Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۰۰؍فلموں میں کام کرنے والے ’’ینگ امیتابھ‘‘ نے بچپن میں جنسی استحصال کا انکشاف کردیا

Updated: August 24, 2026, 5:15 PM IST | Mumbai

سابق چائلڈ ایکٹر روی والیچا (Ravi Valecha) نے اپنے بچپن کے ایک انتہائی تکلیف دہ تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے فلمی سیٹ پر جنسی استحصال کا انکشاف کیا ہے۔ تقریباً ۳۰۰؍ فلموں میں کام کرچکے روی کو بچپن میں ان کی شکل و صورت اور اداکاری کی وجہ سے’’ینگ امیتابھ‘‘ کہا جاتا تھا۔

Ravi Valecha And Amitabh.Photo:INN
امیتابھ بچن اور روی والیچا۔ تصویر:آئی این این

سابق چائلڈ ایکٹر  روی  والیچا (Ravi Valecha)  نے اپنے بچپن کے ایک انتہائی تکلیف دہ تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے فلمی سیٹ پر جنسی استحصال  کا انکشاف کیا ہے۔ تقریباً ۳۰۰؍ فلموں میں کام کرچکے روی کو بچپن میں ان کی شکل و صورت اور اداکاری کی وجہ سے’’ینگ امیتابھ‘‘ کہا جاتا تھا۔  روی نے بتایا کہ اس وقت وہ اتنے کم عمر تھے کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا تھا اسے سمجھنا اور کسی کو بتانا ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو بتا نہیں سکتے تھے  اور یہ تجربہ طویل عرصے تک ان کے اندر خوف اور خاموشی کی شکل میں موجود رہا۔ 
 روی والیچا نے کم عمری میں فلموں میں کام شروع کیا اور مختلف فلمی منصوبوں کا حصہ بنے۔ ان کے کام کی تعداد تقریباً ۳۰۰؍فلموں  تک بتائی جاتی ہے۔ بچپن میں انہیں بالخصوص امیتابھ بچن سے مشابہت کی وجہ سے ’’ینگ امیتابھ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن کامیابی کے پیچھے ان کا بچپن ایک ایسے تجربے سے بھی گزرا جس کے بارے میں وہ برسوں تک خاموش رہے۔

یہ بھی پڑھئے:کیزیا لِز میجو نے مس یونیورس انڈیا ۲۰۲۶ء کا تاج اپنے نام کرلیا

روی کے مطابق بچپن میں فلمی سیٹ پر پیش آنے والے جنسی استحصال نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ کم عمری کی وجہ سے وہ نہ تو صورتحال کو پوری طرح سمجھ پاتے تھے اور نہ ہی یہ جانتے تھے کہ مدد کے لیے کس سے رابطہ کریں۔ انہوں نے اس تجربے کے بارے میں اب بات کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ دوسرے بچے، خصوصاً لڑکے، جنسی استحصال کا شکار ہونے کی صورت میں خاموش رہنے پر مجبور نہ ہوں۔ 
روی اب اس موضوع پر کھل کر بات کرکے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں  لڑکے بھی جنسی استحصال کے بارے میں بغیر شرمندگی یا خوف کے بات کرسکیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اکثر جنسی استحصال کی گفتگو لڑکیوں اور خواتین تک محدود رہتی ہے، جبکہ لڑکے بھی اس طرح کے صدمے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق متاثرہ بچے کی جنس کچھ بھی ہو، اسے سننا، اس پر یقین کرنا اور اسے محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ 
روی کا یہ انکشاف اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے اپنے بچپن کے تجربے کو کئی برسوں تک اپنے اندر رکھا۔ اب وہ اپنے ذاتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے متاثرین کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ  جنسی استحصال کسی کی غلطی نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں بات کرنا کمزوری نہیں ہے۔  ان کی کہانی فلمی صنعت میں بچوں کے تحفظ، سیٹ پر محفوظ ماحول اور کم عمر فنکاروں کی ذہنی و جسمانی حفاظت جیسے اہم سوالات کو بھی دوبارہ سامنے لاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:کوکو گاف نے جیسیکا پیگولا کو ہرا کر اپنا دوسرا سنسناٹی خطاب جیت لیا

بچپن میں جنسی استحصال کا اثر کئی مرتبہ واقعے کے فوراً بعد ختم نہیں ہوتا بلکہ خوف، شرمندگی، اعتماد کی کمی اور ذہنی دباؤ کی صورت میں طویل عرصے تک رہ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں متاثرین کو محفوظ ماحول، جذباتی مدد اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ نفسیاتی معاونت فراہم کرنا اہم ہے۔ روی  والیچاکا اپنے تجربے پر بات کرنا اس لحاظ سے ایک اہم قدم ہے کہ وہ خاص طور پر لڑکوں کو خاموشی توڑنے اور مدد حاصل کرنے کی ترغیب  دینا چاہتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK