یہاں ایک جانب پنڈالہ گائوں میں زرعی سیاحت کا موقع ہے،اراولی پہاڑیوں کے نظارے ہیں تو وہیں ٹرانسپورٹ کا میوزیم بھی ہے۔
ہیریٹیج ٹرانسپورٹ میوزیم کی عمارت نظر آرہی ہے۔ تصویر: آئی این این
ہریانہ کے گڑگاؤں ضلع میں واقع منیسر ایک ابھرتا ہوا شہر ہے جو نئی دہلی سےصرف ۴۰؍کلومیٹر دور اپنی جدید صنعتی ترقی اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ یہاں اراولی پہاڑیوں کےحسین نظارے، زرعی سیاحت اور عیش و آرام کی سہولیات اسے ایک مثالی سیاحتی مقام بناتی ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو دہلی-جے پور ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے ایک دن کا ٹھکانہ ڈھونڈتےہیں۔ منیسر نہ صرف صنعتی مرکزہے بلکہ جدید اور روایتی زندگی کا ایک خوبصورت سنگم بھی پیش کرتا ہے۔
پنڈالہ گاؤں
پنڈالہ گاؤں منیسرسےچند کلومیٹر دور ایک پرامن دیہی علاقہ ہےجو زرعی سیاحت کابہترین نمونہ ہے۔ یہاں سیاح ہریانوی دیہی ثقافت کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں، جہاں کھیتوں میں کام کرنے، تازہ دودھ دوہنے، مقامی کھانے جیسے مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ اور گائے بھینس پالنے کا تجربہ ملتا ہے۔ گاؤں میں روایتی مٹی کے گھر، ہاتھ سے بنے برتن اور ہریانوی لوک رقص و موسیقی کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اسکول ٹرپس اور کارپوریٹ ٹیم بلڈنگ کے لیے مقبول ہے، جہاں فیملیز کو گاؤں کی سادگی اور قدرتی ماحول ملتا ہے۔یہاں جانے کابہترین وقت اکتوبر سے مارچ کے بیچ کا ہے، جب کھیتوں میں فصلیں لہلہاتی ہیں۔
اراولی پہاڑیوں کے نظارے
منیسر کی سب سے بڑی کشش اس کی اراولی پہاڑیاں ہیں جو شہر کو ایک سرسبز اور شاداب پس منظر دیتی ہیں۔ یہاں پیدل چلنے کے راستے (ٹریکنگ ٹریلز) اور فوٹو پوائنٹس موجود ہیں جہاں سیاح طلوع و غروب آفتاب کے حسین مناظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ یہ مقام پرندوں کا نظارہ کرنےاور ہلکی پھلکی مہم جوئی کے شوقین افراد کے لیے بہترین ہے۔موسم بہار میں یہاں پھلوں کے باغات اور پھل دار درختوں کی وافر ہریالی اضافہ کی جاتی ہے۔
سُلطان پور نیشنل پارک
منیسرسے ۱۵؍کلومیٹر دور واقع یہ ۱۴۲؍ ہیکٹرکا سرسبز پارک ۱۹۷۱ء میں وائلڈ لائف سیکچوری بنایا گیا، جو ۱۹۸۹ءمیں نیشنل پارک بنا۔ یہ پرندوں کی جنت ہے جہاں ۲۵۰؍ سے زائدنسل(۱۹۰؍ مائیگریٹری) کے پرندے دیکھے جاسکتےہیں۔اراولی پہاڑیوں اور جھیل کے ماحول میں ہر سال ہزاروں برڈ واچرز آتے ہیں۔یہاںموسم سرما(یعنی اکتوبرتامارچ)میں مائیگریٹری برڈز،واچ ٹاورز، بوٹنگ اور نیچر ٹریلز سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں عام طور پرنیل گائے، چھوٹے ہرن، لومڑیاں اور سانپ دیکھنے کو ملتے ہیں۔
سبھاش چندر بوس پارک
یہ پارک منیسر کے صنعتی زون میں ایک سرسبزعلاقہ ہے، جو نیشنل ہیرو سبھاش چندر بوس سے منسوب ہے۔تقریباً ۱۰؍ایکڑ پر پھیلا یہ پارک چہل قدمی، یوگا، جاگنگ اور بچوں کے کھیلنے کے لیے بنچوں اور جھولوں سے آراستہ ہے۔ اس کے بیچ میں پتھرپر سبھاش چندر بوس کامجسمہ اور آزادی کی تحریک کی تفصیلات درج ہیں، جو تعلیمی دوروں کیلئےمفید ہے۔ پارک میں مصنوعی جھیل، فاؤنٹین شو، لائٹنگ اور فوڈ کورٹس ہیں، جہاں شام کےوقت نوجوانوں کی مجلسیں سجتی ہیں۔ یہ دہلی سے آنے والے سیاحوں کیلئے ایک آرام دہ پکنک اسپاٹ ہے، خاص طور پراتوارکو۔
ہیرٹیج ٹرانسپورٹ میوزیم
منیسرکے قریب واقع یہ میوزیم ۲۰۱۳ء میں کھولا گیا تھا، جو ہندوستان کا پہلا جامع ٹرانسپورٹ میوزیم ہے۔ ۹۵؍ ہزارمربع فٹ پر پھیلے اس میوزیم میں۲؍ہزار ۵۰۰؍ سےزائد ایسی اشیاء نمائش کیلئے رکھی گئی ہیںجو ٹرانسپورٹ کی تاریخ بیان کرتی ہیں۔یہاںپالکیوں اور بیل گاڑیوں سے لے کر ونٹیج کارز، ٹرین کوچز، طیاروں کے ماڈلز اور دو پہیوں کی گاڑیوں تک سب کچھ موجودہے جنہیں دیکھ کر ٹرانسپورٹ کے تعلق سےمعلوما حاصل کی جاسکتی ہے۔یہاںآٹوموبائل سیکشن میں ۴۰۔۱۹۳۰ء کی شیورلے، پونٹیاک،امباسیڈر اور بالی ووڈ (جیسےفلم’دل تو پاگل ہے‘والی) کاریں رکھی گئی ہیں۔جبکہ ریلوے سیکشن میں ۱۹۳۰ءکی جودھپور سلون کوچ، ایوی ایشن اور میری ٹائم ماڈلز، دیہی ٹرانسپورٹ جیسے اونٹ گاڑیاں نمائش کیلئے رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اے وی شو، ٹچ اسکرینز، ٹرین کوچ میں چڑھنے اور ٹرک آرٹ دیکھنے کاموقع بھی ملتا ہے۔