آئیے آج اُس شخص کو یاد کریں جس نے ہندی سنیما بدلنے میں خاموش کردار ادا کیا ہے۔بھلے ہی ان کا نام اسکرین پر کم چمکا مگر ان کی چھاپ فلم کے ہر فریم پر دکھائی دیتی ہے۔
وجے آنند متعدد صلاحیتوں کے حامل تھے۔ تصویر: آئی این این
آئیے آج اُس شخص کو یاد کریں جس نے ہندی سنیما بدلنے میں خاموش کردار ادا کیا ہے۔بھلے ہی ان کا نام اسکرین پر کم چمکا مگر ان کی چھاپ فلم کے ہر فریم پر دکھائی دیتی ہے۔ اس اداکار،ہدایت کار اور فلم ساز کا نام وجے آنندہے۔وجے آنند ۲۲؍جنوری ۱۹۳۴ء کو پنجاب کے گرداس پور میں ایک کامیاب اور مشہور وکیل پشوری لال آنند کے یہاں پیدا ہوئے۔ وہ ۹؍بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنے خاندان کے سب سے مشہور افراد تھے بلکہ ان کے دو بڑے بھائی بھی فلموں میں ان سے زیادہ مشہور نام ہیں۔ ان میں ایک ڈائریکٹر پروڈیوسر چیتن آنند اور دوسرے مشہور اداکار دیو آنند ہیں۔جبکہ ان کی ایک بہن شیل کانتا کپور بھی ہیں جو مشہور فلم ساز شیکھر کپور کی والدہ ہیں۔
وجے آنند نے ابتدا میں فلمی دنیا میں چھوٹے موٹے کام کیے جیسے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اسکرپٹ رائٹنگ، ایڈیٹنگ وغیرہ۔یہ سب وہ مراحل تھے جن سے گزر کر وہ کیمرے کی زبان سمجھنے لگے۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہندی فلم میں کہانی کہنے کا سلیقہ سب سے بڑی طاقت ہوا کرتا تھا، نہ کہ صرف ستاروں کی چمک۔
وجے آنند کا اصل عروج نوکیتن فلمز کے بینر تلے آیا، جو دیوآنند کی پروڈکشن کمپنی تھی۔ یہاں وجے آنند کو وہ آزادی ملی جس نے انہیں ایک مکمل فلم ساز بنا دیا، ایک ایسا فلم ساز جو اسکرپٹ، شاٹ، ایڈیٹنگ اور موسیقی سب پر یکساں گرفت رکھتا تھا۔
اگر یہ کہا جائے وہ ایک فلم جو وجے آنند کی شناخت بنی تو بلاشبہ فلم’گائیڈ‘ کا نام لیا جاسکتا ہے۔آر کے نارائن کے ناول پر مبنی یہ فلم ہندی سنیما میں نفسیاتی گہرائی کی مثال بن گئی۔دیوانند کا کردارراجو گائیڈمحض ایک عاشق نہیں بلکہ ایک ٹوٹا ہوا انسان ہے، اور یہی انسانیت وجے آنند کی ہدایت کاری کی پہچان تھی۔فلم کی خاموشیاں، کیمرے کی حرکت، گیتوں کا فطری استعمال یہ سب کچھ اس دور سے بہت آگے تھا۔
اس کے علاوہ ان کی دیگر مشہور فلموں میں کالابازار،تیسری منزل، جویل تھیف، جانی میرا نام،تیرے میرے سپنے، رام بلرام اور راجپوت ہیں۔ان میں سے زیادہ تر فلمیں نوکیتن فلمز کے تحت ہی بنائی گئی تھیں جبکہ صرف تیسری منزل ہی ایک ایسی فلم تھی جسے ناصر حسین کے ذریعہ پروڈیوس کی گئی تھی۔
وجے آنند صرف ہدایت کار نہیں تھے۔وہ خود اپنی کئی فلموں کےمصنف اور ایڈیٹر بھی تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمیں بے جا طوالت، غیر ضروری مناظر اور بھٹکتی کہانی سے محفوظ رہتی تھیں۔وہ جانتے تھے کہ فلم میں کیا دکھانا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کیا نہیں دکھانا ہے۔ایس ڈی برمن، آر ڈی برمن، اور دیگر بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے وجے آنند نے گیتوں کو محض فلم کی طوالت بڑھانے کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ کہانی کا حصہ رکھا۔ ان کی فلموں کے گیت جیسے کہ’موسم ہے عاشقانہ‘،’تیرے میرے سپنے‘،’گاتا رہے میرا دل‘ ایسے گیت ہیں جو فلم سے الگ ہوکر بھی زندہ ہیں جبکہ فلم کے اندر ان کی جگہ اور بھی مضبوط ہے۔وجے آنند کا انتقال ۲۳؍فروری ۲۰۰۴ءکو ہوا۔ وہ خاموشی سے آئے، خاموشی سے چلے گئےمگر اپنے پیچھے ایسی فلمیں چھوڑ گئے جو آج بھی بولتی ہیں۔