Updated: May 29, 2026, 5:25 PM IST
| Mumbai
ورون دھون، مرنال ٹھاکر اور پوجا ہیگڑے کی آنے والی فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ ریلیز سے محض چند روز قبل ایک بڑے قانونی تنازع میں گھر گئی ہے۔ پروڈیوسر واشو بھگنانی کی پروڈکشن کمپنی نے مبینہ طور پر رمیش تورانی، ٹپس انڈسٹریز اور ہدایتکار ڈیوڈ دھون کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں ۴۰۰؍ کروڑ روپے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔
ہے جوانی تو عشق ہونا ہے۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کی آنے والی رومانوی کامیڈی فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ اپنی ریلیز سے پہلے ہی ایک بڑے قانونی تنازع کا سامنا کر رہی ہے۔ فلم میں اداکار ورون دھون، مرنال ٹھاکر اور پوجا ہیگڑے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم گزشتہ چند ہفتوں سے اس کے موسیقی کے حقوق پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ تازہ پیش رفت میں پروڈیوسر واشو بھگنانی کی کمپنی پوجا انٹرٹینمنٹ نے مبینہ طور پر ممبئی ہائی کورٹ میں ۴۰۰؍ کروڑ روپے کا ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ دعوے میں ٹپس انڈسٹریز، اس کے سربراہ رمیش تورانی، کمار تورانی اور فلم کے ہدایت کار ڈیوڈ دھون کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شویتا ترپاٹھی نے کہا: علی فضل اور نمرت کور کی ترقی دیکھ کر فخر ہوتاہے
تنازع کی بنیاد ۱۹۹۹ء کی سپر ہٹ فلم ’’بیوی نمبر ون‘‘ کے مشہور گانوں ’’چنری چنری‘‘ اور ’’عشق سونا ہے‘‘ کے نئے ورژنز ہیں، جو ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ میں شامل کیے گئے ہیں۔ پوجا انٹرٹینمنٹ کا مؤقف ہے کہ ان گانوں کے بعض حقوق ان کے پاس موجود ہیں اور انہیں مناسب اجازت کے بغیر استعمال کیا گیا ہے۔ بھگنانی کے قانونی نمائندوں کے مطابق پرانے معاہدوں، موسیقی کے حقوق اور بصری حقوق کے حوالے سے کئی قانونی نکات ابھی تک متنازع ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں فلمی حقوق مختلف معاہدوں کے تحت تقسیم ہوتے تھے اور موجودہ تنازع انہی معاہدوں کی تشریح سے متعلق ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ٹپس انڈسٹریز واقعی ان گانوں کی واحد قانونی مالک ہے تو اسے متعلقہ دستاویزات عدالت میں پیش کرنی چاہئیں۔
دوسری جانب ٹپس انڈسٹریز پہلے ہی یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ ’’چنری چنری‘‘ اور ’’عشق سونا ہے‘‘ کے مکمل اور قانونی حقوق اسی کے پاس ہیں۔ کمپنی نے حالیہ دنوں میں ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان گانوں کے استعمال میں کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور تمام حقوق قانونی طور پر اس کے اختیار میں ہیں۔ یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہو گیا جب فلم کی موسیقی کو آن لائن ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر ’’چنری چنری‘‘ کے نئے ورژن پر سوشل میڈیا پر شدید بحث ہوئی۔ کئی موسیقاروں اور شائقین نے کلاسک گانوں کے بار بار ریمیک بنائے جانے کے رجحان پر تنقید کی، جبکہ بعض نے نئے ورژن کی حمایت بھی کی۔
یہ بھی پڑھئے: جگپتی بابو نے کہا’’پیڈی میں میرا کردار میرے کریئر کے ٹاپ چھ کرداروں میں پہلے نمبر پر ہے ‘‘
فلمی صنعت کے مبصرین کے مطابق اگر مقدمے کی سماعت تیزی سے آگے بڑھتی ہے تو اس کے اثرات فلم کی تشہیری مہم، موسیقی کی تقسیم اور حتیٰ کہ ریلیز شیڈول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک فلم کی ۵؍ جون کو متوقع نمائش میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلم پہلے ہی اپنے موسیقی کے انتخاب اور کلاسک گانوں کی نئی پیشکش کے باعث خبروں میں تھی۔ اب قانونی جنگ نے اسے بالی ووڈ کی سب سے زیادہ زیر بحث فلموں میں شامل کر دیا ہے۔ فلمی حلقے اب ممبئی ہائی کورٹ میں ہونے والی آئندہ کارروائی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، کیونکہ اس مقدمے کا نتیجہ نہ صرف ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ بلکہ مستقبل میں کلاسک بالی ووڈ گانوں کے ریمیک اور ان کے حقوق سے متعلق معاملات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔