنے پر فون کیا

ظہران ممدانی۔ تصویر: آئی این این

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی راتوں رات کارروائی میں گرفتاری کے بعد وینزویلا میں جسے وہ ’’حکومت کی تبدیلی کےتعاقب کی کوشش‘‘ قرار دیتے ہیں، اس کی مخالفت کیلئےصدر ڈونالڈ ٹرمپ کو’’براہِ راست‘‘ فون کیا۔ ممدانی نے سنیچرکو ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا، ’’میں نے صدر کو فون کیا اور براہِ راست بات کر کے اس اقدام کے خلاف اپنی مخالفت ریکارڈ کرائی۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ ان کا اعتراض ’’حکومت کی تبدیلی‘‘ کے خلاف ہے اور ایسے اقدامات پر مبنی ہے جنہیں وہ وفاقی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، جن پر ہر حال میں یکساں طور پر عمل ہونا چاہئے۔ اس سے قبل دن میں ممدانی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ گرفتار ہوئے، کو’’جنگی اقدام‘‘ اور ’’رجیم چینج کی کھلی کوشش ‘‘قرار دیا تھا۔ 
ایکس پر جاری ایک بیان میں ممدانی نے کہا کہ انہیں امریکی کارروائی اور مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو نیویارک سٹی میں وفاقی تحویل میں رکھنے کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔ میئر نے کہا’’کسی خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ جنگی اقدام ہے اور یہ وفاقی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ‘‘اور امریکی خارجہ پالیسی میں جسے انہوں نے خطرناک کشیدگی قرار دیا، اس سے خبردار کیا۔ ممدانی نے زور دیا کہ اس کارروائی کے نتائج صرف وینزویلا تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا براہِ راست اثر نیویارک میں رہنے والے دسیوں ہزار وینزویلین باشندوں پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میری توجہ ان کی اور ہر نیویارکر کی سلامتی پر ہے، ‘‘اور مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے گی اور ضرورت کے مطابق ہدایات جاری کرتی رہے گی۔ 

امریکہ وینزویلا تنازع: سیاسی تبدیلی تک امریکہ وینزویلا کوچلائے گا: ٹرمپ

ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

مہینوں کی دھمکیوں اور دباؤ کی حکمتِ عملی کے بعد، امریکہ نے وینزویلا پر بمباری کی اور اس کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے۔ مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک کے ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ مادورو سنیچر کی شام امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر پہنچے، جب انہیں کراکس میں امریکی افواج نے ’’گرفتار‘‘ کیا۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے مادورو کے’’اغوا‘‘ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ وہ ’’وینزویلا کے واحد صدر‘‘ ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا ملک وینزویلا کو اس وقت تک چلائے گا جب تک سیاسی انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو جائے۔ یہ بیان وینزویلا کے لیڈرنکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کرنے کیلئے کیے گئے غیر معمولی امریکی فوجی حملوں کے بعد دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے مختلف ممالک نے وینزویلا پر حملے کی مذمت کی

ٹرمپ نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’’ہم ملک کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ہم ایک محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ انتقالِ اقتدار نہ کر لیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی افواج حملوں کی دوسری، ’کہیں زیادہ بڑی‘ لہر کے لیے بھی تیار ہیں۔ امریکی حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں بلیک آؤٹ پیدا کیا تاکہ مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی انجام دی جا سکے۔ ٹرمپ نے اپنے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ہر طرف اندھیرا تھا۔ کراکس کی زیادہ تر روشنیاں بند کر دی گئی تھیں، ایک خاص مہارت کی بدولت جو ہمارے پاس ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’یہ امریکی تاریخ میں امریکی فوجی طاقت اور صلاحیت کا سب سے حیران کن، مؤثر اور طاقتور مظاہرہ تھا۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں امریکی فضائی، بری اور بحری افواج نے حصہ لیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا پر نیا وائرل رجحان: تصاویر سے نیتن یاہو کو ’’ہٹانے‘‘ کی مہم

ڈیلسی روڈریگز کون ہیں ؟
ڈیلسی روڈریگز، جو اَب وینزویلا کی عبوری صدر ہیں، طویل عرصے سے ملک کی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت رہی ہیں۔ وہ شہرِ کراکس کی رہائشی ہیں اور سینٹرل یونیورسٹی آف وینزویلا سے قانون کی ڈگری رکھتی ہیں۔ وہ نائب صدر اور وزیرِ خزانہ و تیل سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ روڈریگز چاوِزمُو کی ایک نمایاں لیڈر رہی ہیں، جو وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویز کی قائم کردہ سیاسی تحریک ہے اور جسے شاویز کی۲۰۱۳ء میں وفات کے بعد نکولس مادورو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے۲۰۱۳ء سے۲۰۱۴ء تک وزیرِ اطلاعات و ابلاغ کے طور پر خدمات انجام دیں، اس کے بعد ۲۰۱۴ءسے ۲۰۱۷ء تک وزیرِ خارجہ رہیں۔ 
۲۰۱۷ءمیں ڈیلسی روڈریگز آئین ساز قومی اسمبلی کی صدر بنیں۔ ۲۰۱۵ء کے پارلیمانی انتخابات میں اپوزیشن کی کامیابی کے بعد اس ادارے کے انتظامی اختیارات میں توسیع کی گئی۔ ۲۰۱۸ء میں مادورو نے انہیں اپنی دوسری مدتِ صدارت کیلئےنائب صدر مقرر کیا، اور وہ اس عہدے پر تیسری مدت کے آغاز تک برقرار رہیں، جو۱۰؍ جنوری کو شروع ہوئی، یہ مدت۲۸؍ جولائی۲۰۲۴ء کے متنازع انتخابات کے بعد شروع ہوئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK