کانگریس کا سخت حملہ، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کے مفادات سے سمجھوتہ کا الزام لگایا
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 8:21 AM IST | Mumbai
کانگریس کا سخت حملہ، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کے مفادات سے سمجھوتہ کا الزام لگایا
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے تعلق سے سنیچر کو نئی دہلی اور واشنگٹن کے مشترکہ بیان کے بعد کانگریس نے پھر اس معاہدہ کے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’’نریندر کا مکمل سرینڈر ‘‘ قرار دیا۔ پارٹی کے میڈیا شعبہ کے انچارج پون کھیڑا نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ اس ملک اور اس کے عوام کے ساتھ غداری ہے۔ انہوں نےمتنبہ کیا کہ ہندوستان جلد ہی امریکی مصنوعات کی ڈمپنگ گراؤنڈ بن جائے گا اور مقامی کسانوں ،چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’یہ معاہدہ ہندوستان کے ہر اس اصول کے خلاف ہے جس پر یہ ملک کھڑا رہا ہے۔ یہ ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے وزیراعظم کے نام کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ نریندر کی طرف سے مکمل سرینڈر ہے۔‘‘ تجارتی معاہدہ کیلئے انگریزی لفظ ’’ڈیل ‘‘ کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہاکہ’’میں اسے ڈیل کہنا نہیں چاہتا، کیونکہ ڈیل برابری کی ہوتی ہے اور میز کے دونوں طرف بیٹھ کر بات سنی جاتی ہے۔ جب آپ کے سر پر بندوق رکھی ہو تو آپ اسے ڈیل نہیں کہہ سکتے… یہ بلیک میل ہے، یہ سرینڈر ہے۔‘‘
مرکزی وزیر پیوش گوئل کے اس اعلان کے برخلاف کہ نئی دہلی نے امریکی ڈیری مصنوعات پر درآمدی ٹیکس میں رعایت نہیں دی ہے کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’اس ڈیل سے کسانوں کی کمر مزید ٹوٹ جائے گی اور آنے والے دنوں میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ ہندوستان میں زراعت کو کس طرح تباہ کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کااظہار کیا کہ یہ تجارتی معاہدہ وزیر تجارت پیوش گوئل کے بیرونِ ملک گئے بغیر ہی طے پا گیا۔ انہوں نے معاہدہ میں اگلے ۵؍سال میں امریکہ سے۵۰۰؍ ارب ڈالر مالیت کی خریداری کی شرط کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکہ کیلئے ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ کھیڑا نے متنبہ کیا کہ ہندوستان کا امریکہ سے درآمد کا بل جو پہلے۴۰؍ سے۴۲؍ ارب ڈالر تھا، اب۱۰۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔