وردھا ندی کے کنارے موجود اس قلعہ کے آثار آج بھی موجود ہیں، تاڈوبا نیشنل پارک کے قریب واقع یہ قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
تصویر میں اندرونی عمارت نظر آرہی ہے جو کھنڈر بن چکی ہے۔ تصویر: آئی این این
بلارپورقلعہ چندرپور ضلع میں واقع ایک قدیم تاریخی مقام ہے جو وردھا ندی کےکنارے اپنی مستحکم تعمیر اور دفاعی حکمت عملی کی وجہ سےمشہورہے۔گونڈ بادشاہ کھنڈکیا بلا ل شاہ نے ۱۵؍ویں صدی (۱۴۳۷ء- ۱۴۶۲ء)میں اس کی بنیاد رکھی، جو بلارشاہ قلعہ کے نام سےبھی جانا جاتا تھا۔ یہ قلعہ نہ صرف دفاعی ڈھال تھا بلکہ گونڈ سلطنت کی طاقت اور فن تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ آج اس کے کھنڈرات آرکیا لوجیکل سروے آف انڈی(اے ایس آئی)کے تحفظ میں ہیں۔
تاریخی پس منظر
گونڈ بادشاہوں نے وردھاندی کی اسٹریٹجک جگہ پر قلعہ تعمیر کیا تاکہ جنوبی چندرپور اور ودربھ خطے کا دفاع کیاجا سکے۔۱۷۹۰ءمیں نانا صاحب بھوسلےنے اس کی مرمت کرائی۔ قلعہ نے مراٹھا، مغل اورنظام کے حملوں کا سامنا کیا، مگر آج اس کی اندرونی عمارتیں خالی ہیں۔ اس کی دیواریں ۱۵؍ تا ۲۰؍فٹ موٹی ہیں اور۷ء۵؍میل تک پھیلی تھیں۔ قلعے میں ابھی تک دریافت نہ ہونے والے سرنگیں موجود ہیں جو دفاعی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہیں۔
تعمیراتی خصوصیات
قلعہ سیاہ بجری پتھروں سےبنا مستطیل شکل کا ہے، جس کا مرکزی دروازہ مشرق کی طرف ہے۔اہم خصوصیات درج ذیل ہیں۔
دروازے:۲؍بڑے دروازے ایک دوسرے کے بالمقابل ۹۰؍ ڈگری زاویے پر بنائے گئے ہیں،جو حملہ آوروں کے لیے راستہ مسدود کرنے کے کام آتے تھے۔ دریا کے کنارے چھوٹاگیٹ بنایا گیا ہےجوسامان لانے کے کام آتا تھا۔
دیواریں: اس کی دیواریں اونچی پردے والی اورگول برجوں سے لیس ہیں جو توپ خانوں اور تیر اندازوں کے لیے موزوں ہیں۔ دریا کی وجہ سے ایک جانب سے تو حفاظت ہوجاتی ہےجبکہ دوسری جانب حفاظت کیلئے خندق بنائی گئی ہے۔
داخلی ڈھانچہ: محل، بار ادری اور رہائشی محلات کے ستون مٹی میں دفن ہوچکے ہیںجبکہ مرکزی گیٹ ابھی تک خوبصورت ہے۔
موجودہ حالت اور سیاحت
آج قلعہ کے کھنڈرات میں دیواریں اور گیٹ ہی باقی ہیںجو موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں کے باوجود قائم ہیں۔ یہ تاڈوبا ٹائیگر ریزورٹ سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہے، جو سیاحوں کو ملا جلا ٹور دیتا ہے۔ اندر آنا مفت ہے، مگر گائیڈ کی کمی ہے۔ بہترین وقت اکتوبر تامارچ ہے، جب موسم معتدل ہوتا ہے۔ قریبی تاڈوبا نیشنل پارک اور چندراپور جھیل بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔یہ چندرپور سے ۱۶؍کلومیٹر دور ہے جہاں بس یاآٹو سےپہنچا جاسکتا ہے۔بلارپور قلعہ گونڈ فن تعمیر اور ودربھ کی بھولی ہوئی تاریخ کی زندہ گواہی ہے، جو آثار قدیمہ کے شوقینوں اور فوٹوگرافرز کے لیے خزانہ ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ریل کے ذریعہ:ممبئی سے بلارپور پہنچنے کا سب سے قابلِ اعتماد اور آزمودہ طریقہ ریل ہے۔ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس (سی ایس ایم ٹی) یا لوکمانیہ تلک ٹرمینس(ایل ٹی ٹی سےبلارپور جنکشن کے لیے روزانہ کئی ایکسپریس اور سپر فاسٹ ٹرینیں دستیاب ہیں۔
سفر کا دورانیہ عموماً ۱۴؍سے ۱۶؍گھنٹےکے درمیان ہوتا ہے۔ رات کی ٹرین پکڑ لی جائے تو صبح دکن کی سرزمین آپ کا استقبال کرتی ہے۔بلارپور جنکشن سے قلعہ تقریباً۳؍ سے۴؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جو آٹو یا مقامی ٹیکسی سے آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔
سڑک کے ذریعہ:اگر آپ کو سفر کا مزہ راستے میں لینا ہو تو سڑک کا راستہ بھی کم دلکش نہیں۔ممبئی سے ناگپور ہائی وے(این ایچ ۴۴)پر سفر کرتے ہوئےناسک، دھولیہ، اور وردھا کے راستے بلارپور پہنچا جا سکتا ہے۔یہ فاصلہ تقریباً ۸۳۰؍ سے ۸۵۰؍کلومیٹرہے،جسے ذاتی گاڑی یا بس سے ۱۵؍تا ۱۷؍گھنٹوں میں طے کیا جا سکتا ہے۔ مہاراشٹراسٹیٹ ٹرانسپورٹ اور نجی بسیں بھی چندرپور یا بلارپور تک دستیاب ہوتی ہیں، اگرچہ یہ سفر صبر مانگتا ہے۔