Inquilab Logo Happiest Places to Work

شمشاد بیگم کی آواز کی کھنک آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے

Updated: April 14, 2026, 10:51 AM IST | Agency | Mumbai

ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں کچھ آوازیں ایسی ہیں جو وقت کے گرد و غبار سے کبھی دھندلی نہیں ہوتیں۔ان میں ایک روشن، بے مثال اور گونج دار نام شمشاد بیگم کا ہے۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں تھیں بلکہ ایک ایسا عہد تھیں، جس نے برصغیر کی موسیقی کو نئی پہچان عطا کی۔

Shamshad Begum, The Queen Of Singing Voice.Photo:INN
کھنک دار آواز کی ملکہ شمشاد بیگم
ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں کچھ آوازیں ایسی ہیں جو وقت کے گرد و غبار سے کبھی دھندلی نہیں ہوتیں۔ان میں ایک روشن، بے مثال اور گونج دار نام شمشاد بیگم کا ہے۔ وہ صرف ایک گلوکارہ نہیں تھیں بلکہ ایک ایسا عہد تھیں، جس نے برصغیر کی موسیقی کو نئی پہچان عطا کی۔ہندوستانی فلمی صنعت کی ابتدائی تاریخ کا جب بھی تذکرہ ہوگا، شمشاد بیگم کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ وہ اپنی منفرد، کھنکتی ہوئی اور جاندار آواز کے باعث کروڑوں دلوں کی دھڑکن تھیں۔
شمشاد بیگم کی پیدائش۱۴؍اپریل۱۹۱۹ءکوبرطانوی ہندوستان کےشہر امرتسر میں ایک قدامت پسندپنجابی مسلم خاندان میں ہوئی۔ گھر کا ماحول مذہبی اور روایتی تھا، جہاں موسیقی کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن قدرت نے ان کے گلے میں جو سحر رکھا تھا، وہ کسی بندش کا محتاج نہ تھا۔ بچپن ہی سے ان کی آواز میں ایک قدرتی کھنک اور مٹھاس تھی، جو سننے والوں کو چونکا دیتی تھی۔کہا جاتا ہے کہ ان کے والد موسیقی کے سخت خلاف تھے، مگر تقدیر نے انہیں ریڈیو تک پہنچا دیا۔ لاہور کے ریڈیو اسٹیشن پر ان کی پہلی پیشکش نے سامعین کو چونکا دیا، اور یہیں سے ایک سنہری سفر کا آغاز ہوا۔
 
 
۱۹۳۰ءاور۴۰ءکی دہائی میں جب فلمی موسیقی اپنے ابتدائی دور میں تھی، شمشاد بیگم کی آوازنےایک نئی جہت پیدا کی۔ وہ ان اولین پلےبیک سنگرز میں شامل تھیں جنہوں نے فلمی گیتوں کو ایک مضبوط شناخت دی۔ان کی ملاقات نامور موسیقارنوشادسے ہوئی، جو ان کےکریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ نوشاد نے ان کی آواز کو بڑے پردے تک پہنچایا، اور جلد ہی وہ فلمی دنیا کی سب سے مقبول گلوکاراؤں میں شامل ہو گئیں۔
 
 
۱۹۴۰ءاور۱۹۵۰ءکی دہائی شمشاد بیگم کے عروج کا زمانہ تھا۔ ان کی آواز میں ایک خاص طرح کی کھنک، دیسی پن اور طاقت تھی، جو انہیں دیگر گلوکاراؤں سے ممتاز بناتی تھی۔ ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی سماعتوں میں رس گھولتے ہیں۔ان کے چند مشہور نغموںمیں  ’کبھی آر کبھی پار‘ (آرپار)،لے کے پہلا پہلا پیار (سی آئی ڈی)، سئیاں دل میں آنا رے (بہار) شامل ہیں۔ان گیتوں میں ان کی آواز کا جادو صاف جھلکتا ہے،ایک ایسا جادو جو سادگی میں لپٹا ہوا ہے، مگر دل کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے۔شمشاد بیگم کی آواز نہایت واضح، بلند اور کھنک دار تھی۔ اس میں نہ تو مصنوعی نزاکت تھی اورنہ ہی بناوٹ، بلکہ ایک دیسی سچائی تھی جو سیدھی دل پر اثر کرتی تھی۔ وہ اپنے زمانے کی ان چند گلوکاراؤں میں سے تھیں جن کی آواز کو کسی ساز یا تکنیک کی ضرورت نہیں تھی،ان کا گلا خود ایک ساز تھا۔یہ وہ دور تھا جب لتا منگیشکراور آشا بھوسلےجیسی آوازیں ابھر رہی تھیں، مگر شمشاد بیگم نے اپنی الگ پہچان برقرار رکھی۔حکومت ہند نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۲۰۰۹ءمیں پدم بھوشن سے نوازا۔ یہ اعزاز اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کی آواز نے ملک کی ثقافت میں کتنا گہرا اثر چھوڑا ہے۔۲۳؍ اپریل ۲۰۱۳ءکو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شمشاد بیگم جیسی آوازیں کبھی مرتی نہیں،وہ وقت کے ساتھ اور بھی زیادہ امر ہو جاتی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK