یہ قلعہ آج ملبے میں تبدیل ہوچکا ہے لیکن یہاں کے باقیات اس کے شاندار ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔یہاں’مستانی محل‘، ’بی بی کا محل‘ جیسی کئی عمارتیں ہیں۔
احمد نگر کے قریب واقع بہادرگڑھ قلعہ کے اندر موجود ؍تاریخی عمارتوں کے آثار دیکھے جاسکتے۔ تصویر: آئی این این
بہادرگڑھ، جسے ’پیدگاؤں کا قلعہ‘ اور’دھرم ویر گڑھ‘ بھی کہا جاتا ہے، مہاراشٹر کے ضلع احمد نگر میں تعلقہ شری گونڈہ کے گاؤں پیدگاؤں میں ندی بھیما کے کنارے واقع ایک وسیع زمینی قلعہ ہے۔ یہ قلعہ یادَو دور کے مندر، مغلیہ فوجی چھاؤنی، شیواجی مہاراج کی حکمتِ عملی اور بعد کے مراٹھا-نظام کشمکش، سب کی پرچھائیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
محلِ وقوع اور قلعے کی ساخت
بہادرگڑھ، پیدگاؤں گاؤں کے ساتھ ساتھ بھیما اور سَراوتی ندیوںکےسنگم کے قریب تقریباً ۹۰؍ایکڑ رقبے پر پھیلا ایک بیضوی / مستطیل نماقلعہ ہے، جس کے اردگرد کبھی پانی بھرا خندق نظام تھا۔
قلعےکے اندر داخل ہوتے ہی بکھری ہوئی دیواریں، ٹوٹی ہوئی عمارتیں اور کھنڈر نمابستی دکھائی دیتی ہے، مگر اسی کے درمیان ۵؍قدیم مندر، بعض مغل عمارتیں، واٹر سسٹم اور حویلیاں اُس کے سنہرے ماضی کی جھلک دکھایتی ہے۔
قلعے کے کل ۵؍ دروازے بتائے جاتے ہیں،۴؍کےصرف محراب اور آثارہی باقی ہیں، جب کہ دریا کی سمت والا پانچواں دروازہ (ریور گیٹ) آج بھی نسبتاً مکمل حالت میں موجود ہے، اگرچہ اسے پتھروں سے بند کر دیا گیا ہے۔
قلعے کے اندر سب سے اونچی عمارت ’ہَٹّی موٹ‘‘کہلاتی ہے، جس کی چھت سے پورے قلعے اور بھیماکےکنارے تک کے نظارے صاف دکھائی دیتے ہیں اور اسی مقام سے پانی کی فراہمی کے قدیم نظام کو سمجھا جا سکتا ہے۔
محل وقوع
ماہرینِ تاریخ اور آثار قدیمہ کے مطابق یہ قلعہ غالباً تیرہویں صدی میں دولت آباد / دیوگیری کےیادَو حکمرانوں کے زمانے میں بنایا گیاہوگا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہادر خان سے بہت پہلے یہاں ایک مضبوط گاؤں اورقلعہ موجود تھا، جسے بعد کے عہد میں دوبارہ تعمیر کیا گیا اوراسے مزید وسعت دی گئی۔
دیکھنے لائق مقامات
آج اگرچہ قلعہ مجموعی طورپرکھنڈروں میں تبدیل ہوچکاہے، لیکن اندر موجود مندر، حویلیاں، محراب، واٹر سسٹم اور مجسمے آج بھی شوقین سیاح اورتاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خزانہ ہیں۔
• اندر کے حصوں میں ایک خوبصورت حویلی نما عمارت’مستانی محل‘ کے نام سےموجود ہے، جو روایتی داستانوں میں پیشوا باجی راؤ اور مستانی کےحوالے سے جوڑی جاتی ہے، اگرچہ اس کا براہِ راست تاریخی ثبوت کم ہے؛ اس کا استعمال غالباً مغل یا بعد کے مراٹھا اشراف کے رہائشی حصے کے طور پر ہوا ہو گا۔اس کے علاوہ’بی بی کا محل‘ نامی عمارت کاذکرملتا ہے، جو دریائی کنارے کی سمت بیٹھ کر منظر دیکھنے کے لیے بنائی گئی شاندار عمارت ہے۔اس کے علاوہ کئی دیگر حویلیوں اور عمارتوں کے صرف ستون، محراب اورمنہدم شدہ عمارتیںباقی ہیں۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سےبہادرگڑھ قلعہ تک سڑک کا فاصلہ تقریباً ۲۳۵؍ تا ۲۷۷؍کلومیٹر ہے، جو کار/بائیک سے۵؍تا ۶؍ گھنٹے میں طےکیا جا سکتا ہے۔جبکہ ریل اور روڈ سب سے سستا اور آسان متبادل ہے۔
سڑک کے ذریعہ:ممبئی سے احمد نگر اور بہادر گڑھ قلعہ تک کا ۲۳۵؍ کلو میٹرکا فاصلہ ممبئی،پونے ،شری گونڈہ کے راستہ پیدگائوں جاکر طے کیا جاسکتا ہے۔جس میں۵؍تا ۶؍گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
ریل کے ذریعہ:اگر آپ ٹرین کے ذریعہ یہاں جانا چاہتے ہیں تو آپ کو ٹرین کے ذریعہ دونڈپہنچنا ہوگا۔ ممبئی سےدونڈ تک کا فاصلہ ۲۶۰؍ کلومیٹر ہے جبکہ یہاں سےپیدگائوں تک کا فاصلہ ۲۱؍کلومیٹر ہے۔دونڈ سے شیئر ٹیکسی یا بس کے ذریعہ آپ یہاں پہنچ سکتے ہیں۔
بس کے ذریعہ:اگر آپ بس کے ذریعہ یہاں جانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایم ایس آر ٹی سی اور دیگر کمپنیوں کی یعنی پرائیویٹ بسیںبھی مل جائیں گی۔جن کے ذریعہ آپ یہاں پہنچ سکتے ہیں۔