مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دراندازی روکنے کیلئے بی جے پی حکومت بنوانے کی اپیل کی، وندے ماترم پر تنازع کا حوالہ بھی دیا
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 8:32 AM IST | Kolkata
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دراندازی روکنے کیلئے بی جے پی حکومت بنوانے کی اپیل کی، وندے ماترم پر تنازع کا حوالہ بھی دیا
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مغربی بنگال میں بڑھتی دراندازی پر سخت حملہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو قوم پرستی، سرحدی تحفظ اور وندے ماترم پر ترنمول کانگریس کی مخالفت سے جوڑ دیا۔ بیرک پور میں بی جے پی کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہاکہ بنگال میں دراندازی کا مسئلہ اب صرف ریاست تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے ملک کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔انہوں نے ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ انتخابی فوائد کے لیے جان بوجھ کر دراندازی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ صرف اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنے اور دراندازی کو فروغ دینے کے لیے ٹی ایم سی وندے ماترم کی مخالفت کر رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی مفادات قومی مفاد کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
وندے ماترم کی ۱۵۰؍ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ بنکم چندر چٹوپادھیائے کا لکھا ہوا یہ گیت بنگال کی دین ہے اور برطانوی راج کے خلاف ایک انقلابی نعرے کے طور پر ابھرا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وندے ماترم کی ۱۵۰؍ ویں سالگرہ ہے۔ یہ برطانوی حکومت کے خلاف لکھا گیا تھا اور ہندوستان کی تحریکِ آزادی کا نعرہ بنا۔ امیت شاہ نے یاد دلایا کہ نریندر مودی حکومت نے ملک بھر میں اس کی سالگرہ منانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ جب پارلیمنٹ میں اس گیت پر بحث ہوئی تو ترنمول کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت کی۔
امیت شاہ نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اس ٹی ایم سی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور ایک قوم پرست حکومت لائیں۔سرحدی تحفظ کے معاملے کا دوبارہ ذکر کرتے ہوئےشاہ نے ریاستی حکومت پر بین الاقوامی سرحد پر باڑ لگانے میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ باڑ لگانے کے لیے یہ حکومت ہمیں زمین نہیں دے رہی۔ اس کی وجہ سے ہم باڑ کا کام مکمل نہیں کر پا رہے ہیں۔ دوسری طرف جعلی دستاویزات بنائےجا رہے ہیں اور درانداز پورے ملک میں گھوم رہے ہیں اور بد امنی پیدا کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے حالیہ تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ ۳۱؍ مارچ تک بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو زمین فراہم کی جائے۔
اس کے بعد انہوں نے سلی گڑی میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، شمالی بنگال کے عوام کو یقین دلایا کہ مستقبل میں بی جے پی کی حکومت کے تحت اس خطے کو محروم نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں شمالی بنگال کے عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم بجٹ میں اسے اس کے رقبے اور آبادی کے حساب سے بننے والے حق سے کم از کم ایک روپیہ زیادہ دیں گے۔ شمالی بنگال کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی ۔ممتا بنرجی پر نے اس خطے کو نظر انداز کر رکھا ہے ۔ وہ مرکز کا پیسہ بھی یہاں پہنچنے نہیں دیتی ہیں۔