Updated: July 22, 2026, 12:35 PM IST
| New Delhi
دہلی کے جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا، جہاں مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، دھرنا ختم نہیں ہوگا۔ ادھر ملک کی مختلف اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ امریکہ کے نیویارک اور سان ہوزے سمیت کئی شہروں میں بھی یکجہتی کے مظاہرے کیے گئے۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی کے خلاف دائر فوری سماعت کی درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ سیاسی لیڈروں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
سی جے پی احتجاج۔ تصویر: آئی این این
دہلی کے جنتر منتر میں جاری کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج نے تیسرے روز مزید شدت اختیار کر لی۔ ہزاروں طلبہ، نوجوان، والدین اور مختلف تنظیموں کے کارکن بدستور احتجاجی مقام پر موجود ہیں اور قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات پر عملی فیصلہ نہیں کرتی، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ مظاہرین کی جانب سے ’’سنسد چلو‘‘ تحریک کے بعد بھی احتجاج جاری رکھنے کے اعلان نے اس تحریک کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتیں منہدم کرنے کا فیصلہ تعلیم دشمنی ہے‘‘
احتجاجی قیادت نے اعلان کیا کہ وہ جنتر منتر سے اس وقت تک نہیں اٹھیں گے جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، امتحانی نظام میں اصلاحات اور طلبہ سے متعلق دیگر مطالبات پر حکومت واضح مؤقف اختیار نہیں کرتی۔ ادھر ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال بھی جاری ہے، جسے مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی مسلسل حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ سیاسی محاذ پر بھی احتجاج کو نئی تقویت ملی۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے طلبہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کو ’’غیر جمہوری‘‘ قرار دیا، جبکہ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ جنتر منتر پہنچ کر احتجاج کی حمایت کریں۔ ترنمول کانگریس کے رہنما کلیان بنرجی نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر طلبہ کی آواز نہیں سنی جائے گی تو پھر کس کی سنی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اُردو کا مستقبل تاریک ہے، یہ سوچنے والا ذہن تاریکی میں ہے‘‘
اس دوران سپریم کورٹ نے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے خلاف دائر فوری سماعت کی درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے پر فوری مداخلت نہیں کرے گی۔ دوسری جانب احتجاج سے متعلق سیاسی اور قانونی بحث مزید تیز ہو گئی ہے، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی کارروائی پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
احتجاج کی بازگشت اب صرف دہلی تک محدود نہیں رہی۔ امریکہ کے نیویارک اور سان ہوزے سمیت کئی شہروں میں بھارتی برادری نے بھی یکجہتی کے مظاہرے کیے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں بھی حمایت کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تحریک اب صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ نوجوانوں کے مسائل، امتحانی نظام میں اصلاحات اور حکومتی جوابدہی سے متعلق ایک وسیع قومی بحث کی شکل اختیار کر چکی ہے۔