• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابھیشیک بچن مر چکے تھے تو فلم ’’دہلی ۶‘‘ کا کلائمیکس کیوں بدلا؟ ڈائریکٹر نے حقیقت بتا دی

Updated: January 07, 2026, 8:06 PM IST | Mumbai

فلم ’’دہلی 6‘‘ کے کلائمیکس کے حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ابھیشیک بچن کے کردار کی موت کو دکھانے کے بجائے کہانی کو کیوں تبدیل کیا گیا؟

Rakesh Omprakash Mehra.Photo:INN
راکیش اوم پرکاش مہرا۔تصویر:آئی این این

۲۰۰۹ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’دہلی ۶‘‘ اس وقت تھیٹر میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے کلٹ کلاسک کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اب ۱۵؍سال بعد فلم کے ہدایت کار راکیش اوم پرکاش مہرا نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے سنیما شائقین کو دنگ کر دیا ہے۔
راکیش اوم پرکاش مہرا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سامعین نے جو اختتام دیکھا وہ ان کا اصل وژن نہیں تھا۔تو پھر دہلی۶؍ کا کلائمیکس  کیوں بدلا؟راکیش اوم پرکاش مہرا نے ایک حالیہ انٹرویو میں وضاحت کی کہ فلم کا ڈائریکٹرز کٹ (اصل ورژن) زیادہ گہرا اور سنجیدہ تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اصل فلم کا آغاز ابھیشیک بچن کی راکھ کے ڈبونے سے ہوتا ہے اور بیک گراؤنڈ میں ابھیشیک کی آواز میں ایک وائس اوور کہتا ہے’ ’یہ میری راکھ ہیں۔‘‘ اس کا مطلب ہے کہ ناظرین کو فلم کے پہلے ہی فریم میں معلوم ہو گیا ہے کہ فلم کا ہیرو مر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینز تمام خواتین کوچنگ اسٹاف کے ساتھ نئی بلندیوں پر جانے کے لیے تیار

اوم پرکاش مہرا کے مطابق یہ وہ ورژن تھا جسے وینس فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا، جہاں اسے زبردست رسپانس ملا تھا۔ مشہور میگزین ورائٹی  نے اسے صفحہ اول پر بھی چھاپ دیا، لیکن جب ہندوستان میں اس کی ریلیز ہوئی تو مہرا دباؤ میں آگئے۔ مزید برآں، ڈائریکٹر نے خود کو ملامت کے احساس کے ساتھ کہا، ’’میں نے صرف اپنی حماقت کی وجہ سے فلم کا اختتام تبدیل کیا۔ جن لوگوں نے اس کٹ کو دیکھا انہوں نے مجھے فلم کو خوش کن اختتام کے ساتھ ختم کرنے کا مشورہ دیا  اور میں اس کے لیے مان گیا اور آج مجھے لگتا ہے کہ میں نے غلط فیصلہ کیا  تھا۔ہمارا ملک ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:زوماٹو اور بلنک اِٹ کی پروموٹر کمپنی پر ۷ء۳؍کروڑ روپے کا جی ایس ٹی نوٹس

صرف یہی نہیں بلکہ جب مہرا سے پوچھا گیا کہ کیا وہ `ڈائریکٹرز کٹ  کو دوبارہ ریلیز کریں گے  تو انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہمارا ملک ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہمارا ملک اس سچائی کو قبول کرنے کے لیے اتنا تیار نہیں ہوا ہے۔ درحقیقت، بہت سے طریقوں سے، ہم پہلے سے کہیں زیادہ گرچکے ہیں۔راکیش اوم پرکاش مہرا کی اس فلم میں پرانی دہلی کی گلیوں میں چھپی برائیوں، وہاں کے بھائی چارے اور مذہبی جنونیت کو دکھایا گیا ہے۔ مزید برآں، فلم کی موسیقی اے آر  رحمان نے ترتیب دی تھی آج بھی مقبول ہیں۔ مہرا کے اس بیان نے فلمی شائقین میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK