فلمی دنیا میں جب کوئی نام ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے تو اسے دوبارہ پردۂ سیمیں پر لانا کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہوتا۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 12:28 PM IST | Mumbai
فلمی دنیا میں جب کوئی نام ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے تو اسے دوبارہ پردۂ سیمیں پر لانا کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہوتا۔
فلمی دنیا میں جب کوئی نام ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے تو اسے دوبارہ پردۂ سیمیں پر لانا کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہوتا۔ لیکن بالی ووڈ کی تاریخ میں ایک فلم ایسی بھی ہے جس کا ایک ہی عنوان دو مختلف دہائیوں میں دو مرتبہ استعمال ہوا اور دونوں مرتبہ اس نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ایک ہی نام، دو نسلیں، دو بالکل مختلف کہانیاں، لیکن دونوں فلموں نے اپنی اپنی مدت میں شائقین کے دل جیت لیے۔ آخر اس عنوان میں ایسی کیا کشش تھی کہ اس نے باپ اور بیٹے، دونوں ہدایت کاروں کو کامیابی سے ہمکنار کر دیا؟یہاں بات ہو رہی ہے فلم ’کچے دھاگے‘ کی۔’کچے دھاگے‘ ایسا عنوان ہے جو نازک، ٹوٹتے اور جڑتے رشتوں کی کہانی خود اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، لیکن بالی ووڈ میں یہی نام دو مختلف ادوار میں ۲؍ الگ موضوعات کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پہلی فلم میں ہدایت کار راج کھوسلہ نے چمبل کے ڈاکوؤں کی دشمنی، محبت اور انتقام کی کہانی بیان کی، جبکہ ۲۶؍برس بعد ان کے بیٹے ملن لتھریا نے اسی عنوان کے تحت راجستھان-پاکستان سرحد کے پس منظر میں سوتیلے بھائیوں کی جدوجہد، قربانی اور بہادری کو پردۂ سیمیں پر پیش کیا۔ اگرچہ دونوں فلموں کی کہانیاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں، لیکن دونوں اپنے اپنے زمانے میں شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔