سنتھ جے سوریہ نے سری لنکا کی مرد ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف سری لنکا کی بے حد قریبی شکست کے بعد منظر عام پر آیا، جس کے ساتھ ہی ٹیم کا ورلڈ کپ کا سفر بھی ختم ہوگیا۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 3:10 PM IST | Colombo
سنتھ جے سوریہ نے سری لنکا کی مرد ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف سری لنکا کی بے حد قریبی شکست کے بعد منظر عام پر آیا، جس کے ساتھ ہی ٹیم کا ورلڈ کپ کا سفر بھی ختم ہوگیا۔
سنتھ جے سوریہ نے سری لنکا کی مرد ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف سری لنکا کی بے حد قریبی شکست کے بعد منظر عام پر آیا، جس کے ساتھ ہی ٹیم کا ورلڈ کپ کا سفر بھی ختم ہوگیا۔ تاہم انہوں نے باضابطہ طور پر ابھی تک سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) کومطلع نہیں کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی فیصلہ کرچکے تھے کہ یہ ورلڈ کپ اس کردار میں ان کا آخری اسائنمنٹ ہو گا۔
جے سوریہ نے کہاکہ ’’میں نے محسوس کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ ذمہ داری کسی اور کو سونپ دوں۔ اسی وجہ سے، تقریباً دو ماہ قبل، انگلینڈ کی سیریز کے دوران، میں نے کہا تھا کہ مجھے زیادہ دیر تک اس عہدے پر برقرار رہنے کی امید نہیں ہے۔ تب تک، میں یہ فیصلہ کر چکا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ ورلڈ کپ میں اچھے نوٹ پر کوچ کے طور پر رخصت ہوسکوں گا۔ لیکن میں ویسا نہیں کر سکا جس طرح میں چاہتا تھا، جس کا مجھے افسوس ہے۔‘‘
اگرچہ جے سوریہ اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ فوری طور پر ایسا کریں گے۔ سری لنکا کا افغانستان کے خلاف ایک لیمیٹڈ- اوورز دورہ ۱۳؍ مارچ سے شروع ہونا تھا (حالانکہ وہ سیریز اب مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے خطرے میں ہے) اور امکان ہے کہ بورڈ چاہے گا کہ وہ اس دورے تک ٹیم کے ساتھ رہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’میرا معاہدہ جون تک ہے۔ میں نے ابھی تک سرکاری طور پر ایس ایل سی کو مطلع نہیں کیا ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میں یہ بات کہنے والا ہوں۔ مجھے جاکر ان سے بات کرنی ہوگی۔ اگر وہ کسی اور کو (ٹیم کا کوچ) لاسکتے ہیں، تو یقینی طورپر انہیں ایسا کرنا چاہیے۔‘‘
جے سوریہ نے ۲۰۲۴ء کے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کے فوراً بعد سری لنکا کے ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی بہت سی اہم کامیابیاں ان کے چارج کے ابتدائی مہینوں میں ہی آئیں۔ اگست ۲۰۲۴ء میں، سری لنکا نے ۲۷؍ سال بعد ہندوستان کے خلاف اپنی پہلی دو طرفہ ون ڈے سیریز جیتی۔ اس کے بعد اسی سال ستمبر میں اوول میں ایک ٹیسٹ میچ جیتا اور پھر گھریلو ٹیسٹ سیریز میں نیوزی لینڈ کو ۰۔۲؍ سے ہرایا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ’’پچھلے ڈیڑھ سال میں، میں ٹیم کو اس پوزیشن سے یہاں تک لے کر آیا، جہاں ہم تھے۔ ایک روزہ میں ہماری رینکنگ آٹھویں یا نویں مقام پر تھی اور ہم چیمپئن ٹرافی کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کرسکے تھے۔ لیکن میں ٹیم کو نمبر ۴؍ تک لے آیا۔ ٹیسٹ ٹیم کو میں نے نمبر ۶؍ تک پہنچایا اور ٹی ۲۰؍ ٹیم بھی چھٹے یا ساتویں نمبر پر ہے (فی الحال وہ آٹھویں نمبر پر ہے)۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:منی رتنم کی نئی فلم: وجے سیتھوپتی اور سائی پلوی کے نام پر غور
جے سوریہ نے کہاکہ ’’یہ سب میں نے اکیلے نہیں کیا۔ میرے معاون عملے نے مجھے زبردست سپورٹ کیا۔ پہلے دن سے ہی میں نے ان سے مدد مانگی تھی، کیونکہ کوچ کے طورپر میرے پاس بہت زیادہ تجربہ نہیں تھا۔ لیکن اپنے کرکٹ کے تجربے کی وجہ سے، میں اسے سنبھالنے میں کامیاب رہا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ غیر قانونی جارحانہ جنگ ہے: ظہران ممدانی
جے سوریہ کی مدت کار کا آخری سال مختصر ترین فارمیٹ میں ناکامیوں سے بھرا رہا۔ گھریلو ٹی ۲۰؍ ورلڈ کہ میں مسلسل چار شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہونا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مزید برآں، ۲۰۲۵ء کے ایشیا کپ میں سری لنکا کی کارکردگی معمولی رہی اور گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والی ٹی۲۰؍ سہ فریقی سیریز میں بھی ٹیم توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی۔