Inquilab Logo Happiest Places to Work

آنند ایل رائے چھوٹے شہروں کی کہانیوں کو امر کرنے والا فلم ساز

Updated: June 29, 2026, 1:22 PM IST | Mumbai

آنند ایل رائے بھی انہی چند منفرد فلم سازوں میں شامل ہیں، جنہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے ہندوستان کے متوسط طبقے، چھوٹے شہروں اور وہاںبسنے والے کرداروں کو نئی شناخت عطا کی۔

A famous filmmaker and director Anand L. Roy. Photo: INN
ایک مشہور فلم ساز اور ہدایت کار آنند ایل رائے۔ تصویر: آئی این این

ہندی فلم انڈسٹری میںکچھ ہدایت کار ایسے ہوتے ہیں جو صرف فلمیں نہیں بناتے بلکہ معاشرے کی دھڑکنوں، عام انسانوں کےخوابوں اور چھوٹے شہروں کی سادہ مگر رنگین زندگی کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ آنند ایل رائے بھی انہی چند منفرد فلم سازوں میں شامل ہیں، جنہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے ہندوستان کے متوسط طبقے، چھوٹے شہروں اور وہاںبسنے والے کرداروں کو نئی شناخت عطا کی۔ان کی فلموں میں محبت ہے، بغاوت ہے، روایت اور جدت کا تصادم ہے، اور سب سے بڑھ کر انسان کے جذبات کی سچائی ہے۔

آنند ایل رائے ۲۸؍جون ۱۹۷۱ءکودہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کاتعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کا فلمی دنیا سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ ان کے والد کاروبار سے وابستہ تھے، تاہم بچپن ہی سےآنند کو فلموں سے خاص دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم دہلی ہی میں حاصل کی اور بعد ازاں انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔

یہ بھی پڑھئے: ہدایتکار روہت شیٹی کو ایک اور دھمکی، ۲۰؍ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ

اگرچہ انہوں نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر لی، لیکن ان کا دل مشینوں کے بجائے کہانیوں اور کرداروں میں اٹکا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے روایتی پیشہ اختیار کرنے کے بجائے فلمی دنیا کا رخ کیا، جو ایک غیر یقینی مگر تخلیقی امکانات سے بھرپور میدان تھا۔

آنند ایل رائےنےاپنے کریئرکاآغاز ٹیلی ویژن سے کیا۔ انہوںنےمتعدد ٹی وی سیریلزکی ہدایت کاری کی اور اسی دوران فلم سازی کی باریکیوں سے واقفیت حاصل کی۔ ان کا پہلا بڑا فلمی منصوبہ ۲۰۰۷ءمیںسامنے آیا، جب انہوں نے’اسٹرینجرز‘ نامی فلم کی ہدایت کاری کی، جس میں جمی شیرگل اور کے کے مینن مرکزی کرداروں میں تھے۔یہ فلم باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکی، لیکن اس نےآنند ایل رائے کو بطور ہدایت کار ایک نئی شناخت ضرور دی۔ اصل کامیابی ان کے دروازے پر چند برس بعد دستک دینے والی تھی۔

۲۰۱۱ءمیںریلیز ہونے والی فلم تنو ویڈز منو نے آنند ایل رائے کی قسمت بدل دی۔ آر مادھون اور کنگنا رناوت کی اداکاری سے مزین اس فلم نے نہ صرف باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی بلکہ ناظرین کے دل بھی جیت لیے۔یہ فلم روایتی رومانوی کہانیوں سے مختلف تھی۔ اس میں چھوٹے شہروں کی ثقافت، خاندانی روایات اور نوجوان نسل کی بدلتی سوچ کوخوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا۔ کنگنا رناوت کے تنو نامی کردارنے عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور فلم ایک کلٹ کلاسک بن گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’لَو اینڈ وار‘‘ سیٹ حادثہ: سنجے لیلا بھنسالی سے۵۰؍ لاکھ معاوضہ کا مطالبہ

۲۰۱۸ءمیں آنند ایل رائے نے اپنی سب سے بڑی اور مہنگی فلم زیرو بنائی، جس میں شاہ رخ خان، انوشکا شرما اور کترینہ کیف نے اہم کردار ادا کیے۔فلم میں شاہ رخ خان نے ایک بونے شخص کا کردار نبھایاتھا، جس کے لیے جدید بصری تکنیکوں کا استعمال کیا گیا۔ اگرچہ اس فلم سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں، لیکن یہ باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے باوجود آنند ایل رائے کی تخلیقی جرات اور نئے موضوعات پر کام کرنے کی صلاحیت کو سراہا گیا۔آنند ایل رائے صرف ہدایت کار ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب پروڈیوسر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے پروڈکشن ہاؤس ’کلر ییلو پروڈکشنز‘کے تحت کئی منفرد اور تجرباتی فلمیں بنائیں۔

آنند ایل رائے کی فلموں کو متعدد فلم فیئر ایوارڈز، اسکرین ایوارڈز اور دیگر اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی پروڈیوس کردہ فلم ’نیوٹن‘ ہندوستان کی جانب سے آسکر ایوارڈ کے لیے بھیجی گئی تھی، جو ان کے پروڈکشن ہاؤس کی ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK