وہ بالی ووڈ کے پہلے سُپر اسٹار تھےجنہوں نے شاہانہ زندگی گزاری اورفلمی دنیا میں اسٹارڈم قائم کیا، انہوں نے ہی اسٹوڈیو کی ملازمت والی روایت کی زنجیروں کو توڑکر فلمی اداکاروں کو آزاد بھی کرایا۔
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 1:54 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
وہ بالی ووڈ کے پہلے سُپر اسٹار تھےجنہوں نے شاہانہ زندگی گزاری اورفلمی دنیا میں اسٹارڈم قائم کیا، انہوں نے ہی اسٹوڈیو کی ملازمت والی روایت کی زنجیروں کو توڑکر فلمی اداکاروں کو آزاد بھی کرایا۔
بالی ووڈ کے پہلے سُپراسٹار کےطور پر ہم عموماً راجیش کھنہ کا نام لیتے ہیں، اُس کے بعد سُپراسٹار امیتابھ بچن کو جانتے ہیں جبکہ سچائی یہ ہے کہ بہت پہلے بلیک اینڈ وہائٹ کے زمانے میں موتی لال کو بھی سپراسٹار کا درجہ مل چکا تھا۔ موتی لال کا جلوہ ایک الگ ہی قسم کا تھا، لوگوں کے پاس کاریں ہوا کرتی ہیں مگر اُس وقت موتی لال ہوائی جہاز اُڑایا کرتے تھے۔ جن لوگوں نے۱۹۵۶ء میں ریلیزراج کپور کی فلم ’جاگتے رہو‘ دیکھی ہے، وہ اس فلم کے ایک گانے پر لڑکھڑاتے ہوئے اداکار موتی لال کو کبھی نہیں بھول پاتے۔
موتی لال راج ونش۴؍دسمبر۱۹۱۰ء کو شملہ کے ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد ایک جانے مانے ماہر تعلیم تھے۔ موتی لال صرف ایک سال کے تھے کہ اُن کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ایسے میں ان کی پرورش اُن کے چچا نے کی جو ایک مشہور سول سرجن تھے۔ موتی لال کو پہلے شملہ کے ایک انگریزی میڈیم اسکول میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد اُتر پردیش میں اور پھر وہ دہلی میں منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے اسکول سے لے کر کالج تک کی تعلیم حاصل کی۔ وہ کافی عرصے تک دہلی میں رہے اور بعد میں نیوی میں داخلے کیلئے ممبئی چلے گئے جہاں ان کی ملاقات ایک اسٹوڈیو میں ساگر فلم کمپنی کے ہدایت کار کے پی گھوش سے ہوئی۔ انہوں نے موتی لال کا اسکرین ٹیسٹ لینے کے فوراً بعد اُن کو فلم’شہر کاجادو‘کیلئے سائن کر لیا جو ۱۹۳۴ء میں ریلیز ہوئی۔ وہ نیوی میں ملازمت کی غرض سے بمبئی آئے تھے، مگر یہاں آکر وہ بیمار ہو گئے، اسلئے نیوی کے امتحان میں نہیں بیٹھ سکے تھے۔ فلم ’شہر کا جادو‘ کے ہٹ ہوتے ہی ساگر فلم کمپنی نے دوبارہ موتی لال اور سبیتا دیوی کی جوڑی کو سی ایم لوہار کی ہدایت میں بنی فلم ’سلور کنگ‘ میں دُہرایا۔ اس فلم کے دیگر فنکاروں میں یعقوب، تارا بائی اور پانڈے تھے۔ ان دونوں فلموں میں موتی لال اور سبیتا دیوی کی جوڑی کو اس قدر پسند کیا گیا کہ ساگر فلم کمپنی نے اپنی اگلی چار فلموں، ’ڈاکٹر مدھولیکا، جیون لتا، لگن بندھن اورتھری ہنڈریڈ ڈیز اینڈ آفٹر‘ میں بھی انہی دونوں کو پیش کیا۔
اس کے بعد موتی لال رنجیت اسٹوڈیو چلے گئے۔ انہوں نے ہدایت کار محبوب خان کے ساتھ بھی کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ۱۹۳۷ء میں ’جاگیردار‘، ۱۹۳۸ء میں ’ہم، تم اور وہ‘، ۱۹۴۳ء میں ’تقدیر‘، ۱۹۴۲ء میں کیدار شرما کی فلم ’ارمان‘ اور ۱۹۴۴ء میں فلم’کلیان‘ میں کام کرکے انہوں نے کافی شہرت حاصل کی۔ سبیتا دیوی کے ساتھ کئی فلمیں لگاتار کامیاب ہونے کی وجہ سے دونوں کے معاشقے کے چرچے ہونے لگے۔ ایسے میں موتی لال نے اِن افواہوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کیلئے دہلی کی ایک لیڈی ڈاکٹر سے شادی کر لی۔ اس کے ساتھ ہی سبیتا کے ساتھ اُن کی کامیاب جوڑی ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گئی۔ موتی لال کی مقبولیت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کی شادی میں اُس زمانے کی کئی مقتدر ہستیوں نے شرکت کی تھی، جن میں ایک اہم نام سروجنی نائیڈو کا بھی ہے۔
موتی لال ہندستانی سنیما کے پہلے ایسے فطری اداکار تھے جنہوں نے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے کئی بہترین کرداروں کو زندگی بخشی۔ اُن کی چمکدار آنکھیں اور ہونٹوں پر ایک مخصوص قسم کی مسکراہٹ اُن کی پہچان بن گئی تھی۔ ان کی ایک فلم ’مستانہ‘ تھی جس میں انہوں نے چارلی چیپلن کی ’دی کِڈ‘ والا کردار ادا کیا تھا۔ ناقدینِ فلم کا خیال ہے کہ دُکھی دل کے ساتھ مسکرانا مشہور فلمساز و ہدایتکار اور اداکار راج کپور نے موتی لال سے ہی سیکھا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: شمشاد بیگم کی آواز کی کھنک آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے
موتی لال ہندوستانی سنیما کے پہلے سُپر اسٹار تھے۔ انہوں نے ایک شاہانہ زندگی گزاری اور اپنی مقبولیت کو برقرار رکھتے ہوئے فلمی دنیا میں اسٹارڈم قائم کیا۔ انہوں نے اسٹوڈیو کی ملازمت والی روایت کی زنجیروں کو توڑکر نہ صرف بہت سے فلمی کرداروں کو آزاد کرایا بلکہ ایک اداکار کو اس کی حیثیت سے آزادانہ زندگی گزارنے کا حق بھی دلوایا۔ ان کا فیلٹ ہیٹ پہننا اُس زمانے میں اُن کی پہچان بن گیا تھا اور وہ کیمرے کے پیچھے نجی زندگی میں بھی فیلٹ ہیٹ پہن کر گھوما کرتے تھے۔ فلم ’دیوداس، اناڑی، لیڈر اورمسٹر سمپت‘ میں اُن کا فیلٹ ہیٹ پہننے کا انداز اتنا پسند کیا گیا کہ فلم ’دو دیوانے‘ میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے والی شوبھنا سمرتھ اُن پر ایسی فدا ہوئیں کہ زندگی بھر کی دوست بن گئیں۔
۱۹۶۵ء میں پیش کی گئی بمل رائے کی فلم ’دیوداس‘ کے اُس شرابی کردار چُنّی لال کو کون بھول سکتا ہے؟ حالانکہ اس فلم کے مرکزی کردار میں دلیپ کمار موجود تھے، مگر موتی لال نے اپنے مکالموں کی ادائیگی اور اپنی فطری اداکاری سے اپنے لیے اس فلم میں وہی مقام بنا لیا جو ہیرو کے طور پر دلیپ کمار نے حاصل کیا تھا۔ اس فلم کی کامیابی میں جہاں ساحرؔ لدھیانوی کے نغموں، بمل رائے کی ہدایت کاری، ایس ڈی برمن کی موسیقی، شرت چندر کی کہانی اور دلیپ کمار کی بے مثال اداکاری کا دخل تھا، وہیں موتی لال کی موجودگی بھی فلم کی شہرت میں اضافے کا سبب بنی تھی۔ ’دیوداس‘ میں معاون اداکار کے طورپر موتی لال کوفلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ ۱۹۶۱ء میں انہیں فلم’پرکھ‘ میں بہترین معاون اداکار کیلئے دوسری بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے اپنے زمانے کی تقریباً سبھی مشہور اداکارائوں کے ساتھ کام کیا۔ سبیتا دیوی، گوہر بائی، مایا بنرجی، روزی، مادھوری، خورشید، وینا، منور سلطانہ، شمیم، وَن مالا، نرگس، نسیم بانو، ثریا، انجلی، نورجہاں، گیتا نظامی، ممتاز شانتی، مینا کماری، مدھوبالا، اور مینا شوری وغیرہ نے موتی لال کے ساتھ ہیروئن کے کردار ادا کیے تھے۔
۱۹۴۳ء میں بمبئی ٹاکیز کی فلم ’تقدیر‘ میں موتی لال ہیرو تھے اور ہیروئن تھیں نرگس۔ اس فلم کی ہدایت نجم نقوی امروہوی نے کی تھی، نغمہ نگار مہر انصاری کے گیت کی دُھن موسیقار رفیق غزنوی نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم کا یہ گانا ’’ظالم جوانی، کافر ادائیں ‘‘ خود موتی لال کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا۔ انہوں نے۱۹۴۹ء میں مینا شوری کے ساتھ فلم ’ایک تھی لڑکی‘ میں کامیڈی کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کے ہدایتکار مینا شوری کے شوہر روپ کے شوری تھے۔ ونود ای آر کی موسیقی میں نغمہ نگار عزیز کشمیری نے فلم کے گیت لکھے تھے۔ اس فلم کا یہ نغمہ ’’لارا لپا لارا لپا لائی رکھ دا‘‘ بے حد مقبول ہوا تھا اور اسی فلم کے بعد مینا شوری کو ’’لارا لپا گرل‘‘ کا ٹائٹل ملا تھا۔ شوبھنا سمرتھ نے۱۹۵۰ء میں اپنی بیٹی نوتن کیلئے ایک فلم ’ہماری بیٹی‘ بنائی تو موتی لال نے اس فلم میں نوتن کے باپ کا کردار ادا کیا تھا۔ موتی لال نے ۱۹۵۹ء میں فلم ’اناڑی‘ میں بھی نوتن کے گارجین کا کردار ادا کیا تھا، مگر وہ نگیٹیو رول تھا، جس کو موتی لال نے بڑی خوبی اور چابکدستی سے ادا کیا تھا۔ انہوں نے۱۹۵۲ء میں ایس ایس واسن کی فلم ’مسٹر سمپت‘ میں ایک یادگار نبھایا تھا۔ آر کے لکشمن کے ناول پر بنی اس فلم میں انہوں نے ایک سنجیدہ مگر مزاحیہ اداکاری سے شائقینِ فلم کی توجہ کھینچی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کرشنا وتارم‘‘ کے بعد سدھارتھ گپتا، روہت شیٹی کی فلم میں کام کرسکتے ہیں!
۱۹۵۹ء میں جیمنی اسٹوڈیو کے مشہور ہدایت کار ایس ایس واسن کی فلم ’پیغام‘ میں موتی لال نے ایک سرمایہ دار بزنس مین کا کردار بڑی خوبی سے ادا کیا تھا۔ اس فلم میں ہیرو دلیپ کمار کے ساتھ وجینتی مالا ہیروئن تھیں۔ جہاں یہ فلم دلیپ کمار وجینتی مالا کی ہٹ جوڑی کی وجہ سے یاد کی جاتی ہے، وہیں موتی لال کی بہترین کردارسازی کیلئے بھی پہچانی جاتی ہے۔
۱۹۶۴ء میں دلیپ کمار وجینتی مالا کی فلم ’لیڈر‘ میں موتی لال نے ایک ولن کا کردار بڑی خوبی سے ادا کیا ہے۔ موتی لال نے اپنی فطری اداکاری سے اس میں بھی الگ ہی پہچان بنائی۔ ۱۹۶۵ء میں یش چوپڑہ کی ہدایت میں بنی ملٹی اسٹارر فلم ’وقت‘ میں موتی لال نے سنیل دت کے مقابل ایک وکیل کا کردار کیا ہے، مگر چھوٹے سے اس کردار میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ۱۹۶۵ء میں انہوں نے اپنی ہدایت میں ایک فلم ’چھوٹی چھوٹی باتیں ‘ بنائی مگر فلم کی ریلیز سے قبل ہی وہ دُنیا سے رُخصت ہو گئے۔
موتی لال تقریباً دو دہائیوں تک ہندوستانی سنیما کے سنہرے پردے پر بڑے گلیمرس انداز میں چھائے رہے۔ جہاں بلراج ساہنی دیہاتی کرداروں میں جان ڈال دیتے تھے، وہیں موتی لال شہر کے بانکے اور باسلیقہ نوجوان کے کردار بخوبی نبھاتے تھے۔ وہ اکیلے ایسے اداکار تھے جن کے پاس اپنا ذاتی ہوائی جہاز تھا۔ وہ اپنا جہاز اکثر شوبھنا سمرتھ کے گھر کے اوپر اُڑایا کرتے تھے۔ حالانکہ موتی لال شادی شدہ تھے اور اُن کی بیوی دہلی میں ڈاکٹر تھیں، لیکن دونوں میں تعلقات زیادہ بہتر نہیں رہتے تھے۔ اُن کی آخری فلم ’چھوٹی چھوٹی باتیں ‘ کو جب نیشنل ایوارڈ ملا تو اُن کیلئے یہ ایوارڈ اُن کی ڈاکٹر بیوی نے ہی حاصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ نئی نئی گاڑیاں رکھنے کا بھی انہیں بہت شوق تھا۔ ایک زمانے میں اُن کے پاس چار چار گاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ وہ اکثر دوستوں سے کہتے تھے کہ میرا بس چلے تو میں باتھ روم میں بھی کار ہی سے جائوں۔ انہیں تیراکی کا بھی بے حد شوق تھا۔
اُنہیں سفید کپڑے پہننے کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ شاید اسی لیے اُن کے دل میں نیوی میں جانے کا شوق پیدا ہو گیا تھا، کیونکہ نیوی کی ڈریس سفید ہی ہوتی ہے۔ اُن کا خیال تھا کہ سفید ڈریس والے نیوی کے نوجوانوں پر لڑکیاں زیادہ فدا ہوتی ہیں۔ نوتن اور تنوجہ کی ماں اور کاجول کی نانی شوبھنا سمرتھ نے اُن کے بُرے دنوں میں کافی مدد کی تھی۔
موتی لال نے اپنے ہم عصر اداکاروں، سہراب مودی اور پرتھوی راج کپور کے تھیٹر کے انداز کی اداکاری سے الگ ہٹ کر فطری اداکاری کے بہترین نمونے پیش کیے، جس کیلئے دلیپ کمار بھی پہچانے جاتے تھے۔ نصیرالدین شاہ نے ایک جگہ ہندوستانی سنیما کے تین بہترین اداکاروں کا ذکر کیا ہے، جن میں بلراج ساہنی اور یعقوب کے علاوہ تیسرا نام موتی لال کا ہی لیا ہے۔ انہوں نے اپنے اداکارانہ فن کے اظہار کیلئے چہرے کے تاثرات کو بے حد اہمیت دی ہے۔ وہ ایک دن میں سُپراسٹار نہیں بنے تھے بلکہ۲۴؍سال کی انتھک محنت، لگن اور جہد مسلسل سے وہ اس مقام کو حاصل کر سکے تھے۔
موتی لال کو گھوڑوں کی ریس کا بہت شوق تھا۔ وہ اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ ریس میں ضائع کر دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اپنے رئیسانہ ٹھاٹ باٹ اور طرزِ زندگی سے انہوں نے جو کمائی لٹائی، اس کی وجہ سے اُن کو اپنے آخری دنوں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، نتیجتاً انہیں کریکٹر ایکٹر کے طور پر کئی فلموں میں کام کرنا پڑا۔
خراب معاشی حالات کے دوران اور لمبی بیماری کی وجہ سے۱۷؍جون۱۹۶۵ء کو وہ دن آ گیا جب ممبئی میں ہندوستانی سنیما کے پہلے سپر اسٹار موتی لال کا انتقال ہو گیا۔