یہ علاقہ کبھی سِرمور ریاست کہلاتا تھا، جس کا دارالحکومت ناہن تھا اور آج بھی ناہن اس ضلع کی انتظامی و تہذیبی روح سمجھا جاتا ہے۔
ناہن کا دلکش علاقہ دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
آئیے ہماچل پردیش کے اُس خطے کی طرف چلیں جو شور سے دور، تشہیر سے بے نیاز اور اپنی فطری شرافت میں قائم ہے یعنی سِرمور کی طرف۔یہ وہ ضلع ہے جو نہ بڑے شہروں کی طرح چمکتا ہے، نہ سیاحتی بروشرز میں نمایاں دکھائی دیتا ہے، مگر جو یہاں آ جاتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ اصل حسن اکثر خاموشی میں چھپا ہوتا ہے۔
تعارف
سِرمور ہماچل پردیش کا جنوبی ضلع ہے، جس کی سرحدیں ایک طرف اتراکھنڈ سے ملتی ہیںتو دوسری جانب ہریانہ اور سولن کے پہاڑی علاقے اس سے جڑتے ہیں۔یہ علاقہ کبھی سِرمور ریاست کہلاتا تھا، جس کا دارالحکومت ناہن تھا، اور آج بھی ناہن اس ضلع کی انتظامی و تہذیبی روح سمجھا جاتا ہے۔یہاں کی فضا میں ایک ٹھہراؤ ہے، ایک قدامت ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے وقت یہاں ذرا آہستہ چلتا ہے۔
ناہن
سِرمور کا آغاز ناہن سے کیے بغیر بات ادھوری رہتی ہے۔ یہ شہر انگریزی دور کی منصوبہ بندی کا نمونہ ہے۔ یہاںصاف ستھری سڑکیں، ترتیب سے بنے محلے اور چاروں طرف پہاڑوں کا حصار دیکھنے کو ملتا ہے جو بہت ہی دلکش لگتا ہے۔
رنکھونڈا اور پالہور
یہ علاقے اُن لوگوں کے لیے ہیں جو سیاحت میں شور نہیں، سکون تلاش کرتے ہیں۔ چھوٹے گاؤں، کھیت، دیودار کے درخت اور دور تک پھیلی پہاڑیاںیہ سب مل کر سِرمور کے دیہی حسن کو پوری طرح نمایاں کرتے ہیں۔
رنیتال جھیل
ناہن کے وسط میں واقع یہ جھیل شہر کی سانس ہے۔ صبح کے وقت یہاں دھند کے سائے، شام کو پرندوں کی واپسی اور رات کو خاموشی سب مل کر ایک مکمل منظر بناتے ہیں۔
جےتوک قلعہ
ناہن سے کچھ فاصلے پر واقع یہ قلعہ سِرمور کی شاہی تاریخ کی یادگار ہے۔ یہاں سے آس پاس کی وادیوں کا منظر بتاتا ہے کہ اس خطے کی جغرافیائی اہمیت کیا رہی ہوگی۔
راجگڑھ
راجگڑھ کو بجا طور پر’پیچ ویلی‘ کہا جاتا ہے۔ سیب، آڑو، خوبانی یہ سب یہاں کی پہچان ہیں۔ باغات سے ڈھکی پہاڑیاں اور ٹھنڈی ہوا اس علاقے کو خاص بناتی ہے۔یہاں سیاحت مصنوعی نہیں، زرعی زندگی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
چور دھار
چوردھار کو’سِرمور کاتاج‘کہا جاتا ہے۔ یہ مقام سطح سمندر سے۳۶۴۷؍میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چوردھار پہنچنے کے لیے ٹریکنگ کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ سردیوں میں یہاں بھاری برفباری ہوتی ہے جبکہ گرمیوں میں یہ مقام گلہ بانی اور قدرتی نظاروں کے لیے بہترین ہے۔ چوردھار سے ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں کا نظارہ نہایت حیرت انگیز ہے۔
ہاببن اور سنگراہ
یہ وہ علاقے ہیں جو ابھی تک بڑے نقشوں پر نمایاں نہیں، مگر جو یہاں پہنچتا ہے وہ انہیں بھول نہیں پاتا۔ جنگلات، خاموش راستے اور مقامی طرزِ زندگی یہ سب سِرمور کی اصل جھلک دکھاتے ہیں۔
ہریلا ٹاپ
ناہن شہر کے قریب واقع ہریلا ٹاپ ایک خوبصورت پہاڑی مقام ہے۔ یہاں سے ہمالیہ کی سلسلہ وار چوٹیوں کا نظارہ بے مثال ہے۔یہ مقام پکنک اور قدرتی مناظر کی تصویر کشی کے شوقین افراد کے لیے بہترین ہے۔
رینوکا جھیل
ضلع سِرمور کا سب سے مشہور اور مقدس مقام رینوکا جھیل ہے۔ یہ جھیل ناہن شہر سے تقریباً۴۰؍کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق یہ جھیل ماں رینوکا (پرشورام جی کی والدہ) سے منسوب ہے۔ جھیل کے درمیان میں ایک چھوٹا سا مندر بھی واقع ہے۔ ہر سال نومبر کے مہینے میں یہاں رینوکا میلہ لگتا ہے جو ہزاروں سیاحوں اور عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جھیل کے گرد جنگلی حیات کا محفوظ علاقہ بھی ہے جہاں مختلف اقسام کے جانور اور پرندے دیکھے جا سکتے ہیں۔