Inquilab Logo Happiest Places to Work

دُرگا کھوٹے نے جب فلموں میں کریئر بنایا، خواتین اداکارہ بننا پسند نہیں کرتی تھیں

Updated: March 29, 2026, 6:37 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

’مغل اعظم‘ میں ان کی خوب تعریف ہوئی تھی جس میں ان کی اداکاری کے تین روپ دیکھنے کو ملے تھے، پہلی اکبر اعظم کی چہیتی بیگم، دُوسری ایک برہم شہزادے کی شفیق ماں اور تیسری ایک راجپوت مہارانی۔

Durga Khote. Photo: INN
درگا کھوٹے۔ تصویر: آئی این این

یہ بات ۵؍اگست ۱۹۶۰ء کی ہے جب فلم ’مغل اعظم‘ کے ۱۵۰؍ پرنٹ ایک ہی دِن میں ایک ساتھ نمائش کیلئے پیش کیے گئے تھے۔ فلم کی ریلیز کے بعد جہاں پرتھوی راج کپور، دلیپ کمار، مدھوبالا، اجیت اور مراد کی اُس فلم میں بے مثال اداکاری کے چرچے ہوئے، وہیں اکبر اعظم کی چہیتی مہارانی جودھابائی کے کردار کو یادگار بنانے والی دُرگا کھوٹے کی بہترین اداکاری کو بھی عوام و خواص نے بے حد سراہا اور پسند کیا تھا۔ اپنے ہائو بھائو اور چہرے کے تاثرات سے وہ ایک مضبوط قسم کی راجپوت راجکماری نظر آرہی تھیں۔ اُس کردار میں دُرگاکھوٹے کے تین روپ دیکھنے کو ملے تھے۔ ایک طرف وہ اکبر اعظم کی چہیتی بیگم تھیں، دُوسری طرف ایک ہٹیلے اور اکلوتے شہزادے سلیم کی شفیق ماں تھیں اور تیسری طرف وہ ایک راجپوت مہارانی دِکھائی دے رہی تھیں۔ 
دُرگا کھوٹے کا جنم۱۴؍جنوری، ۱۹۰۵ء کو گوا کے ایک معزز خاندان میں ہوا تھا۔ اُن کی جوانی کے دِنوں میں ہندوستان میں سنیما نے اپنے قدم جمانے شروع کر دیے تھے مگر خواتین اور اُن کے اہلِ خانہ فلموں میں عورتوں کے کام کرنے کو معیوب سمجھتے تھے۔ دُرگا کھوٹے نے خاندان والوں کی مخالفت کے باوجودفلموں میں ایک مثالی عورت کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ 
ان کے داداایک ریاست کے دیوان تھے۔ والد پانڈورنگ شیام رائو ایک قابل بیرسٹر تھے اور ان کی والدہ منجولا انگریزی زبان کی اچھی جانکار اور ایک بااُصول خاتون تھیں۔ اُنہوں نے اپنی بیٹی کی روایتی انداز میں پرورش کرنے کے ساتھ ہی جدید اور نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق بھی تربیت کی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: پرفیکشن جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، اپنی کمیوں کا جشن منانا چاہیے:سوربھ شکلا

دُرگا کھوٹے کو اداکاری کا شوق اپنے والد پانڈورنگ شیام رائو کی وجہ سے ہوا تھا۔ شیام رائو کو مراٹھی ڈراموں کا زبردست شوق تھا اور بال گندھرو کے ڈرامے وہ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ باپ اور بیٹی دونوں اکثر ساتھ ساتھ ڈراما دیکھتے تھے۔ اِن ڈراموں کو دیکھ دیکھ کر اُن کو اداکاری کا شوق غیراداری طور پر ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فلموں میں بے اِنتہا کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی وہ کافی عرصے تک مراٹھی ڈراموں سے وابستہ رہیں۔ ممبئی کی ڈراما سوسائٹی ’اِپٹا‘ (IPTA) سے بھی کئی برسوں تک اُن کا ساتھ رہا۔ 
دُرگا کھوٹے پانچ چھ دہائیوں تک ہندی فلموں اور مراٹھی اسٹیج کے پروگرام سے جڑی رہیں۔ مراٹھی اسٹیج پر’مرنالنی‘ ناٹک نے اُن کی اداکاری کی دھوم مچا دی تھی۔ ۱۷؍برس کی عمر تک اُن کا گھریلو نام بانوُ (Banoo) تھا۔ اِس عمر میں اُن کی شادی ۱۹۲۲ء میں کروڑپتی ٹھیکیدار کے بیٹے وِشواناتھ سے ہو گئی اور وہ بانوُ سے دُرگا بن گئیں۔ بچپن میں دونوں ایک ساتھ کھیلے تھے۔ وشوناتھ ہنس مکھ، خوبرو اور خرچیلے مزاج کا نوجوان تھا۔ بڑی دُھوم دَھام سے اُن کی شادی ہوئی تھی۔ اُن کا پہلا بیٹا بکل پیدا ہوا۔ درگا کھوٹے اِتنے اونچے خاندان کی بہو بن کر بہت خوش تھیں۔ اُنہیں دنوں اُن کے سسر ساری دولت، مکان اور دُوسری املاک سٹے میں ہار گئے۔ شوہر کے پاس کوئی ہنر بھی نہیں تھا، لہٰذا ۱۵۰؍ روپے کی ملازمت ملی۔ وہ محنتی نہیں تھے، اس کا نتیجہ نکلا کہ وہ دمے کے مریض ہو گئے۔ انہی دنوں اُن کے چھوٹے بیٹے ہرین کا جنم ہوا، تو گھر کے اِخراجات مزید بڑھ گئے۔ ۲۶؍ سال کی عمر میں درگا بیوہ ہوگئیں۔ 
اُنہی دنوں درگا کھوٹے کی چھوٹی بہن فلمساز موہن بھونانی کو لے کر گھر آئیں۔ موہن بھونانی اُن دنوں فلم ’فریبی جال‘ بنا رہے تھے۔ انہوں نے اپنی فلم میں ۱۰؍ منٹ کام کرنے کیلئے ۲۵۰؍ روپے کی پیش کش دُرگا کھوٹے کے سامنے رکھی۔ دُرگا کھوٹے نے شوہر سے منظوری لے کر یہ آفر قبول کر لیا۔ اِس فلم کی پبلسٹی میں فلمساز نے دُرگا کھوٹے کے نام اور اُن کے فلمی بیک گرائونڈ کا بھر پور فائدہ اُٹھایا کیونکہ اس زمانے میں طوائفیں بھی فلموں میں کام کرنا پسند نہیں کرتی تھیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے مہذب خاندان کی کافی بدنامی ہوئی۔ اخبارات میں اُلٹی سیدھی باتیں شائع ہوئیں۔ سسرالی خاندان والوں نے اُن کو طعنے دیئے، مگر ان کے والدین نے ایسے نازک دَور میں ان کا ساتھ دیا۔ ان ہی دنوں وی شانتارام کی فلم کمپنی ’پربھات پکچرس‘ سے فلم ’اجودھیا کا راجہ‘ میں کام کرنے کا آفر ملا۔ پہلے تو انہوں نے اپنے حالات کے مدنظر انکار کر دیا مگر وی شانتارام کے سمجھانے پر اور اپنے والدین کے حوصلہ دلانے پر انہوں نے یہ آفر قبول کر لی۔ 
دھارمک اور تاریخی فلموں کے کرداروں کیلئے دُرگا کھوٹے کی شخصیت بالکل نپی تلی ہوئی تھی۔ ’ایودھیا کا راجہ‘ میں کام کرنے کے بعد دُرگا کھوٹے نے سخت محنت کو اپنا شعار بنا لیا۔ ہیروئن کیلئے کیسی فیگر ہونی چائیے؟ اداکاری کے ساتھ کون کون سی چیزیں لازمی ہیں۔ سبھی کو انہوں نے پورا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنا وزن کم کیا اور جسم کو چھریرا بنانے کی بھی کوشش کی کیونکہ قد کاٹھی کے حساب سے وہ بہت صحتمند، لمبی چوڑی اور رعب دار تھیں۔ ۱۹۴۵ء میں اُن کی تین فلمیں نمائش کیلئے پیش ہوئیں۔ وشرام بیڈیکر کی ’لاکھا رانی‘، رام دریانی کی ’پنادائی‘ اور کشور ساہو کی ’ویرگتی‘۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’آخری سپر اسٹار‘‘ کا تصور غلط ہے: عامر خان

اِنسان کو جب کامیابی ملتی ہے تو اُس کی خواہش مزید آگے بڑھنے کی ہوتی ہے۔ دُرگا کھوٹے کے اَندر بھی ایسی آرزو نے جنم لیا جو اُنہیں دیوکی بوس کے ساتھ کام کرنے کیلئے کلکتہ لے گئی، جہاں اُنہیں اپنی اداکاری کو مزید نکھارنے کا موقع ملا اور ’سیتا، راج رانی اورمیرا‘ جیسی فلموں میں اُنہوں نے کام کیا۔ ’جیون ناٹک‘ اُن کی ایک ایسی کامیاب فلم ثابت ہوئی جس میں وہ اداکاری کی بلندی پر دِکھائی دیں۔ فلم بینوں نے بھی اُن کے فن کا اعتراف کیا۔ 
۱۹۳۸ء میں انہوں نے پروڈکشن کمپنی قائم کی اور اُس کے بینر تلے فلم ’ساتھی‘ کی تخلیق کی جو ایک اِنقلابی فلم تھی اور اپنے وقت کے حساب سے اِس میں کچھ نئی بات کہنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اِس فلم میں منشیات سے پیدا ہونے والے مسائل کو اُجاگر کیا گیا تھا۔ 
ان کی بطور ہیروئن آخری فلم ’کل کی بات‘ تھی۔ ۱۹۳۷ء میں ریلیز اس فلم میں سریندر نے ہیرو کا رول ادا کیا تھا۔ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی تھی جسے ایک راجہ عریاں ہوکر رقص کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ فلم اپنے موضوع کی وجہ سے سنسر بورڈ کے چنگل میں پھنس گئی تھی اور بڑی شواریوں کے بعد پردۂ سیمیں تک پہنچ سکی تھی۔ ان کی زِندگی کا تیسرا پڑائو تب شروع ہوا جب اُنہوں نے زِندگی کی اُس حد کو پار کر لیا جو فلمی دُنیا میں ہیروئن کیلئے مخصوص ہوتا ہے۔ اِس طرح وہ ہیروئن سے کریکٹر آرٹسٹ بن گئیں۔ ۱۹۴۱ء میں اُنہوں نے ’چرنوں کی داسی‘ فلم قبول کی، جس میں اُنہوں نے پہلی بار ساس کا کردار ادا کیا تھا۔ اُن کی یہ ایک یادگار فلم تھی جس کی تعریف اُس وقت کی مشہور ہیروئنوں نے بھی کی تھی۔ ’مغل اعظم (۱۹۶۰ء)، بدائی (۱۹۷۴ء) اوربابی (۱۹۷۳ء)‘ ان کی یادگار فلمیں ہیں۔ انہوں نے تقریباً دو سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ۱۹۶۳ء میں ریلیز ایک انگریزی فلم ’دِی ہائوس ہولڈر‘ میں بھی اُنہوں نے اپنے فن کا جادو جگایا تھا، جس میں ان کے علاوہ ششی کپور، اَچلا سچدیو اور لیلا نائیڈو بھی تھے۔ دیویکا رانی کی طرح انہیں بھی’فرسٹ لیڈی آف انڈین سنیما‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔ 
اپنے فلمی دَور کی شروعات میں دُرگا کھوٹے ایک نوجوان، الہڑ، شوخ اور چنچل قسم کی اداکارہ کے طور پر ہیروئن کے کردار میں کئی فلموں میں جلوہ گر ہوئیں۔ بعد ازاں انہوں نے رفتہ رفتہ بھابی اور ماں کے سنجیدہ کردار ادا کرنے شروع کر دیئے۔ اس طرح اُن کی مقبولیت میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی۔ آخری دنوں میں انہوں نے دادی کے کردار میں بھی مقبولیت حاصل کی۔ وہ اداکارہ ہونے کے ساتھ ہی ایک سمجھدار قلمکار، ایک مکمل گرہستن، اور ممتا سے بھرپور ماں اور دادی بھی تھیں۔ ایک فلمساز کی حیثیت سے بھی اُنہوں نے خود کو ثابت کیا اور وہ ایک بہترین مقررہ بھی تھیں۔ 
درگا کھوٹے نے ۴۰؍ برس کی عمر میں نواب زادہ محمد رشید سے شادی کی اور شادی سے قبل ہی اُنہوں نے رشید صاحب سے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ’’اپنے بچوں کیلئے ایک ذمہ دار رہنما کی بھی ذمہ داری آپ کو نبھانی پڑے گی اور میں اپنی مالی معاشی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے فلموں میں کام کرنا بھی نہیں چھوڑوں گی۔ ہاں میں آپ کی معاشی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکوں گی۔ ‘‘
رشید صاحب کے راضی ہونے پر ہی ۱۹۴۳ء میں انہوں نے رشید صاحب سے شادی کی۔ اس شادی سے فلمی دُنیا میں تہلکہ مچ گیا اور اُن کے کئی رشتوں کو دھکا بھی لگا۔ اُن کی والدہ اور بھائی اُن سے ناراض ہو گئے۔ حالانکہ دُرگا کھوٹے اپنے گھریلو اور باہر کے اِس طوفان کو خود پر جھیلتے ہوئے اپنے کام میں لگی رہیں۔ رشید صاحب نے دُرگا کھوٹے کے دونوں بیٹوں کو اپنی محنت سے اُن کے پیروں پر کھڑا ہونے میں پوری مدد کی۔ کچھ ہی عرصہ بعد دُوسری جنگ عظیم ختم ہوتے ہی رشید صاحب کی ایئرفورس کی ملازمت چھوٹ گئی اور وہ بے روزگار ہو گئے۔ نوابی ٹھاٹ باٹ اور خرچیلا مزاج ہوتے ہوئے وہ کوئی کاروبار بھی نہ کر سکے، جس کی وجہ سے وہ بیوی پر ایک معاشی بوجھ بن گئے۔ دُرگا اُن کے بے روزگار دوستوں اور خود رشید سے بیزار نظر آنے لگیں۔ اُنہوں نے اُن کے دوستوں پر اپنے گھر کے دروازے بند کر لیے اور آہستہ آہستہ رشید سے بھی کنارہ کر لیا۔ آخرکار دونوں الگ ہوگئے۔ 
ان کی فلمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ۱۹۸۳ء میں انہیں ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے اعزاز’دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل ۱۹۵۷ء میں اُن کو پدم شری جیسے باوقار اعزاز سے بھی نوازا جا چکا تھا۔ ۲۲؍ستمبر ۱۹۹۱ء کو درگا کھوٹے نے ۸۶؍برس کی عمر میں زندگی کو الوداع کہا اور ممبئی کے اپنے گھر میں زندگی کی آخری سانس لی۔ اُنہوں نے اَپنی خود نوشت ’میں دُرگا کھوٹے‘ میں لکھا ہے کہ میں ہر جنم میں دُرگا کھوٹے ہی بننا پسند کروں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK