• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہودی آباد کارمسجداقصیٰ میں گھسے، تلمودی رسوم ادا کی

Updated: February 27, 2026, 9:59 AM IST | Jerusalem

اہل قدس نے رباط کو تیز کرنے کی اپیل کی۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودیوں نےفلسطینیوں کے خیمے اور گاڑیاں جلا دیں۔

Jewish settlers perform Talmudic rituals in front of the Dome of the Rock in the courtyard of Al-Aqsa Mosque. Photo: INN
مسجد اقصیٰ کے صحن میں  قبۃ الصخرہ کے سامنے یہودی آباد کار تلمودی رسوم ادا کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کے نویں روز جمعرات کی صبح انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے گروہوں نے اسرائیلی افواج کی فول پروف سیکورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحن کی بے حرمتی کی۔ درجنوں آباد کار باب المغاربہ کے راستے مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور مسجدقبہ الصخرہ کے عین سامنے اعلانیہ طور پر اجتماعی طور پر تلمودی رسوم ادا کیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ سے بڑے پیمانے پر بے دخلی کی مہم شروع کر رکھی ہے جس کے تحت بیت المقدس کے درجنوں شہریوں اور صحافیوں کو بے دخل کرنے کے احکام جاری کیے گئے ہیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران نمازیوں سے مسجد خالی کرائی جا سکے۔ 
 اسرائیلی حکام نے رمضان المبارک کے دوران صبح کے وقت دراندازی کے دورانیے میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد یہ وقت صبح ساڑھے ۶؍ بجے سے ساڑھےگیارے بجےتک ہو گیا ہے، جبکہ عام دنوں میں یہ وقت صبح ۷؍ سے۱۱؍ بجے تک ہوتا تھا۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر فلسطینیوں اور اہل قدس کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران مسجدِ اقصی کی طرف رخت سفر باندھنے اور اس کے صحنوں میں رباط (پہرہ دینے) کو تیز کرنے کی اپیلیں مسلسل کی جا رہی ہیں تاکہ مسجد کی یہود کاری، اسے خالی کرنے اورفلسطینی ماحول سے اسے الگ تھلگ کرنے کی سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان اپیلوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ میں رباط ہی قابض دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا ہے اور مسجد میں پہرہ دینا عبادت بھی ہے اور ثابت قدمی بھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء میں ۶۵؍ ہزار سے زائد یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ میں جبراً داخل ہوئے: رپورٹ

رباط کی ان اپیلوں میں اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صرف نمازوں کے اوقات میں ہی نہیں بلکہ مسجد کے صحنوں میں مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے، اعتکاف کا اہتمام کیا جائے اور مسجد کے میدانوں میں اجتماعی افطاریوں میں بھرپور شرکت کی جائے تاکہ وہاں عرب اور اسلامی وجود کو مضبوط کیا جا سکے۔ 
مغربی کنارہ میں کیا ہورہا ہے؟
مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر مقیم یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے خیمے اور گاڑیاں جلا کر راکھ کر دیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں نقاب پوش افراد کا ایک گروہ دکھایا گیا جن کے بارے میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہودی آباد کار تھے۔ وہ ہیبرون شہر کے قریب واقع ایک گاؤں کی طرف بڑھے اور فلسطینیوں کی املاک کو جلایا۔ مقبوضہ مغرے کنارے کی رہائشی حلیمہ ابو عید نے بتایا کہ وہ تقریباً ہر روز ہم پر بار بار حملہ کرتے ہیں کیونکہ ہم مرکزی سڑک کے قریب رہتے ہیں۔ کل رات انہوں نے ہر جگہ آگ لگا دی۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے فلسطینی املاک کو جان بوجھ کر جلانے کی اطلاعات پر کارروائی کےلیے سپاہی بھیجے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی وجہ سے ۸۰۰؍ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایسے حملے اب عام ہوچکے ہیں جہاں نقاب پوش آباد کار رات کے وقت فلسطینی املاک کو تباہ کرنے یا رہائشیوں پر حملہ کرنے آتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK