Updated: May 04, 2026, 4:10 PM IST
| Mumbai
جب فلم ’’دُھرندھر‘‘ پہلی بار ریلیز ہوئی تو عوام کےایک طبقے نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے پروپیگنڈا فلم قرار دیا۔ یہ تاثر اس وقت اور بھی مضبوط ہو گیا جب ’’دُھرندھر:دی ریونج‘‘سنیما گھروں میں آئی، خاص طور پر اس انداز کی وجہ سے جس میں کچھ سیاسی واقعات کو پیش کیا گیا تھا۔
جاوید اختر۔ تصویر:آئی این این
جب فلم ’’دُھرندھر‘‘ پہلی بار ریلیز ہوئی تو عوام کےایک طبقے نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے پروپیگنڈا فلم قرار دیا۔ یہ تاثر اس وقت اور بھی مضبوط ہو گیا جب ’’دُھرندھر:دی ریونج‘‘سنیما گھروں میں آئی، خاص طور پر اس انداز کی وجہ سے جس میں کچھ سیاسی واقعات کو پیش کیا گیا تھا۔ اس تنازع نے ایسی صورتحال پیدا کر دی کہ کچھ لوگ اس فلم کو پسند کرتے تھے جبکہ کچھ اسے بالکل برداشت نہیں کر پاتے تھے۔
فلم کو بہت جلد پروپیگنڈا کا لیبل دے دیا گیا اور یہ بحث شروع ہو گئی کہ آخر پروپیگنڈا کسے کہتے ہیں اور کسے نہیں۔ اسی دوران جاوید اختر سامنے آئے اور انہوں نے فلم کا دفاع کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔
جاوید اختر کو پروپیگنڈا میں کوئی برائی نظر نہیں آتی
کہانی سنانے کا فن اس آزادی کے ساتھ آتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی دکھا سکتے ہیں کیونکہ آخرکار یہ آپ کی اپنی کہانی ہوتی ہے۔ جاوید اختر کولکاتا میں ایک ایوارڈ تقریب میں مہمانوں میں شامل تھے، جہاں انہوں نے کہا کہ موضوعی نقطۂ نظر کی بنیاد پر کوئی بھی چیز پروپیگنڈا کہلا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا ’’مجھے نہیں معلوم کہ آپ پروپیگنڈا فلموں سے کیا مراد لیتے ہیں۔ مجھے فلم ’’دُھرندھر‘‘ بہت پسند آئی، یہ ایک شاندار فلم تھی۔ پہلی فلم مجھے دوسری کے مقابلے میں زیادہ پسند آئی۔ ہر کہانی کسی نہ کسی موقف کو ظاہر کرتی ہے، لیکن کیا صرف اس لیے وہ پروپیگنڈا بن جاتی ہے کہ اس کی کہانی کچھ ناظرین کو پسند نہیں آتی؟ ہر شخص کو اپنے خیالات پھیلانے کا حق ہے۔ پروپیگنڈا فلموں میں آخر کیا غلط ہے؟ ہر فلم ساز کا کام سچ پیش کرنا ہے۔ چاہے کسی فلم کی کہانی ایک پریوں کی کہانی پر ہی کیوں نہ مبنی ہو، اس میں کسی نہ کسی شکل میں ایک نظریہ ضرور موجود ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:پونے معاملہ: اپوزیشن نے مہایوتی حکومت کو گھیرا، وزیراعلیٰ پر سخت تنقید
ان فلموں میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، ارجن رامپال، آر مادھون، سنجے دت، دانش پاندور اور سارہ ارجن نے اداکاری کی، جبکہ ان کی تحریر اور ہدایت کاری آدتیہ دھر نے کی۔ یہ دونوں فلمیں بہت جلد ہندوستان اور دنیا بھر میں کامیاب ہو گئیں اور عالمی سطح پر ہندوستان ی سنیما کی نمائندگی کی۔
یہ بھی پڑھئے:شری دیوی شروع میں ہندی نہیں جانتی تھیں لیکن بعد میں ’لیڈی سپر اسٹار‘ کہلائیں
فلم ’’دُھرندھر‘‘ اور فلم ’’دُھرندھر۲‘‘ دونوں کو پروپیگنڈا کہا گیا، حالانکہ حقیقت میں پروپیگنڈا کا انحصار کافی حد تک ذاتی نقطۂ نظر پر ہوتا ہے۔ بطور مصنف، جاوید اختر کا ماننا ہے کہ ہر کوئی اپنی کہانی کا اپنا ورژن بیان کرنا چاہتا ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔ اس ورژن کو کس طرح لیا جاتا ہے، یہ بالآخر دیکھنے والے پر منحصر ہے۔