ونود مہرہ کو ہندی سنیما میں ایک باصلاحیت اور نفیس اداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی فلمیں اور کردار آج بھی شائقین کےدلوں میں زندہ ہیں۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 11:49 AM IST | Mumbai
ونود مہرہ کو ہندی سنیما میں ایک باصلاحیت اور نفیس اداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی فلمیں اور کردار آج بھی شائقین کےدلوں میں زندہ ہیں۔
ونود مہرہ کو ہندی سنیما میں ایک باصلاحیت اور نفیس اداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی فلمیں اور کردار آج بھی شائقین کےدلوں میں زندہ ہیں۔ ہندی فلموں کے معروف اداکار ونود مہرا۱۳؍ فروری۱۹۴۵ء کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۵۰ءکی دہائی کے میں بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا، جبکہ بطوربالغ اداکار انہوں نے ۱۹۷۱ء میں ’ ایک تھی ریتا‘ سےفلمی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ انگریز ی ڈرامے’اے گرل کالڈ ریٹا‘پر مبنی ایک کامیاب فلم تھی اور اس میں تنوجا ان کی ہیروئن تھیں۔ وہ ۱۹۷۰ءکی دہائی سے لےکر اپنی وفات ۱۹۹۰ءتک ۱۰۰؍سے زائد فلموں میں نظر آئے۔ ونود مہرا فلم ’گرو دیو‘ کے پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی تھے، جو ان کی وفات کے۳؍ سال بعد۱۹۹۳ءمیں ریلیز ہوئی۔
انہوں نے۲؍ دہائیوں پر محیط کریئرمیں ۱۰۰؍سےزائد فلموں میں کام کیا۔ ابتدائی فلموں میں وہ ہیرو کے طور پر نظر آئے، جبکہ بعد میں زیادہ تر ملٹی اسٹارر فلموں میں سیکنڈ لیڈ یا مضبوط معاون کردار، جیسے بھائی، دوست، چچا، والد اور پولیس افسرکےکردار ادا کیے۔ انہوں نے سنیل دت، دھرمیندر، سنجیو کمار، راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی مشہور ہیروئنوں میں ریکھا، موسمی چٹرجی، یوگیتا بالی، شبانہ اعظمی اور بندیا گوسوامی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’او ٹی ٹی کی شہرت کم ہورہی ہے اور ٹی وی شوز اپنا پرانا مقام حاصل کررہے ہیں‘‘
ان کی نمایاں فلموں میں ناگن، جانی دشمن، گھر، سورگ نرک، کرتویہ، ساجن بنا سہاگن، جرمانہ، ایک ہی راستہ، یہ کیسا انصاف، سوئیکار کیا میں نے اورخوددار شامل ہیں۔ انہیں فلم فیئر ایوارڈ میں بہترین معاون اداکار کے لیے انورودھ، امر دیپ، اور بے مثال کے لئےمنتخب کیا گیا۔ ۱۹۸۵ءمیں انہوں نے پنجابی فلم موجاں دبئی دیاں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کبھی ہیروئن پر مبنی فلموں میں کام کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ موسمی چٹرجی اور ونود مہرہ نے ایک ساتھ کئی فلموں میں کام کیا، جن میں شکتی سامنت کی انوراگ، باسو چٹرجی کی اس پار، مذاق، رفتار، دو جھوٹ اور سب سے بڑا روپیہ شامل ہیں۔ ان میں سے کئی فلمیں موسمی چٹرجی کے شوہر جینت مکھرجی نے پروڈیوس کی تھیں۔
۱۹۸۰ءکی دہائی کے اواخر میں ونود مہرہ نے فلم گرو دیو کے ذریعے بطورپروڈیوسر اور ہدایت کار کام شروع کیا، جس میں سری دیوی، رشی کپوراورانیل کپور مرکزی کرداروں میں تھے۔ ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۰ءکو ۴۵؍برس کی عمر میں فلم کی تکمیل سے قبل ہی دل کا دورہ پڑنےسے ان کا انتقال ہو گیا۔ بعد ازاں ہدایت کار راج سپی نے فلم مکمل کی اور یہ۱۹۹۳ءمیں ریلیز ہوئی۔
ان کی وفات کے بعد ان کی کئی تاخیر کا شکار فلمیں ریلیز ہوئیں اور ان کی یاد میں منسوب کی گئیں۔ ونود مہرہ کی بیٹی سونیا مہرہ بھی فلموں میں نظر آچکی ہیں، جبکہ ان کے بیٹے روہن مہرہ نے۲۰۱۸ءمیں نکھل اڈوانی کی فلم بازار سے اداکاری کا آغاز کیا۔ اداکار ونود مہرہ بھی اپنی صلاحیتوں کے خود مداح یا داعی نہیں رہے۔ یہ خاموش، شائستہ اور ملنسار اداکار اپنی اداکاری یا اپنی پُرآشوب ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔