• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات کا موضوع مرکزی بجٹ اور ششی تھرور کی کانگریس قائدین سے ملاقات رہا

Updated: February 08, 2026, 11:10 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

رواں ہفتے ملکی سیاست اور معیشت کے منظرنامے پر کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے قومی مباحث کو ایک نئی سمت دی۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے مرکزی بجٹ میں وزیر خزانہ نے حال کے تلخ زمینی حقائق کے بجائے مستقبل کے خوش نما وعدوں پر زیادہ انحصار کیا جسے متعدد اخبارات نے ’سبز باغ‘ قرار دیتے ہوئے حکومت کی نیت پر سوالات اٹھائے۔ اسی دوران ہندوستان اور امریکہ کے مابین طے پانے والی ڈیل غیر اردو اخبارات کی سرخیوں میں چھائی رہی جہاں ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے اسے یکطرفہ قرار دے دیا۔

Shashi Tharoor hails from the state of Kerala where he is the biggest face of the Congress. Photo: INN
ششی تھرور کا تعلق ریاست کیرالا سے ہے جہاں وہ کانگریس کا سب سے بڑا چہرہ ہیں۔ تصویر: آئی این این

رواں ہفتے ملکی سیاست اور معیشت کے منظرنامے پر کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے قومی مباحث کو ایک نئی سمت دی۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے مرکزی بجٹ میں وزیر خزانہ نے حال کے تلخ زمینی حقائق کے بجائے مستقبل کے خوش نما وعدوں پر زیادہ انحصار کیا جسے متعدد اخبارات نے ’سبز باغ‘  قرار دیتے ہوئے حکومت کی نیت پر سوالات اٹھائے۔ اسی دوران ہندوستان اور امریکہ کے مابین طے پانے والی ڈیل غیر اردو اخبارات کی سرخیوں میں چھائی رہی جہاں ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے اسے یکطرفہ قرار دے دیا۔ادھر ششی تھرور کی کانگریس قائدین راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے سے ملاقات کو اخبارات نے مختلف زاویوں سے دیکھتے ہوئے پارٹی کے اندرونی تضادات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتےمہاراشٹر کے بیشتر اخبارات نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو موضوع بنایا

کیا محض اعلانات سے عوام کا پیٹ بھرے گا؟

سامنا( مراٹھی،۳ ؍فروری)

’’مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں مالی سال کا جو بجٹ پیش کیا ہے اسے اگر’خوابوں کی سوداگری‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس بجٹ میں حال کی تلخ حقیقتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ۲۰۴۷ء کے سنہرے ہندوستان کا نقشہ تو کھینچا گیا ہے لیکن عام آدمی کی جیب اور کسان کی تھالی کیلئے کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ ۸۵؍ منٹ کی طویل تقریر میں اعداد و شمار کی جادوگری تو خوب دکھائی گئی مگر زمینی سطح پر ریلیف کا خانہ خالی ہی رہا۔بجٹ کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے کسی ماہرِ معاشیات کی ضرورت نہیں، شیئر بازار کا ردعمل ہی کافی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار اتوار کے روز بجٹ کی مناسبت سے بازار کھلا لیکن وزیر خزانہ کی تقریر ختم ہوتے ہی وہاں ایسا زلزلہ آیا کہ سرمایہ کاروں کے ہوش اڑ گئے۔ محض پانچ منٹوں کے اندر سینسیکس ۲۴۰۰؍  پوائنٹس اور نفٹی ۷۰۰؍ پوائنٹس تک گر گیا جس کے نتیجے میں عوام کے تقریباً ۱۶؍ لاکھ کروڑ روپے پلک جھپکتے ہی ڈوب گئے۔ ایک طرف سرکاری حلقے اس بجٹ کو اصلاحات ایکسپریس قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف بازار کی یہ مندی چیخ چیخ کر کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہے۔اس مایوسی کی سب سے بڑی وجہ وہ نئے ٹیکس ہیں جو آپشن ٹریڈنگ اور فیوچرز پر لگائے گئے ہیں۔ درمیانے طبقے کا وہ ملازم پیشہ طبقہ جو اپنی جمع پونجی شیئر بازار یا میوچل فنڈز میں لگاتا ہے، اس نئےبوجھ سے خوفزدہ ہے۔ رہی سہی کسر انکم ٹیکس میں کسی قسم کی رعایت نہ دے کر پوری کر دی گئی۔ مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام کو امید تھی کہ ٹیکس کی حد میں اضافہ ہوگا، مگر وزیر خزانہ نے اس محاذ پر خاموشی اختیار کر کے سب کو مایوس کیا۔بجٹ میں کچھ منصوبے یقیناً خوش آئند ہیں جیسے ہائی اسپیڈ ریلوے کوریڈور، لڑکیوں کے ہاسٹلز اور کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں کمی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان چند اعلانات سے ملک کے اس بڑے طبقے کا پیٹ بھرے گا جو زراعت سے وابستہ ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے بیشتر اخبارات نے منی پور کے حادثے، اور اترا کھنڈ کے واقعے کو موضوع بنایا

تجارتی معاہدے پر خدشات کے بادل

پربھات( مراٹھی،۴؍فروری)

’’گزشتہ روز ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہی ہے لیکن اگر اعداد و شمار کی گہرائی میں جائیں تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان سے آنے والے مال پر درآمدی ڈیوٹی ۲۵؍فیصد سے کم کر کے ۱۸؍ فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔بظاہر یہ ۷؍ فیصد کی رعایت لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ چند سال پہلے تک یہی ڈیوٹی محض۳ ؍سے ۴ ؍فیصد ہوا کرتی تھی یعنی پہلے بوجھ بہت زیادہ بڑھایا گیا اور اب تھوڑی سی رعایت دے کر اسے بڑی جیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔اس معاہدے کا  تشویشناک پہلو وہ رعایت ہے جو ہندوستان نے امریکہ کو دی ہے۔ اب امریکہ سے آنے والی زرعی اور دودھ سے بنی مصنوعات پر ہندوستان کوئی ٹیکس وصول نہیں کرے گا۔ اس کا براہ راست اثر ہمارے کسانوں پر پڑے گا۔ جب امریکی کھیتوں کا مال ہندوستانی منڈیوں میں انتہائی سستی قیمت پر دستیاب ہوگا تو ہمارا مقامی کسان اپنی فصل کیسے بیچے گا؟ یہ خدشہ اپنی جگہ درست ہے کہ صارفین کو شاید چند چیزیں سستی مل جائیں لیکن اس کی قیمت کسانوں کی معاشی تباہی کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے۔بات صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ہندوستان بیک فٹ پر نظر آ رہا ہے۔ امریکی صدر کے بیانات سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ ہندوستان اب روس اور ایران سے تیل خریدنے کے بجائے وینزویلا کا رخ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایران میں ہندوستان کے اہم اسٹریٹجک منصوبے’چاہ بہار بندرگاہ‘ کے حوالے سے بھی امریکہ ہی فیصلے کرتا دکھائی دے رہا ہے بجٹ میں اس منصوبے کیلئے کسی رقم کا مختص نہ ہونا ان خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کئی اخبارات نے ایران کی صورتحال، خطے اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ کو موضوع بنایا

 تھرور کو چھوڑنا کانگریس کیلئے نقصان کا سودا ہوگا

نوبھارت( ہندی، ۲؍فروری)

’’کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور چاہے جتنا بھی دعویٰ کریں کہ وہ اور پارٹی قیادت ایک ہی ہیں اور سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے لیکن پارٹی کے اندرونی معاملات سے واقفیت رکھنے والے حلقے شاید ہی اس پر یقین کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کانگریس جس نہج پر چل رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ گاندھی خاندان کی بالادستی اور کسی دوسرے کا مشورہ نہ ماننے کی روایت نے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اسی رویے سے دل برداشتہ ہو کر جیوترادتیہ سندھیا، غلام نبی آزاد اور کپل سبل جیسے قد آور لیڈروں نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔موجودہ حالات میں جب پارٹی کے اندر مشاورتی عمل اور اجتماعی قیادت کا فقدان ہے ششی تھرور کا یہ کہنا کہ وہ ہائی کمان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں حقیقت سے زیادہ ایک سیاسی مصلحت نظر آتی ہے۔ ممکن ہے کہ حالیہ ملاقاتوں میں راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے نے انہیں اہمیت دینے کا وعدہ کیا ہو لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس اپنی پرانی روش بدل کر سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟پارٹی کی مسلسل ناکامیوں پر خود اپنوں نے بھی انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔ حال ہی میں شکیل احمد نے پارٹی کی ناکامیوں کا ذمہ دار براہ راست راہل گاندھی کی قیادت کو ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ اپوزیشن کے انڈیا اتحاد میں شامل ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو جیسےلیڈران بھی اپنی ریاستوں میں کانگریس کو وہ اہمیت دینے کو تیار نہیں جس کی وہ خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیاسی اتحاد ابھی تک محض ایک کھوکھلا نعرہ ثابت ہو رہا ہے۔جہاں تک ششی تھرور کا تعلق ہے وہ ریاست کیرالا میں کانگریس کا سب سے بڑا چہرہ ہیں۔ اگر پارٹی انہیں نظر انداز کرتی ہے تو اسے ریاست میں بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑے گی۔ اگرچہ انہوں نے صدارتی انتخاب لڑ کر پارٹی کے جمہوری کردار کو زندہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن قیادت نے اسے بغاوت سے تعبیر کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نےعمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت اور گرمیت کی پرول کو موضوع بنایا

دال میں کچھ کالا نہیں، پوری دال ہی کالی ہے

دی ٹائمز آف انڈیا( انگریزی، ۳۰؍ جنوری)

’’کیا ملک کا امیر ترین شہر اب بدعنوانی کا بھی سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے؟ ابھی گوکھلے برج کے شرمناک اسکینڈل کو دو سال بھی نہیں گزرے کہ ممبئی میں سڑک کی تعمیر کا ایک ایسا نمونہ سامنے آیا ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میرا-بھائندر میں ایک نیا فلائی اوور بنایا گیا ہے جہاں چار لین کی چوڑی سڑک اچانک سکڑ کر صرف دو لین کی رہ جاتی ہے۔ اس پل کی تصویریں اتنی حیران کن ہیں کہ اسے دیکھ کر یقین نہیں آتا لیکن متعلقہ ادارے کا کہنا ہے کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ عجیب و غریب ڈیزائن ایک مصروف چوراہے پر ٹریفک کو بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ممبئی کے شہری اس منطق سے بالکل متفق نہیں ہیں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ ڈیزائن ٹریفک کی روانی یا سڑک کی حفاظت میں کیسے مددگار ہو سکتا ہے؟ حکام کا اس سنگین غلطی کو ایک سوچا سمجھا انجینئرنگ فیصلہ قرار دینا یہ بتاتا ہے کہ دال میں صرف کچھ کالا نہیں ہے بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو ۲۰۲۴ء میں گوکھلے برج کے دوران یہ انکشاف ہوا تھا کہ دو پلوں کے جوڑ کے درمیان دو میٹر کا فاصلہ رہ گیا تھا گویا گاڑیوں نے ایک پل سے دوسرے پل پر چھلانگ لگانی ہو۔ اسی طرح ۲۰۲۵ء میں پلاوا برج کو کھلتے ہی بند کرنا پڑا کیونکہ اس کی سڑک ٹوٹنا شروع ہوگئی تھی۔ایسی خبریںپورے ملک سے آ رہی ہیں۔ ۲۰۲۴ء  میں بہار میں ۲۰؍ صرف دنوں میں ۱۲؍ پل گر گئے۔ حد تو یہ ہے کہ بھوپال میں سڑک پر ۹۰؍ ڈگری کا بالکل سیدھا موڑ دے دیا گیا جس پر صرف سر ہی پیٹا جا سکتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK