Inquilab Logo Happiest Places to Work

الفا:عالیہ بھٹ کو ایکشن کوئین کے طور پر پیش کرنے والی فلم

Updated: July 04, 2026, 12:56 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

یش راج فلمز کی اسپائی یونیورس کی ۷؍ویں فلم میں مردوں کے بجائے خواتین کو لیڈ رول میں ایکشن کرتے ہوئے دکھایا گیا ہےجو ایک عمدہ تجربہ ہے۔

Alia Bhatt and Sharori can be seen in full-on action in a scene from the film `Alpha`. Photo: INN
فلم’ الفا‘کے ایک منظر میں عالیہ بھٹ اورشروری کو فل آن ایکشن میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

الفا (Alpha)
اسٹارکاسٹ: عالیہ بھٹ، شروری، انل کپور، بابی دیول
ڈائریکٹر: شیو رویل
رائٹر: آدتیہ چوپڑا، ادئے چوپڑا
پروڈیوسر: آدتیہ چوپڑا
موسیقار: ابیر پنڈت، روہانش پنڈت
سنیماٹو گرافر: روبیس
ایڈیٹر: عارف شیخ
کاسٹنگ ڈائریکٹر: شانو شرما
کاسٹیوم ڈیزائن: گرپریت کور من، اکی نرولا، دیپالی، نتاشا
پروڈکشن منیجر: مہندر بسٹ، پوجا دیسائی، دنیش پوار
اسسٹنٹڈائریکٹر: شتج سنگھ لکھاوت، رمن دیپ سنگھ بیدی
ریٹنگ:***
ایکشن فلمیں ایک ایسا زمرہ ہے جسے ہمیشہ پسند کیا جاتا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں فلم ساز اور ہدایت کار اس زمرے میں قسمت آزمارہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ یش راج فلمز نےایسی فلموں کیلئے ایک مخصوص سیکشن قائم کردیا ہے جسے یش راج فلمز اسپائی یونیورس کا نام دیا گیا ہے۔ اسی شعبہ کے تحت سلمان کی ٹائیگر سیریز، ریتک کی وار سیریز اور شاہ رخ خان کی پٹھان جیسی فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی کے تحت فلم ’الفا‘بنائی گئی ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی ہیرو نہیں بلکہ ہیروئنیں ایکشن اوتار میں نظر آتی ہیں اور شدید قسم کا ایکشن کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ 
فلم کی کہانی
اس فلم کی کہانی کو بھی ایکشن فلموں کیلئےبالی ووڈ کے محبوب موضوع ہند-پاک جنگوں اور دیگر مسائل پر مرکوز رکھا گیا ہے۔ فلم کا آغازہی کارگل جنگ ختم ہونےکے دوسرے دن یعنی ۲۷؍جولائی ۱۹۹۹ءسے شروع کیا گیا ہے جب بڑی تعداد میں ہندوستانی فوجیوں کےجسد خاکی ملک لائے گئے تھےاور ایک بڑے سے میدان میں رکھے گئے تھے۔ کرنل وکرانت کول(انل کپور) انہیں خراج عقیدت پیش کررہے ہوتےہیں کہ کرنل فتح سنگھ لکھاوت(بابی دیول)بھی آجاتےہیں اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نئے شعبے’الفا‘ کے قیام کا منصوبہ پیش کرتےہیں۔ اس منصوبےکے تحت سائنسداں (دویندو بھٹاچاریہ)کے ذریعہ تیار کئے گئےخصوصی سیرم(دوا) فوجیوں میں لگائی جاتی ہے جس سے وہ زیادہ طاقتور اور زخموں سے مدافعت رکھنے والے بن جاتے ہیں۔ لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اس دوا کی وجہ سے ان کی موت بھی جلد ہوجاتی ہے اور جن ۶؍فوجیوں کو یہ دوا لگائی گئی تھی وہ تمام فوت ہوجاتےہیں۔ اس بات سے ناراض ہوکر اس پروجیکٹ کو بند کردیا جاتا ہے لیکن فتح سنگھ اسے کسی بھی قیمت پربند کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرکاری طور پر بند ہونے کے باوجود وہ اسے خفیہ طور پر جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس کیلئے وہ وکرانت کول کی نوزائدہ بیٹی کو اٹھاکر لے جاتا ہے اوراسے خصوصی تربیت دیتا ہے تاکہ اسے اپنے مقصد کیلئے استعمال کرسکے۔ جب سیتا (عالیہ بھٹ) بڑی ہوتی ہےتو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ اپنا مسیحا اوراپنا’بابا‘سمجھ رہی تھی وہ دراصل اس کا دشمن ہے اس لئے وہ اس پروجیکٹ کو منظوری دینےوالے تمام افراد کو مار دیتی ہے اور وکرانت کول اور فتح سنگھ کو بھی تلاش کرنے نکلتی ہے۔ اس وقت اس کے سامنے کئی طرح کے انکشافات ہوتےہیں۔ اب یہ انکشافات کیا ہیں وہ آپ کو فلم میں دیکھنے پرہی معلوم ہونگے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کاک ٹیل ۲‘‘ میں کئی مشروبات کی کمی واضح محسوس ہوتی ہے

ہدایت کاری
جیسا کہ پہلے کہا گیابنیادی طور پریہ ایک ایکشن فلم ہے اس لئے اس میں ایکشن کی کوریوگرافی عمدگی سےکی گئی ہے، عالیہ بھٹ اور شروری کا مقابلہ ہو یا ریتک روشن کے ساتھ مل کر تینوں کے اشتراک سے کی گئی لڑائی کےمنظر سمیت کئی مناظر کافی عمدہ فلمائے گئے ہیں۔ اس کےعلاوہ فلم کی کہانی کوکافی عمدگی سے لکھا گیا ہے اور زیادہ تر مقامات پرمنطق کو ملحوظ رکھا گیا ہےلیکن کہیں کہیں اس کا دامن چھوٹ بھی جاتاہے۔ جیسے کہ جب کارگل جنگ کے فوجیوں کے تابوت رکھےہوئےتھے تواس وقت صرف یہ دو افسران ہی تعزیت پیش کرنےکیلئے کیسے موجود ہوسکتے ہیں، ایسے حالات میں دیگر کوئی فوجی کیوں نظرنہیں آتا۔ دوسری جگہ انل کپور کے پیٹ پر بم باندھا ہوا ہے، جس میں ڈھائی منٹ بچے ہیں۔ عالیہ بھٹ اور بابی دیول کے آنےمیں آدھا منٹ گزرجاتا ہے پھروہ کہانی سنانے بیٹھ جاتا ہے جس میں کافی وقت لگتا ہےلیکن بم کی گھڑی ۲؍منٹ سے آگے نہیں بڑھتی۔ ان خامیوں کے قطع نظرفلم میں عمدہ ایکشن پیش کیا گیا ہے۔ 
اداکاری
عالیہ بھٹ نے ہمیشہ کی طرح اس فلم میں بھی اداکاری کے معاملےمیں بہت محنت کی ہے، اس سے زیادہ محنت انہوں نے شاید جم میں کی ہے۔ اس کا اثریہ ہے کہ وہ بہت ہی دلکش نظر آتی ہیں اور اس پر ان کی فطری اداکاری انہیں مزید دلکش بنادیتی ہےلیکن ایکشن کے دوران کہیں کہیں وہ کچھ زیادہ ہی نازک اندام دکھائی دیتی ہیں خاص طور پربابی دیول کے سامنے۔ شروری کے تعلق سے تو کئی ویڈیو وائرل ہوئے تھے جس میں انہیں جم میں پسینہ بہاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے بھی کافی عمدہ اداکاری کی ہے۔ انل کپور، بابی دیول نے بھی اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے، دیا مرزا کا رول بہت ہی چھوٹا ہے۔ 
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ عمدہ ایکشن اور عالیہ بھٹ کی شاندار اداکاری کے دیوانے ہیں تو اس فلم کو ضرور دیکھ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK