پنجاب کے پس منظر میں تخلیق کی گئی اس کہانی میں غیر قانونی امیگریشن نیٹ ورک، دھوکہ باز ایجنٹوں اور انسانی اسمگلنگ کے تلخ حقائق پیش کئے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 11:26 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
پنجاب کے پس منظر میں تخلیق کی گئی اس کہانی میں غیر قانونی امیگریشن نیٹ ورک، دھوکہ باز ایجنٹوں اور انسانی اسمگلنگ کے تلخ حقائق پیش کئے گئے ہیں۔
اب ہوگا حساب (Ab Hoga Hisaab)
اسٹریمنگ ایپ: امیزون ایم ایکس پلیئر(۲۰؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: شہیر شیخ، سنجے کپور، مونی رائے، اویناش مشرا، نمرت اہلووالیا، ہرمن سنگھا، آشیما وردان، انکت گلاٹی
ڈائریکٹر: دیوانشو ملہوترا
رائٹر: دیوانشو ملہوترا، سدیپ نگم، فیضل اختر، رادھیکا آنند، عباس دلال، حسین دلال
پروڈیوسر: نیتی مرچنٹ، بی سائی کمار، نمت شرما
ایڈیٹر: ہرش کالرا
اسسٹنٹ ڈائریکٹر: راجدیپ سنگھ رانا، آکاش شندے، نفیس احمد انصاری، سدھانت سروج
آرٹ ڈائریکٹر: کرشنا موہن سنگھ
ریٹنگ:***
پنجاب میں بیرونِ ملک، خصوصاً کینیڈا جا کر مستقل سکونت اختیارکرنے کاخواب کئی برسوں سے بے شمار کہانیوں اور فلموں کا موضوع بنتا رہاہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہونے والی نئی ویب سیریز ’اب ہوگا حساب‘بھی اسی معروف مگر نہایت اہم مسئلے کو مرکزِ نگاہ بناتی ہے۔ یہ سیریز غیر قانونی امیگریشن کے نیٹ ورک، دھوکہ باز ایجنٹوں اور انسانی اسمگلنگ کے ان تلخ حقائق کو بے نقاب کرتی ہے، جو نوجوانوں کے روشن مستقبل کے خوابوں کو اپنا کاروبار بنا لیتے ہیں۔
کہانی
پنجاب کےپس منظر میں بنائی گئی اس سیریز کی کہانی ۲؍ بھائیوں بابی (شہیر شیخ) اور بنٹی منوچا (اویناش مشرا) کے گرد گھومتی ہے۔ بابی غیر قانونی ’ڈنکی روٹ‘کے ذریعے کینیڈا میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے، لیکن گرفتار ہو کر واپس ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔ وطن واپسی کے بعد وہ عزم کرتا ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی کو قانونی طریقے سے بیرونِ ملک بھیجے گا۔ تاہم حالات اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کرتے ہیں جب بنٹی پراسرار طور پر لاپتا ہو جاتا ہے۔ اپنے بھائی کی تلاش میں نکلا بابی جلد ہی ایک ایسے منظم انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک تک پہنچ جاتا ہے، جو کینیڈا امیگریشن کنسلٹنسی کے پردے میں سرگرم ہے۔ یوں ایک ذاتی تلاش کا آغاز بدعنوانی، لالچ، استحصال اور انتقام کی پیچیدہ داستان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کہانی کے دوسرے رخ پر دولت مند کاروباری شخصیت گولڈی سیکھوں (سنجے کپور) اور کامنا (مونی رائے) ہیں، جن پر انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کو چلانے کا شبہ ہے۔ اسی کے ساتھ غزل (نمرت کور اہلووالیا) کی ذیلی کہانی بھی چلتی ہے، جو خاندانی دباؤ، شادی، کینیڈا منتقل ہونے کی خواہش اور اپنے ماضی کے بوجھ کے گرد گھومتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برائون: کرائم تھریلر اور کرشمہ کپور کی سنجیدہ اداکاری کا مجموعہ
ہدایت کاری
سیریز کی ابتدا خاصے دلچسپ انداز میں ہوتی ہے، لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، ویسے ویسے اس میں غیر ضروری پیچیدگیاں بڑھنے لگتی ہیں۔ سنجے کپور اور مونی رائے کے کرداروں کے مقاصد اورباہمی تعلقات کو پوری وضاحت کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ بطور ولن مطلوبہ اثر پیدا نہیں کر پاتے۔
اسی طرح نمرت کور اہلووالیا کی ذیلی کہانی سماجی توقعات اور خواتین پر پڑنے والے دباؤ کو ضرور اجاگر کرتی ہے، لیکن وہ مرکزی پلاٹ کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ محسوس نہیں ہوتی۔ دیویانشو ملہوترا کی ہدایت کاری اور فیصل اختر، رادھیکا آنند، عباس دلال اور سدھیپ نگم کی تحریر اس بے بسی کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے، جو پنجاب کے متعدد نوجوانوں کو خطرناک راستوں کے ذریعے بیرونِ ملک جانے پر مجبور کرتی ہے۔ ایسے فیصلوں سے خاندانوں پر پڑنے والا جذباتی اور مالی بوجھ اس سیریز کی سب سے مضبوط خصوصیت ہے۔ یہ بھی بخوبی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مجبور لوگ ان ایجنٹوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں، جو خواب فروخت کر کے منافع کماتے ہیں، جبکہ ان خوابوں کا انجام اکثر تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔
اصل کمزوری اس کے اسکرین پلے میں ہے۔ اگرچہ ہر قسط تقریباً آدھے گھنٹے کی ہے، لیکن اس کے باوجود کہانی غیر ضروری طور پر طویل محسوس ہوتی ہے۔ مرکزی معمہ آہستہ آہستہ کھلنے کے بجائے متعدد ذیلی کہانیوں میں الجھ جاتا ہے، جو اکثر اصل پلاٹ سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔ ابتدا میں یہ ذیلی پلاٹس دلچسپی پیدا کرتے ہیں، مگر اختتام تک پہنچتے پہنچتے کہانی کو مزید الجھا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دی پیرامڈ اسکیم: دھوکہ دے کر پیسہ اینٹھنے والی اسکیموں کی پول کھول
اداکاری
اداکاری اس سیریز کا مضبوط پہلو ہے۔ شہیرشیخ نے بابی کے کردار میں ایک ایسے بھائی کی بے بسی اور درد کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، جو ہر حال میں اپنے لاپتہ بھائی کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ بعض جذباتی مناظر میں ان کے تاثرات محدود محسوس ہوتے ہیں، لیکن مجموعی کارکردگی متاثر کن ہے۔ اویناش مشرا نے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر پراعتماد انداز میں قدم رکھا ہے۔ انہوں نے ایک بے فکر نوجوان کے کردار کو اچھے انداز میں نبھایا ہے، جو ایسے حالات میں پھنس جاتا ہے جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔
نتیجہ
’اب ہوگا حساب‘ اس اعتبار سے قابلِ تعریف ہے کہ اس نے پنجاب کے ایک نہایت حساس اور موجودہ دور کے اہم مسئلے کو موضوع بنایااور غیر قانونی امیگریشن کے بھیانک نتائج کو سامنے لانے کی کوشش کی۔ تاہم ضرورت سے زیادہ پیچیدہ کہانی، کرداروں کے الجھے ہوئے تعلقات اور کئی نامکمل ذیلی پلاٹس اسے اپنی مکمل صلاحیت تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔