آواز فائونڈیشن نے وزیر اعلیٰ اور بی ایم سی کمشنر کو خط لکھ کر ان ڈجیٹل بورڈ کو درست کروانے پر زور دیا۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 11:48 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
آواز فائونڈیشن نے وزیر اعلیٰ اور بی ایم سی کمشنر کو خط لکھ کر ان ڈجیٹل بورڈ کو درست کروانے پر زور دیا۔
ممبئی میں فضائی آلودگی میں اضافہ کے دوران کھار اور باندرہ کی کئی کنسٹرکشن سائٹس پر نصب شدہ ڈجیٹل بورڈ پر آلودگی کی سطح صفر یا بہت کم درج ہوتی ہے جس پر آواز فاؤنڈیشن نے وزیر اعلیٰ اور بی ایم سی کمشنر کو خط لکھ کر روزانہ آلودگی کی سطح معلوم کرنے والی گاڑیاں روانہ کرنے اور ان بورڈ کا آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آواز فائونڈیشن کی سربراہ سُمیرا عبدل علی نے اس تعلق سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور بی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے کو خط لکھ کر کہا ہے کہ باندرہ اور کھار میں متعدد کنسٹرکشن سائٹس پر فضائی آلودگی، درجۂ حرارت اور دیگر تفصیلات پیش کرنے والے جو ڈجیٹل بورڈ نصب کئے گئے ہیں ان پر یا تو صفر، یا بہت کم آلودگی ظاہر کی جاتی ہے، کئی مقامات پر یا تو بورڈ کو بند رکھا گیا ہے تو کہیں بورڈ پر ایسی نشانیاں نظر آرہی ہیں جو تکنیکی گڑ بڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: آتش خان کمپاؤنڈ کے مکینوں کو گھر خالی کرنے کا نوٹس
ان کے مطابق یہ بورڈ اس لئے نصب کئے جاتے ہیں تاکہ مقامی افراد کو ان کے یہاں آلودگی کی سطح کا صحیح علم ہوسکے حالانکہ ایسا نہیں ہورہا ہے۔
اس خط میں انہوں نے کہا ہے کہ مارچ سے مئی اور ستمبر سے اکتوبر ۲۰۲۶ء کے درمیان ۳۸؍ دنوں میں انہوں نے ۲۳۰؍ مرتبہ ان بورڈ کی تصویریں کھینچی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ۲۶؍ دنوں تک کھیر واڑی اور بی کے سی میں سرکاری مانیٹرنگ سسٹم سے موازنہ کیا تو معلوم ہوا کہ ۸؍ مرتبہ فضاء میں ’پی ایم ۱۰‘ کی سطح ۱۰۰؍ مائیکروگرام فی کیوبک میٹر یا اس سے زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی۔ انہوں نے تاریخوں کے ساتھ بتایا ہے کہ کب کب کن علاقوں میں کنسٹرکشن سائٹس پر نصب ڈجیٹل بورڈ پر آلودگی کی سطح صفر یا بہت کم نظر آرہی تھی۔ یہ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ڈجیٹل بورڈ کا فوری طور پر آڈٹ کرایا جائے۔ تمام سائٹس پر لگے بورڈ کو ’کیلیبریٹ‘ کیا جائے، خراب ڈسپلے کو درست کرایا جائے اور آن لائن پورٹل تیار کیا جائے جس پر شہری ان بورڈ کو دیکھ سکیں۔ مزید یہ کہ جن گاڑیوں پر آلودگی کی سطح کی پیمائش ہوتی ہے روزانہ ان گاڑیوں کو ان علاقوں میں بھیجا جائے۔