• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال کے عبوری بجٹ میں ’ممتا‘ کی جھلک،کئی دلکش اعلانات

Updated: February 06, 2026, 7:17 AM IST | Kolkata

ترقیاتی کاموں کے ساتھ ہی خواتین، آنگن واڑی اورآشا کارکنوں، بے روزگار نوجوانوں، آن لائن ڈیلیوری کرنے والوں اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا خاص خیال رکھا گیا ہے

Mamata Banerjee addresses the media after the budget was presented in the assembly (Photo: PTI)
اسمبلی میں بجٹ پیش کئے جانے کے بعد میڈیا سے ممتابنرجی کاخطاب (تصویر: پی ٹی آئی)

مغربی بنگال کی وزیر مملکت برائے خزانہ چندریما بھٹاچاریہ نے جمعرات کو اسمبلی میں رواں مالیاتی  سال کیلئے عبوری بجٹ پیش کیا۔ انتخابات کے پیش نظر، حکومت نے کسی نئے ٹیکس کے بجائے مراعات اور الاؤنسز کی بارش کر دی ہے۔۴ء۰۶؍ لاکھ کروڑ روپے کا عبوری بجٹ پیش کیا گیا، جس میں مختلف الاؤنس اور امدادی رقوم میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔بجٹ کی سب سے بڑی اور اہم اعلان مقبول’لکشمی بھنڈار‘ اسکیم کے تحت دی جانے والی ماہانہ امداد میں۵۰۰؍ روپے کے اضافے کا ہے۔ یہ اسکیم۲۵؍ سے۶۰؍ برس کی عمر کی خواتین کو مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ اضافی رقم فروری سے نافذ العمل ہوگی، جس کیلئے بجٹ میں۱۵؍ ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ملازمین کے مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) میں۴؍ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریاست میں ساتویں پے کمیشن  کے نفاذ کا بڑا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
 ممتا حکومت نے بے روزگار نوجوانوں ( ۲۱؍ سے ۴۰؍ سال) کیلئے نئی اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت انہیں۵؍سال تک۱۵۰۰؍ روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔ آشا کارکنوں، اسسٹنٹ اساتذہ اور آنگن واڑی ورکرز کے مشاہرے میں ایک ہزارروپے ماہانہ اضافہ کیا گیا ہے۔ آشا ورکرز کو اب۱۸۰؍ دنوں کی زچگی کی چھٹی بھی ملے گی۔’سواستھ ساتھی‘ اسکیم کا دائرہ بڑھا کر  اب (آن لائن ڈیلیوری اور ٹیکسی ڈرائیورز وغیرہ) کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ریاست میں۶؍ نئے صنعتی کوریڈورز اور۵؍ نئے انڈسٹریل پارکس بنانے کا منصوبہ ہے۔۱۰۰؍ روزہ کام کی اسکیم (منریگا کے متبادل کے طور پر) کیلئے ۲؍ ہزار کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ترقیاتی محاذ پر حکومت نے باروئی پور میں ’ثقافتی شہر‘ کی تعمیر، ۶؍صنعتی و اقتصادی راہداریوں کے قیام اور چھوٹے  اور متوسط درجے کی صنعتوں کیلئے ۵؍ نئے صنعتی پارک قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
مرکز کو بنگال کا دو ٹوک جواب، پہلے 
پرانا کام مکمل کرو، پھر نئی زمین ملے گی
 کولکاتا(ایجنسی): مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو اسمبلی میں دو ٹوک لہجے میں کہا کہ مرکز کو مزید زمین مانگنے سے پہلے ان منصوبوں کو مکمل کرنا چاہئے جن کیلئے ریاست پہلے ہی اراضی فراہم کر چکی ہے۔ انہوں نے یہ بیان اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کی جانب سے اٹھائے گئے دراندازی کے الزامات کے جواب میں دیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت کی عدم تعاون کی وجہ سے ہندوستان،بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کا کام رکا ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی ہوم سیکریٹری نے اراضی کیلئے ۸؍ خط لکھے لیکن زمین نہیں ملی۔
 ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’ہم نے بی ایس ایف اور دیگر منصوبوں کیلئے کافی زمین دی ہے۔ مرکز بتائے کہ اب تک کتنا کام مکمل ہوا؟ پہلے کام پورا کریں، پھر مزید زمین کی بات کریں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے ریلوے، ہوا بازی اور پورٹ اتھارٹیز بیرون ملک سے آنے والوں کی معلومات ریاست کے ساتھ شیئر کرتی تھیں، لیکن اب مرکز نے یہ روایت بند کر دی ہے۔
 شوبھندو ادھیکاری نے الزام لگایا کہ دراندازی کی وجہ سے بنگال کی آبادیاتی صورتحال بدل رہی ہے۔ اس پر ممتا بنرجی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا آپ کو ایک بھی روہنگیا ملا ہے؟ اگر ووٹر لسٹ میں کوئی مسئلہ تھا تو۲۰۲۴ء کے انتخابات انہی فہرستوں پر کیوں ہوئے؟ اگر مرکز ناکام ہے تو وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کریں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK