گزشتہ دنوں آسام کے وزیراعلیٰ نے مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار جس انداز میں کیا وہ ایک ریاست کے سربراہ کو قطعی زیب نہیں دیتا۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 11:33 AM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
گزشتہ دنوں آسام کے وزیراعلیٰ نے مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار جس انداز میں کیا وہ ایک ریاست کے سربراہ کو قطعی زیب نہیں دیتا۔
بی جے پیحکومت والی ریاستیںخصوصاً اترا کھنڈ، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کا ذکر متواتر میڈیا میں ہوتا رہتا ہے۔ ان ریاستوں کا تذکرہ میڈیا میں اس وجہ سے نہیں ہورہا ہے کہ صوبائی حکومتوں نے ترقیاتی کاموں میں دیگر ریاستوں کے مقابلے بہتر اور موثر کارکردگی انجام دی ہے بلکہ ان کا ذکر اسلئے ہورہا ہے کہ ان ریاستوں کے ارباب اقتدار اور دیگر یرقانی عناصر نفرت اور تشدد کو سماجی رجحان کے طور پر قائم کرنے کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس اورا نتظامیہ ان کوشش کا سدباب کرنے کے بجائے ان عناصر کے آگے جس قدد مجبور اور بے بس نظر آر ہے ہیں وہ صریح طور پر ان آئینی التزامات کی پامالی کے مترادف ہے جو التزامات بلا تفریق ملک کے تمام شہریوں کو یکساں انسانی حقوق فراہم کرتے ہیں۔ان ریاستوں میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت کا دائرہ اس حد تک وسیع ہوگیا ہے کہ اب شرپسند عناصر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کیلئے ایسے بیہودہ اقدام اور ان اقدام کے دفاع میں ایسی غیر منطقی اور بے سر پیر کی تاویلات پیش کرنے لگے ہیں جو وطن عزیز کے سماجی اور تہذیبی ارتقا کو مشکوک بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عدالتوں کے تئیں عوام کا اعتبار کم ہونا ایک جمہوری ملک کیلئے قطعی اچھی علامت نہیں
اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک بزرگ تاجر کو یرقانی شرپسندوں نے اسلئے نشانہ بنایا کہ ان کی دکان کا نام ’بابا کلاتھ ہاؤس‘ تھا۔ ان شرپسندوں کا دعویٰ ہے کہ لفظ ’بابا‘ ان کے دیوتا کیلئے استعمال ہوتا ہے لہٰذا دکان کا نام تبدیل ہونا چاہئے۔اس مطالبے کی تعمیل کیلئے ہنگامہ آرائی کر نےوالے ان شرپسندوں کو جب دیپک کمار نامی شخص نے سمجھانے اور ہنگامہ آرائی سے باز آنے کی نصیحت کی تو امن و اتحاد کے حامی اس شخص کے خلاف ہی محاذ کھول دیا گیا۔ دیپک کی اس کوشش کی پذیرائی اس انداز میں ہوئی کی اس کے خلاف ہی ایف آئی آر کر دی گئی ۔گزشتہ بارہ برسوں کے دوران اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ شرپسندوں کی نکیل کسنے کے بجائے بنام قانون انہی لوگوں کے خلاف کارروائی کو ترجیح دیتے ہیں جو اس طرز کی شرپسندی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔چونکہ شرپسندوں کا واحد اور حتمی مقصد مسلمانوں کو مسلسل عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رکھنا ہے لہٰذا وہ اس پر بھی مطلق غور نہیں کرتے کہ مسلمانوں کا قافیہ تنگ کرنے کیلئے وہ جن امور پر معترض ہوتے ہیں ،ان کا ملک کی سماجی و تہذیبی ترقی اور لسانی تنوع سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔اس تنازع میں ہونا یہ چاہئے تھا کہ انتظامیہ اور پولیس شرپسندوں کو یہ بتاتی کہ ’بابا‘ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا استعمال بطور احترام والد یا کسی سن رسیدہ شخص کیلئے ہوتا ہے۔ اس لفظ کی مقبولیت کے سبب ہندی بولنے والے بھی انہی معنوں میں اس کا استعمال کرنے لگے ہیں ۔یہ ہندی یا سنسکرت زبان کا لفظ نہیں ہے۔انگریزی میں یہ لفظ ’بے بی ‘ کے متضاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اوراس طرز استعمال سے اس کی اصل معنوی حیثیت برعکس صورت اختیار کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کا ہوائی جہاز حادثہ: شہری ہوابازی کی ناقص کارکردگی اور حکومت کی بے حسی
وطن عزیز میں مسلمانوں کے خلاف آئے دن جو ہنگامہ آرائی ہورہی ہے اس میں ان پہلوؤں پر غور کرنے اور ایسی بیہودگی پر شرپسندوں کی سرزنش کرنے سے دانستہ دامن بچانے والی پولیس اور انتظامیہ دراصل اس سماجی اتحاد و یکجہتی کی روایت کو نقصان پہنچا رہے ہیں جو عالمی سطح پر ملک کی انفرادیت اور سربلندی کا وسیلہ رہی ہے۔یرقانی عناصر نے ملک گیر سطح پر اور خصوصاً ان ریاستوں میں سماجی سطح پر جو نفرت آمیز فضا تعمیر کی ہے اس میں ایسی امیدیں دھندلی پڑتی جا رہی ہیں۔ ریاست کا سربراہ جب خود ہی ایوان میں کٹھ ملاؤں جیسے الفاظ استعمال کرے تو ریاست میں سماجی اتحاد کی روایت کا کمزور پڑنا فطری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات
ان ریاستوں میں ارباب اقتدار اور ان کی پشت پناہی میں پروان چڑھنے والے یرقانی شر پسندوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر سطح پر جو محاذ کھول دیا ہے وہ یقیناً ایک مہذب اور ترقی یافتہ سماج کیلئے افسوس کا مقام ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں اب آسام کے وزیر اعلیٰ ان ریاستوں پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انھوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار جس انداز میں کیا وہ ایک ریاست کے سربراہ کو قطعی زیب نہیں دیتا۔ ان کی باتوں اور کسی سڑک چھاپ ٹپوری کی باتوں میں فرق مشکل ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کو سماجی اور معاشی طور پر کمزور بنانے کی نفرت آمیز تدابیر سجھانے کے علاوہ انھوں نے لاکھوں مسلمانوں کے ووٹ حذف کروانے کی جو بات کہی وہ صریح طور پر ملک کے آئین کو چیلنج ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن سمیت وہ تمام ادارے جن پر آئین کے تحفظ کا دار و مدار ہے وہ بھی سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔سیکولرزم اور سماجی اتحاد کے حامیوں نے جب اس پر اعتراض کیا تو بسوا شرما نے بڑی چالاکی سے اس بیان کو ان دراندازوں سے منسوب کر دیا جو ناجائز طریقہ سے ملک میں داخل ہوئے ہیں۔یہ جواز بجائے خود اس قدر لایعنی ہے کہ معمولی فہم کا حامل شخص بھی اس پر یقین نہیں کر سکتا کیوں کہ مرکز اور ریاستی سطح پر اقتدار اور اختیار بی جے پی کے پاس ہی ہے ۔ ایسی صورت میں اگر گھس پیٹھئے ملک میں داخل ہورہے ہیں تو یہ ان حکومتوں کی کارکردگی کو مشکوک بناتا ہے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو بڑھاوا دینے والے بیانات اور اقدام دراصل ان مکروہ انسانی رویوں کو سماجی رجحان کے طور پر قائم کرنے کی سازش ہے جس کی زد پر ابھی تو ملک کی اقلیتیں خصوصاً مسلمان ہیں لیکن وسیع تناظر میں یہ سازش ملک کی عظمت اور وقار کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔