مغربی بنگال کے پرولیا ضلع میں ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کے تحت جاری کئے گئے نوٹس پرپیشی سے قبل ۸۲؍ سالہ شخص نے خود کشی کرلی
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 11:27 PM IST | New Delhi
مغربی بنگال کے پرولیا ضلع میں ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کے تحت جاری کئے گئے نوٹس پرپیشی سے قبل ۸۲؍ سالہ شخص نے خود کشی کرلی
ایس آئی آر کے تحت نوٹس جاری ہونے اور الیکشن حکام کے سامنے حاضر ہوکر خود کو اہل ووٹر ثابت کرنے کے دباؤکی وجہ سے ۸۲؍ سالہ شخص کی خود کشی پر مغربی بنگال کے ضلع پرولیا میںالیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایف آئی آر کا اندراج متوفی کے بیٹے کی شکایت پر ہوا ہے۔ایک افسر نے بتایا کہ ’’اس مقدمے میں الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کے خلاف خودکشی پر اکسانے اور مجرمانہ سازش کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تاہم ایف آئی آر میں کسی مخصوص افسر کا نام درج نہیں ہے۔‘‘ چوٹالا گاؤں (پارا بلاک) کے قبائلی باشندہ دُرجن ماجھی نے ۲۹؍ دسمبر کو ایس آئی آر سے متعلق نوٹس پر سماعت میں پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل خود کشی کرلی تھی۔
ماجھی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے تحت جاری ہونےوالے نوٹس کے بعد سے وہ دباؤ میں تھے اوراسی بے چینی اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے انہوں نے اپنی جان لے لی۔ پولیس نے ایف آئی آر کا اندراج منگل کو ایسی ہی ایک اور موت کی اطلاع ملنے کے بعد رج کی گئی ۔ تازہ واقعہ میں نواداپاڑہ گاؤں کے۵۰؍ سالہ اکشت علی منڈل ایس آئی آر کا نوٹس ملنے کے بعد شدید ذہنی دباؤ میں آنے کے بعد فوت ہوگئے۔ خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ نوٹس ملنے کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں اسپتال لے جایا گیا مگر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔‘‘
ترنمول کانگریس کے مطابق نومبر۲۰۲۵ء میں ایس آئی آر کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم۴۰؍ افراد جن میں بوتھ لیول افسران بھی شامل ہیں، ایس آئی آر سے جڑے کام کے بوجھ اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اس سلسلے میں ۵؍خطوط لکھ چکی ہیں۔انہوں نے نے ایس آئی آر کی سماعتوں کے طریقۂ کار پر سخت اعتراض کیا اور ’’بلا ضرورت ذہنی دباؤ اور ہراسانی‘‘کا حوالہ دیاہے۔