Inquilab Logo Happiest Places to Work

پہلے ہی دن ہندوستان کی پوزیشن مضبوط، پڈیکل کی سنچری

Updated: August 16, 2026, 1:06 PM IST | Galle

دن کا کھیل ختم ہونے تک ہندوستان نے دو وکٹ پر۲۸۸؍ رن بنالیے، ہندوستان کی مضبوط بلے بازی کےسامنے سری لنکا کے گیندبازجدوجہد کرتے نظر آئے۔

Devdutt Padikkal after completing his century. Photo: PTI.
دیودت پڈیکل سنچری مکمل کرنے کے بعد۔ تصویر:پی ٹی آئی۔

ہندوستان نے اپنے تاریخی۶۰۰؍ ویں ویں ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن دیودت پڈیکل کی شاندار ناٹ آؤٹ سنچری کی بدولت دو وکٹ پر۲۸۸؍ رن بناکر اپنی پوزیشن مضبوط کرلی۔ خراب روشنی کے باعث پہلے دن کا کھیل۷۳؍اوورز کے بعد ختم ہوا۔ بارش کے سبب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا کھیل متاثر ہوا، تاہم ہندوستان نے دن بھر مجموعی طور پر۱۰۱؍، ۹۶؍ اور۹۱؍رن کے تین سیشن کھیلے۔ پڈیکل۱۷۸؍ گیندوں پر۱۳۱؍ رن بناکر ناٹ آؤٹ رہے جس میں ۱۲؍ چوکے اور ایک چھکا شامل ہے۔ رشبھ پنت۳۶؍ گیندوں پر۲۷؍ رن بناکر ان کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ 
ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ کے ایل راہل اور یشسوی جیسوال نے اننگز کی شروعات کی اور پہلے وکٹ کیلئے۴۷؍ رن جوڑے لیکن باہمی غلط فہمی کے باعث جیسوال۳۲؍رن پر رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے پانچ چوکے لگائے۔ اس کے بعد پڈیکل اور راہل نے ذمہ دارانہ بلے بازی کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا اور دونوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔ چائے کے وقفے تک ہندوستان نے ایک وکٹ پر۱۹۷؍ رن بنالیے تھے۔ تاہم راہل کو اینٹھن کی شکایت ہوئی اور وہ۷۷؍ رن پر ’ریٹائرڈ ہرٹ‘ ہوگئے۔ انہوں نے۱۶۲؍ گیندوں پر نو چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ 
راہل کی جگہ کپتان شبھ من گل میدان میں آئے اور پڈیکل کو ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کرتے دیکھا لیکن وہ خود۱۶؍ رن پر پربھات جے سوریہ کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے۔ یہ سری لنکا کی جانب سے پہلے دن کا پہلا اور واحد گیند سے حاصل کیا گیا وکٹ تھا۔ اس کے بعد پڈیکل اور پنت نے ہندوستانی اننگز کو آگے بڑھایا۔ دونوں کے درمیان ناٹ آؤٹ۵۲؍رن کی شراکت قائم ہوئی اور دن کا کھیل ختم ہونے تک ہندوستان نے دو وکٹ پر۲۸۸؍ رن بنالیے تھے۔ 
سری لنکا کو پہلے دن اسپن گیندبازوں کے لیے پچ سے کچھ مدد ضرور ملی، لیکن ٹیم مسلسل دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہی۔ دوسرے دن ہندوستان اپنی مضبوط پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی :شبھ من

پڈیکل کے نام انوکھا ریکارڈ 
کچھ ٹیسٹ سنچریاں صرف اسکور بورڈ پر رنز کا اضافہ کرتی ہیں جبکہ کچھ تاریخ کے صفحات میں جگہ بناتی ہیں۔ سری لنکا کے خلاف سنیچرکو دیودت پڈیکل کی سنچری نے دونوں کام انجام دیے۔ بائیں ہاتھ کے ہندوستانی بلے باز پڈیکل۲۱؍ویں صدی میں نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے ٹیسٹ سنچری بنانے والے دوسرے ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز بن گئے ہیں۔ ان سے قبل سورو گنگولی نے۲۰۰۲ء میں دہلی میں زمبابوے کے خلاف نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے۱۳۶؍ رن بنائے تھے۔ ہندوستانی ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر تین کی پوزیشن ہمیشہ اہم رہی ہے۔ اس نمبر پر نئی گیند کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط تکنیک درکار ہوتی ہے، جبکہ مڈل آرڈر کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ 
تیسری پوزیشن پر ونودکامبلی کی سب سے زیادہ سنچریاں 
پڈیکل نے اس چیلنج کا سامنا پورے اعتماد کے ساتھ کیا اور اپنی اننگز کے ذریعے تاریخ میں اپنا نام درج کرالیا۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ان کی یہ کامیابی مزید خاص بن جاتی ہے۔ نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز ونود کامبلی ہیں، جن کے نام ۴؍ سنچریاں ہیں۔ سورو گنگولی نے اس پوزیشن پر تین سنچریاں بنائی ہیں، جبکہ سلیم درانی، باپو نادکرنی، اجیت واڈیکر، ایکناتھ سولکر اور سریندر امرناتھ نے ایک، ایک سنچری بنائی ہے۔ اب اس فہرست میں پڈیکل کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔ 
پڈیکل نے جب اپنی سنچری مکمل کی، اس وقت ہندوستان کا اسکور۵۸؍ اوورز میں ایک وکٹ پر۲۲۱؍ رنز تھا اور ٹیم مضبوط پوزیشن میں تھی۔ تاہم پڈیکل کے لیے یہ کامیابی ٹیم کے اسکور سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ دہلی میں گنگولی کی ۱۳۶؍رن کی اننگز کے دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک اور ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز نے نمبر تین پر ٹیسٹ سنچری بنائی۔ اس کامیابی کے ساتھ پڈیکل نے خود کو صرف ابھرتے ہوئے باصلاحیت بلے بازوں کی فہرست تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہندوستانی ٹیسٹ تاریخ کے ایک مخصوص اور اہم باب میں بھی اپنا نام درج کرالیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK