• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی :نئے سال کے پہلے دن استنبول میں غزہ مارچ ، ۵؍لاکھ افراد کی شرکت

Updated: January 02, 2026, 2:07 PM IST | Agency | Istanbul

احتجاجی تقریب میں لبنانی-سویڈش گلوکار ماہر زین، ترک فنکار ایساط کابکلی اور بینڈ گروپ یورو یُوش بھی شامل ہوئے۔

A drone image of Istanbul shows protesters and Palestinian and Turkish flags on the Galata Bridge and Eminönü Square. Picture: INN
ڈرون سے لی گئی استنبول شہر کی تصویر میں گالاتا پل اور امینواسکوائر پر مظاہرین اورفلسطینی و ترکی پرچم دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
نئے سال کے پہلے دن اہل استنبول نے فلسطینیوں سے اظہار یگانگت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ دارالحکومت میں فلسطین کے حق میں زبردست ریلی نکالی گئی ۔ ٹی آر ٹی کی رپورٹ  کے مطابق بدھ کو ’غزہ مارچ‘ کے عنوان پر منعقدہ اس احتجاج میں تقریباً ۵؍لاکھ افراد نے شرکت کی ہے۔ترک فاؤنڈیشن (ٹی یو گی وی اے) کی قیادت اور ہیومینٹی الائنس اور نیشنل ول پلیٹ فارم کی معاونت سے منعقد کئے جانے والے اس احتجاجی مظاہرہ کو ۴۰۰؍ سے زائد شہری تنظیموں کی حمایت حاصل ہوئی۔ 
گالاتا پل احتجاج کا مرکزبنا
ترک خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس ریلی کیلئے یہ نعرہ دیا گیا: ’’ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے، ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے۔‘‘اس مظاہرے میں شرکاء کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ گالاتا پل اور آس پاس کی سڑکوں پر جدھر دیکھئے ، ادھر سروں کا ٹھاٹیں مارتا سمندر نظر آرہا تھا۔کئی گھنٹوں تک استنبول ، غزہ کی حمایت میں بلند ہونے والے نعروں سے گونجتا رہا۔ مظاہرین نے غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
مساجد میں دعائیں
ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق  اس ریلی سے قبل شہریوں نے شہر کی بڑی مساجد میں فجر کی نماز سے قبل اجتماع کیا، جن میں آیا صوفیہ جامع   مسجد کبیرہ ، سلطان احمد، فاتح، سلیمانیہ اور امین اونو  مسجد شامل تھیں۔ کئی افراد نے مساجد کے صحن میں جمع ہو کر ترکی اور فلسطینی پرچم اٹھائے اور فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔سرد موسم کے باوجود لوگوں کی ایک کثیر تعداد یکجا ہوئی۔ خاص طور پر سلطان احمد اسکوائر کے اطراف سخت سیکوریٹی انتظامات کیے گئے، جہاں شرکاء کو گرم مشروبات بھی فراہم کیے گئے۔ جمعرات کو نمازِفجر کے بعد مظاہرین پیدل گالاتا پل کی طرف مارچ کرتے ہوئے گئے، جن میں وزراء، اعلیٰ عہدیدار اور سرکاری پروٹوکول کی شخصیات بھی شامل تھیں۔ پروگرام باضابطہ طور پر مقامی وقت کے مطابق صبح۳۰:۸؍ بجے شروع ہوا۔ مرکزی پریس پلیٹ فارم کے پیچھے ایک عمارت پر مرحوم فلسطینی کارٹونسٹ ناجی العلیٰ کے تخلیق کردہ علامتی کردار’حنظلہ‘ کا ایک بڑا بینر آویزاں کیا گیا ، جسے فلسطینی تحریک کے ساتھ گہرا منسلک سمجھا جاتا ہے۔ تقریب میں بین الاقوامی شہرت یافتہ فنکاروں اور موسیقاروں کے مظاہرہ بھی شامل تھے ، جن میں لبنانی-سویڈش گلوکار ماہِر زین، ترک فنکار ایساط کابکلی اور بینڈ گروپ یورو یُوش شامل تھے۔
’’ہم اپنے شہداء کو یادکررہے ہیں‘‘
ریلی کے دوران پریس کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، علم یایما فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین اورٹی یو جی وی اے کے ہائی ایڈوائزری بورڈ کے رکن بلال اردگان نے کہا کہ نیا سال فلسطین کیلئے دعاؤں کے ساتھ شروع ہوا  ہےاور سال نو کی پہلی صبح مساجد میں جمع ہونا ایک مضبوط روحانی حیثیت کا حامل ہے۔ بلال اردگان نے کہا کہ فجر کے وقت مساجدمیں اجتماعی طور پر دعا کرنا اخلاقی اور روحانی طاقت کا اعتراف ہے، اور قوم اس یکجہتی پر گہرا ایمان رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: "ایک طرف ہم مظلوموں کے لیے، فلسطین کے لیے دعا کر رہے  ہیں تو دوسری طرف ہم بلاشبہ اپنے شہداء کو یاد کر رہے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ ۲۰۲۶ء پوری قوم اور مظلوم فلسطینی بھائی بہنوں کے لیے نیکی کا پیام لے کر آئے۔ ‘‘
’’باعزت قوم نسل کشی کے خلاف کھڑی ہے‘‘
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے’ٹی یو جی وی اے‘ کے  چیئرمین ابراہیم بیسنجی نے کہا کہ بڑی تعداد میں شرکت فلسطین میں جاری تشدد کے خلاف اجتماعی اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔ بیسنچی نے کہا: ’’آج یہاں لاکھوں لوگ موجود ہیں۔ ایک باعزت قوم اس نسل کشی کیخلاف کھڑی ہے۔ یہاں مظلومین کی دعائیں اور ہمارے شہداء  کی قربانیاں  شامل ہیں۔’’ گالاتا پل کو ’’ضمیر وں کے ترجمان ‘‘کے طور پر بیان کرتے ہوئے بیسنچی نے کہا کہ یہ مختلف شہروں، زبانوں اور طبقات کے لوگوں کیلئے ایک اخلاقی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا:’’اس عظیم ترجمان کےسچے اور بہادر فلسطینی عوام، غزہ کے شریف فرزند، مغربی کنارے کے ثابت قدم دل اور مشرقی القدس کے حقیقی مالکان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں  سے سلام بھیجتا ہوں۔‘‘ بیسنچی نے یالووا صوبے میں داعش کے خلاف ایک آپریشن کے دوران تین پولیس افسران الکر پہلوان، تُرگُت کولُنک اور یاسن کوچیغت کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو تین دن قبل شہید ہوئے تھے۔غزہ میں تباہی کے کے متعلق بیسنچی نے کہا کہ گزشتہ۲۷؍ ماہ کے دوران غزہ پر۲؍لاکھ ٹن بارود گرایا گیا، ۷۰؍ ہزار شہری ہلاک ہوئے،۲۶۰۰؍ خاندان آبادی کے اندراج سے مکمل طور پر حذف ہو گئے، اور۵؍ہزار خاندانوں کا صرف ایک رکن ہی زندہ بچا۔ ۴۵؍ہزار فلسطینیوں کے اعضا کاٹ دیے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK