کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ کا ذہنی توازن خراب ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ اوٹ پٹانگ باتیں کرتےہیں
EPAPER
Updated: February 09, 2026, 11:43 PM IST | New Delhi
کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ کا ذہنی توازن خراب ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ اوٹ پٹانگ باتیں کرتےہیں
کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں جانے کے بعد ہی سے آسام کے موجودہ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما ہندوتوا کے تئیں اپنی وفاداری ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی کوشش کے تحت وہ لگاتار اوٹ پٹانگ بیانات دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے تئیں سخت بیانات کے ساتھ ہی انہوں نے اتوار کو کانگریس لیڈر گورو گوگوئی کی اہلیہ کے تعلق سے بھی سنگین الزامات عائد کئے، جس پر پیر کو گورو گوگوئی اور کانگریس کے دیگر لیڈروں نےجوابی حملہ کیا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی مانگ کی گئی۔ اسی تناظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان پون کھیڑا نےاپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔’ایکس‘ پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہیمنت بسوا شرما کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب وہ بولتے ہیں تو کچھ لوگ خوف کے باعث چھپ کر ہنستے ہیں اور کچھ کھل کر ہنستے ہیں، لیکن ہنسی سب کو آتی ہے۔ کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ ممکن ہے آئندہ انتخابات کے پیش نظر وہ دباؤ میں ہوں اور انہیں اپنی صورت حال کا اندیشہ ہو۔
کانگریس ترجمان نے گورو گوگوئی سے متعلق شرما کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے وہ بار بار ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ گورو گوگوئی پاکستانی ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۱۵ء میں گوگوئی کی پاکستان کے سفیر سے ملاقات کو بنیاد بنا کر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ وہ ملاقات ہندوستان میں طلبہ کے ایک وفد کے ساتھ ہوئی تھی جس میں دہشت گردی سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی تھی۔ انہوں نے اُسی سال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ۲۰۱۵ء میں وزیر اعظم مودی بھی پاکستان گئے تھے اور نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بنیاد پر کسی کو پاکستانی ایجنٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ اسی سال ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف میچ جیتا تھا، تو کیا اس منطق کے مطابق ٹیم کو بھی ایجنٹ کہا جائے گا۔
کھیڑا نے علی توقیر شیخ اور سی ڈی کے این نامی تنظیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی تنظیم سے تعلق کو بنیاد بنا کر الزامات عائد کئے جا رہے ہیں تو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ماضی میں انہی افراد یا اداروں کی خدمات کس نے حاصل کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ۲۰۱۳ء میں گجرات حکومت نے بعض منصوبوں میں ان افراد کے ساتھ تعاون کیا تھا۔
اپنے بیان کے اختتام پر پون کھیڑا نے کہا کہ ملک میں سنجیدہ مسائل موجود ہیں لیکن بیانات کے ذریعے فضا کو کشیدہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ اپنے وزرائے اعلیٰ کے بیانات پر توجہ دیں اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو یقینی بنائیں۔
بسواشرما کے بیان کو گورو گوگوئی نے بھی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ ایکس پر اپنے جوابی بیان میں انہوں نے کہاکہ’’مجھے دہلی اور آسام کے صحافیوں پر ترس آتا ہے جنہیں صدی کی بدترین پریس کانفرنس برداشت کرنی پڑی۔ یہ سی گریڈ فلم سے بھی بدتر تھی۔ نام نہاد سیاسی طور پر ہوشیار وزیر اعلیٰ نے سب سے زیادہ مضحکہ خیز اور جعلی مسائل اٹھائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’یہ سپر فلاپ پریس کانفرنس ہماری ’زوموئے پریورتن یاترا‘ کے برعکس ہے، جو وزیر اعلیٰ اور ان کے خاندان کے اراکین کے زیر قبضہ۱۲؍ہزار بیگھہ اراضی کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔‘‘خیال رہے کہ بسوا شرما نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میںگوگوئی کو نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ پاکستانی سفارت خانے کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا گیاتھا۔اس کے بعد اس معاملے کی ابتدائی جانچ آسام پولیس کی تشکیل کردہ ایس آئی ٹی کے ذریعہ کی گئی تھی۔ اس جانچ کی رپورٹ حکومت کے سامنے آئی تو اس کی بنیاد پر مزید تفتیش کیلئے سی آئی ڈی پولیس اسٹیشن میں باضابطہ رپورٹ درج کرائی گئی۔ اس پر غور و خوض کے بعد کابینہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الزامات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس معماملے کی جانچ مرکزی ایجنسی سے کرائی جانی چاہئے۔