یہ سڑک کبھی شاہ راہ ریشم کا حصہ ہوا کرتی تھی۔آج یہاں بڑی تعداد میں مہم جو قسم کے افراد ہی موٹر سائیکل سے پہنچتے ہیں اور کچھ ہی دیر ٹھہر کر لوٹ آتے ہیں۔
کھارڈونگ لا کے آخری پوائنٹ پر کھڑا ہوا ایک بائیک سوار۔ تصویر: آئی این این
لداخ کی سرزمین خود میں ایک داستان ہے، اور اس داستان کا ایک نہایت بلند، سخت مگر پُرشکوہ باب کھارڈونگ لاہے۔ کھارڈونگ لا دنیا کا ایک انتہائی بلند درہ ہےجو لداخ کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے اور سیاحوں کے لیے جنت نما مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہ درہ لیہ سے نوربہ وادی تک جانے کا واحد راستہ ہے اور اس کی بلندی اور خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے۔یہ صرف ایک پہاڑی درّہ نہیں بلکہ انسان کے حوصلے، فطرت کی بے پناہ طاقت اور صدیوں پرانی جغرافیائی اہمیت کا مظہر ہے۔جو مسافرکھارڈونگ لا تک پہنچتا ہے، وہ دراصل صرف بلندی طے نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی خاموش دنیا میں داخل ہوتا ہے جہاں سانس لینا بھی عبادت جیسا محسوس ہوتا ہے۔
تعارف
کھارڈونگ لا لداخ کے دارالحکومت لیہ سے تقریباً ۴۰؍کلومیٹر کے فاصلےپر واقع ہے اور لیہ وادی کو شمالی لداخ اور نوبرا وادی سے جوڑتا ہے۔یہ ۵؍ہزار ۳۵۹؍میٹر(۱۷؍ہزار ۵۸۲؍ فٹ)کی بلندی پر ہے۔ یہ سندھو ندی کی وادی اور شِیوک ندی کی وادی کو ملاتا ہے، اور نوربہ وادی کا مرکزی گیٹ وے ہے جہاں سے سیاچن گلیشیر تک رسائی ملتی ہے۔ یہ درہ قراقرم پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے اور سرد ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں درجہ حرارت منفی ۴۰؍ ڈگری سیلسیس تک گر جاتا ہے۔یہ دنیا کے بلند ترین موٹر گاڑیوں کے قابل درّوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں ہوا اتنی ہلکی ہو جاتی ہے کہ جسم کو ہر قدم پر اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑتا ہے۔
تاریخی اہمیت
کھارڈونگ لا صدیوں سے شاہراہ ریشم کا حصہ رہا، جو وسطی ایشیا، لیہ اور کاشغرتک تجارت کا مرکز تھا۔۱۹؍ویں صدی میں ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ اور زورآور سنگھ نے لداخ فتح کرنے کیلئے اس راستے کا استعمال کیا۔ ۱۹۵۰ءکی دہائی میں امریکی سفارت کار ولیم او ڈگلس نے بھی اسےتاریخی تجارتی راستہ قرار دیا۔ ۱۹۶۲ء کی ہند-چین جنگ اور ۲۰۲۰ء کے سرحدی تنازع نے اسے مزید اہم بنادیا۔
رسائی اور سیاحت
لیہ شہر سے ۳۹؍کلومیٹر دور، موٹرایبل روڈ کے ذریعے پہنچا جا سکتاہے جو برفیلے موسم میں بھی کھلا رہتاہے۔ سیاحوں کے لیے مغربی دنیا کا سب سے بلند موٹر ایبل درہ کہلاتا ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔یہ کیرن انٹرنیشنل ریسکیو سینٹر اور بائیکس ایڈونچرکیلئےمشہور ہے۔ مئی سے نومبر تک بہترین وقت ہے، جہاں برف پوش چوٹیاں اور نیلے آسمان کا نظارہ کرشمہ ہے۔
موسم کی صورتحال
کھارڈونگ لا کا موسم بے حد سخت ہے۔ گرمیوں میں بھی یہاں سرد ہوائیں جسم میں اترتی محسوس ہوتی ہیں، جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے کہیں نیچے چلا جاتا ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑ، خاموش وادیاں اور آسمان سے قریب ہوتے بادل اس مقام کو کسی اور ہی دنیا کا حصہ بنا دیتے ہیں۔یہاں کھڑے ہو کر انسان کو فطرت کے سامنے اپنی بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ نہ درختوں کا شور، نہ پرندوں کی چہچہاہٹ بس ہوا کی آواز اور دور تک پھیلا ہوا سکوت۔
قدرتی اور ثقافتی کشش
نوربہ وادی کی طرف جاتے ہوئے کیمل سفاری، ڈبل ہمپڈ اونٹ اور بلندماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ لداخ کی بدھ مت ثقافت، مٹھوں اور قبائلی زندگی یہاں کی رونق بڑھاتی ہے۔ تاہم، اونچائی کی بیماری(اے ایم ایس)سے بچاؤ کے لیے آکسیجن سلنڈر اور احتیاط ضروری ہے۔کھاردونگ لا لداخ کی پہچان ہے جو مہم جوؤں، فوجیوں اور سیاحوں کی یادوں سے بھرا پڑا ہے۔
سیاحت اور مسافروں کا تجربہ
کھارڈونگ لا آج لداخ آنے والے سیاحوں کے لیے ایک خواب جیسی منزل بن چکا ہے۔خاص طور پر موٹر سائیکل سوار اور ایڈونچرکےشوقین افراد کے لیے یہاں پہنچنا ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ تنگ اور پیچیدہ سڑکیں، اچانک بدلتا موسم اور آکسیجن کی کمی یہ سب مل کر اس سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔یہاں پہنچ کر مسافر عموماً زیادہ دیر نہیں ٹھہرتے، کیونکہ بلندی کی وجہ سے سر درد اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود چند لمحے وہاں گزارنا، تصویریں لینا اور خاموشی کو محسوس کرنا زندگی بھر کے تجربات میں شامل ہو جاتا ہے۔