تقسیم ہند کے پس منظر پر تخلیق کی گئی اس کہانی کو آخر میں ایک الگ ہی رنگ دیا گیا ہے، اداکاری میں خصوصی طور پر نصیرالدین شاہ نے کمال کیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 11:27 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
تقسیم ہند کے پس منظر پر تخلیق کی گئی اس کہانی کو آخر میں ایک الگ ہی رنگ دیا گیا ہے، اداکاری میں خصوصی طور پر نصیرالدین شاہ نے کمال کیا ہے۔
میں واپس آؤں گا
(Main Vaapas Aaunga)
اسٹارکاسٹ: نصیرالدین شاہ، دلجیت دوسانجھ، ویدانگ رائنا، شروری، جہانوی بنسل، منیش چودھری، ببیتا کپور، رجت کپور
ڈائریکٹر: امتیاز علی
رائٹر: امتیاز علی اور نینیکا مہتانی
پروڈیوسر: موہت چودھری، شیباشیش سرکار
موسیقار: اے آر رحمان
lسنیماٹو گرافر: سلویسٹر فونسیکا
ایڈیٹر: آرتی بجاج
پروڈکشن ڈیزائن: سمن رائے مہاپاترا
آرٹ ڈائریکٹر: ترپتی چوان
کاسٹیوم ڈیزائن: شیتل شرما
میک اپ: گوسوامی سواما
پروڈکشن منیجر: الیکس انتھونی
ریٹنگ: ****
عشق کی بیشتر لازوال داستانیں ادھوری ہی رہتی ہیں۔ رومیو اور جولیٹ، لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا جیسی محبت کی کہانیاں آج بھی دنیا بھر میں یاد کی جاتی ہیں۔ فلم سازوں نے بھی ان داستانوں سے ہمیشہ متاثر ہو کر انہیں بڑے پردے پر پیش کیا ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ہدایت کار امتیاز علی اپنی نئی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ لے کر آئے ہیں۔ محبت کے مختلف رنگوں کو اپنی فلموں میں پیش کرنے والے امتیاز علی نے اس مرتبہ برصغیر کی تاریخ کے سب سے دردناک باب، یعنی تقسیمِ ہند کو پس منظر بنایا ہے۔ اسی پس منظر میں انہوں نے محبت، جنگ، ہجرت اور جدائی کے کرب کو ایک ساتھ پرو دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہے جوانی تو عشق ہونا ہے: تفریح کے لحاظ سے یہ فلم دیکھی جاسکتی ہے
فلم کی کہانی
’لو آج کل‘ کے انداز میں ماضی اور حال کے درمیان سفر کرتی یہ کہانی اشر سنگھ گریوال عرف کینو (نصیرالدین شاہ) کی ہے۔ ۹۵؍ برس کے گریوال صاحب زندگی کے آخری موڑ پر کھڑے ہیں۔ وہ دنیا سےرخصت ہونے والے ہیں، لیکن اس سے پہلے ان کی ایک آخری خواہش ہے۔ وہ پاکستان کے شہر سرگودھا جانا چاہتے ہیں، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں کینو (ویدانگ رائنا)نے جنم لیا، جوانی گزاری اور پہلی بار محبت کی۔ عمر کے اس مرحلے پر وہ ڈیمینشیا کے مرض کا شکار ہیں اور یادداشت اکثر دھوکہ دے جاتی ہے، مگر ایک نام ہے جو ان کے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوتا: افسانہ عرف جیا (شروری واگھ)۔
آزادی سے قبل کے دور میں جیا، کینو سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ اسے ہمیشہ یہ خوف ستاتا رہتا تھا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو کینو اسے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ کینو ہر بار اسے یقین دلاتا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا، لیکن تاریخ نے دونوں کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔
تقسیمِ ہند کی المناک ہجرت نےان دونوں کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی جو کبھی مٹ نہ سکی۔ جان بچانےکی افراتفری میں کینو اپنی محبوبہ سے اجازت لیے بغیر ہندوستان آ گیا۔ مگر اس کا دل گزشتہ ۷۸؍برسوں سے وہیں اٹکا ہوا ہے۔ اب وہ اپنی زندگی کے آخری سفر سے پہلے جیا سے ایک بار مل کر الوداع کہنا چاہتا ہے۔
اپنے دادا کی اس آخری خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس کا پوتا نرویر گریوال عرف نوی (دلجیت دوسانجھ) ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ لیکن کیا کینو آخرکار اپنی جیا سے مل پاتا ہے یا نہیں، اس کا جواب فلم دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دی گریٹ گرینڈ سوپر ہیرو: بچوں کی فلم جسے بڑے بھی دیکھ سکتے ہیں
ہدایت کاری
ابتدا میں یہ ایک خوبصورت مگر روایتی دورِ ماضی کی محبت کی داستان محسوس ہوتی ہے۔ فلم کا پہلا حصہ خاصاسست رفتارہے۔ جیا اور کینوکے درمیان محبت کے مناظر بعض اوقات غیر ضروری طورپر طویل اور دہرائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ماضی اور حال کے درمیان مسلسل آنا جانا بعض مواقع پر ناظرین کو الجھن میں بھی ڈال سکتا ہے۔ فلم میں مرکزی کردار کو کرکٹر دکھانے والے امتیاز علی نے گویا آخری گیند پر چھکا لگا دیا ہے۔ دنیا بھر میں جاری جنگوں، ہجرتوں اور اپنے گھر، خاندان اور محبت سے دور ہو جانے والے لوگوں کے درد کو کہانی میں شامل کرکے انہوں نے فلم کے معیار کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔
اداکاری
فلم کا سب سے مضبوط پہلو بلا شبہ نصیرالدین شاہ کی اداکاری ہے۔ انہوں نے اپنے کردار میں جو گہرائی، درد اور سچائی پیدا کی ہے، وہ ہر اداکار کے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی اداکاری کو جتناسراہا جائے کم ہے۔ دلجیت دوسانجھ نے نرویر کے کردار میں فطری پن اور خلوص پیدا کیا ہے۔ ان کی اداکاری کردار کو حقیقت کے قریب لے آتی ہے۔ معاون اداکاروں میں ڈولی آہلووالیا ایک جذباتی منظر میں اپنی موجودگی کا گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ جبکہ رجت بیدی، بنیتا سندھو، منیش چودھری، رجت کپور اور انجنا سکھانی محدود اسکرین ٹائم میں اپنا کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ امتیاز علی کی فلموں کے مداح ہیں، محبت اور ہجرت کے موضوعات پر مبنی حساس اور جذباتی کہانیاں پسند کرتے ہیں، اور ساتھ ہی نصیرالدین شاہ کی شاندار اداکاری دیکھنا چاہتے ہیں تو ’میں واپس آؤں گا‘ آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔