Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاست میں اب تک ایک لاکھ سے زائد ڈرائیوروں نے مراٹھی بولنا سیکھ لیا

Updated: August 07, 2026, 12:50 PM IST | Nadeem Asran / Shahab Ansari | Mumbai

مراٹھی سیکھنے کیلئے ۱۵؍ اگست تک مہلت دی گئی ہے۔ ساکی ناکہ میں منعقدہ کیمپ میں ٹیکسی اور رکشا ڈرائیوروں کی بھیڑ۔ ’رکشا کھالی آہے کا؟، کٹھے جائیچا آہے، ’کتی پیسے ہونار‘ بولتے نظر آئے۔

Taxi and rickshaw drivers trying to learn Marathi at a camp held in Saki Naka. (Photo: Inquilab)
ساکی ناکہ میں منعقدہ کیمپ میں ٹیکسی ا ور رکشا ڈرائیور جو مراٹھی سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ (تصویر: انقلاب)

ممبئی اور ریاست  کےدیگرعلاقوں  میں ٹیکسی اور آٹورکشا چلانے والوں کو ۱۵؍ اگست تک مراٹھی سیکھنے کی مہلت دی گئی تھی اور اب تک ایک لاکھ سے زائد ڈرائیوروں نے مراٹھی بولنا سیکھ لیا ہے۔ اب یہ مہم ۱۷؍ اگست کو وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں اختتام پذیر ہو گی۔

وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے ٹرانسپورٹ کمشنر راجیش نارویکر، سینئر مصنف پردیپ دھون، ممبئی مراٹھی ساہتیہ سنگھ اور کوکن مراٹھی ساہتیہ پریشد کے نمائندوں نے اس مہم کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد پرتاپ سرنائک نے بتایا کہ یکم مئی سے ڈرائیوروں کیلئے شروع کی گئی مہم میں مراٹھی نہ جاننے والے ایک لاکھ سے زائد ڈرائیور اب تک مراٹھی سیکھ چکے ہیں۔  اس موقع پر انہوں نے بقیہ ڈرائیوروں سے بھی درخواست کی کہ وہ بھی اس مہم کے تحت ۱۵؍ اگست سے پہلے پہلے مراٹھی سیکھ لیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مسافروں کے ساتھ بات چیت کے دوران مراٹھی کا استعمال کیا جائے تو نہ صرف لین دین آسان ہو جائے گا بلکہ لوگوں کے درمیان پیار کے رشتے بھی مضبوط ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: سینئر صحافی ترون تیج پال کو ۱۰؍ سال کی سزا

۱۷؍ اگست کو وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں مہم کا اختتام ہو گا

یکم مئی سے شروع ہونے والی ’ہندو ہردئے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے مراٹھی سکھانے کی مہم‘ کا اختتام وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے ہاتھوں ۱۷؍ اگست کو تھانے کے رام گنیش گڈکری رنگائیتن ہال میں ہو گا۔ اس تقریب میں نائب وزرائےاعلیٰ ایکناتھ شندے، سونیتراپوار اور مراٹھی زبان کے محکمے کے وزیر اُدے سامنت موجودرہیں گے۔اس پروگرام میں کوکن مراٹھی ساہتیہ پریشد کی جانب سے ہزاروں ڈرائیوروں کو مراٹھی کی عملی تربیت مکمل کرنے کیلئے سرٹیفکیٹ تقسیم کئے جائیں گے۔

ساکی ناکہ میں مراٹھی سیکھنے کا کیمپ

۱۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو مراٹھی کے امتحان میں شریک ہونے کا آخری دن ہے اس لئے بڑی تعداد میں شہر اور مضافات کے الگ الگ علاقوں میں لگنے والے کیمپوں میں رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور امتحان میں شریک ہورہے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ صبح ۹؍ بجے سے ساکی ناکہ میں واقع ایک کمیونیٹی ہال کے قریب لگنے والے کیمپ میں مراٹھی امتحان دینے والوں کا تانتا بندھا تھا ۔ 

دو صفحات پر مشتمل ایک مراٹھی  اور ہندی زبان کا کتابچہ ہاتھوں میں لئے خاکی اور سفید لباس میں ۲۵؍ سال کی عمر سے ۷۰؍ تا ۷۵؍ سالہ کے بزرگ  عام بول چال میں مراٹھی کے استعمال ہونے والے جملوں کی مشق کرتے ہوئے یا ایک دوسرے سے اس کتاب میں تحریر کردہ جملوں یا لفظوں کو دہراتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔واضح رہے کہ مراٹھی کا یہ امتحان نہ صرف ٹیکسی وررکشا ڈرائیور کو دینا لازمی ہے بلکہ ایپ پر مبنی کیب سروسز سمیت تمام کمرشیل اور عوامی خدمات انجام دینے والے ڈرائیوروںکو بھی یہ امتحان دینا لازمی ہے اس لئے یہاں پرائیویٹ گاڑیاں چلانے والوں کی بڑی تعداد بھی مراٹھی کا امتحان دینے اورسرٹیفکیٹ لینے کی کوشش میں مصروف تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عدالت کی مداخلت کے بعد ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم

’’ہم دوبارہ اسکول میں آگئے ہیں‘‘

واضح رہے کہ شہر بھر میں ٹرانسپورٹ یونینوں، ریجنل ٹرانسپورٹ (آر ٹی او) اور مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں نے ڈرائیوروں کیلئے مفت مراٹھی تربیتی کیمپ اور امتحانات کے انعقادکررہی ہے ۔ساکی ناکہ میں لگنے والے کیمپ میں شامل اکثر ۶۰؍ تا ۷۰؍ سالہ کے باریش اور تلک دھاری بزرگ بھی پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے مسافروں سے بات چیت کے دوران استعمال ہونے والے جملوں کو دہرا رہے تھے ۔ مشق کے دوران وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے ’ کٹھے جائچا آہے‘ ، دوسرا کہہ رہا تھا’ کتی پیسے ہونار‘ ، ’رکشا خالی آہے کا ،میٹر چالو کرا‘۔ مراٹھی میں بات چیت کرتے وقت اکثر ہنستے ہوئے کہتے کہ ہم دوبارہ اسکول میں آگئے ہیں اور امتحان گاہ میں پہنچنے کے بعد جواب بھول جاتے ہیں۔ اس امتحان گاہ میں ۶۰،  ۶۰؍ کے بیچ پر مشتمل ڈرائیوروں کا تحریری اور بول چال کا امتحان لیا جارہا تھا ۔

اس میں حصہ لینے والے ۷۰؍ سالہ مستقیم شیخ نے کہا کہ تقریباً ۳۰؍ سا ل سے رکشا چلا رہا ہوں لیکن کبھی نہ تو مسافروں سے مراٹھی میں بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ مسافر ہی مراٹھی میں بات کرتے تھے لیکن اب چونکہ اسے لازمی قرار دیا گیا ہے اور روزی کو برقرار رکھنا ہے تو اسے اپنانا ہی پڑے گا۔ ویسے میں بہت آسانی سے مراٹھی بول سکتا ہوں لیکن لکھ نہیں سکتا۔ اب دیکھتے ہیں امتحان میں کیا ہوتا ہے۔ وہیں ۷۲؍ سالہ رامچندر یادو کا کہنا ہے کہ ٹوٹی پھوٹی مراٹھی بول سکتا ہو ں۔ اسکول بھی ہندی میڈیم میں چار کلاس ہی پڑھا ہوں ،امتحان دینے کیلئے ایک ہفتہ سے مشق کررہا ہوں۔  اب نتیجہ کا انتظار ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: جین زی، جین الفا، موجودہ نسل سے زیادہ دیانتدارہے: موہن بھاگوت

امتحان دینے والے ۵۸؍سالہ مشرا جی نے کہا کہ میرے دو بیٹے میکانیکل انجینئر ہیں اور ایک بیٹی فارمیسی کی تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔ لائق بچہ ہونے کی وجہ سے کام کرنےکی ضرورت تو نہیں رہی ہے لیکن خود مختار رہنے میں ہی عافیت ہے اس لئے امتحان دے دیا ہوں۔ اب نتیجہ چاہئے جو ہو۔

امتحان کا اہتمام کرنے والے نے کیا کہا؟

ڈرائیوروں کیلئے  امتحان کا اہتمام کرنے والے  ڈاکٹر سمیدھا گورے نے بتایا کہ ’’اس امتحان میں بنیادی طو ر پر یہ دیکھا جارہا ہے کہ امیدوار مراٹھی کتنا سمجھتا اور بول سکتا ہے۔ مسافروں سے کس انداز میں کتنی بات کرسکتا ہے اور اسی بنیاد پر انہیں سرٹیفکیٹ جاری کیا جارہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK