• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیروگڑھ قلعہ: ستارا کی پہاڑیوں میں پوشیدہ ایک قدیم قلعہ

Updated: February 05, 2026, 11:25 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

یہ قلعہ عام راستوں سے نظر نہیں آتالیکن جو یہاں پہنچتا ہے وہ تاریخ اور فطرت کے نادر امتزاج سے روبرو ہوتا ہے۔

Bhairavgad Fort can be seen from a distance. Photo: INN
بھیرو گڑھ کا قلعہ دور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کا ضلع ستارا ویسے ہی قلعوں کی سرزمین کہلاتا ہے، مگر ان بے شمار مضبوط قلعوں کے درمیان کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جو اپنی خاموشی، تنہائی اور سخت جغرافیائی ساخت کی وجہ سے الگ پہچان رکھتےہیں۔ بھیرَوگڑھ قلعہ انہی میں سے ایک ہے۔ یہ قلعہ نہ تو بڑے سیاحتی نقشوں پر نمایاں نظر آتاہے اور نہ ہی عام راستوں سے آسانی سے دکھائی دیتا ہے، مگر جو یہاں تک پہنچتا ہے، وہ تاریخ اور فطرت کے ایک نادر امتزاج سے روبرو ہوتا ہے۔ 
تاریخی پس منظر
ماہرین کے مطابق یہ قلعہ تقریباً ۲۵۰۰؍تا ۳؍ہزارسال قدیم ہے۔ روایات کے مطابق اسے پنہالا کے راجاؤں نے تعمیر کیا تھا۔ کچھ مقامات پراسے ۱۲؍ویں صدی کے شیلاہار بادشاہ بھوج سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ مراٹھا دورِ حکومت میں یہ قلعہ ستارا سے بھیجے گئےفوجیوں کے زیرِ انتظام تھا۔ مراٹھاسلطنت کے زوال تک یہ ان کے کنٹرول میں رہا۔ تیسری اینگلو مراٹھاجنگ کے دوران ۲۳؍مئی ۱۸۱۸ءکوبرطانوی فوج نے لیفٹیننٹ کیپن کی قیادت میں اس قلعے پر بغیر کسی بڑی مزاحمت کے قبضہ کر لیا تھا۔ 
سیاحتی نقطہ نظر سے اہمیت
یہ قلعہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور سکون کی وجہ سے ایک بہترین مقام ہے۔ اس کی سیاحتی اہمیت کے چند اہم پہلو یہ ہیں :
کوئنا وائلڈ لائف سنکچری: یہ قلعہ کوئنا وائلڈ لائف سینکچوری کےگھنے جنگلات میں واقع ہے، جس کی وجہ سے یہ فطرت کے شیدائیوں اور فوٹو گرافی کے شوقین افرادکیلئےایک پُرکشش جگہ ہے۔ 
پہاڑی نظارے: قلعے کی چوٹی سے کوئنا ڈیم کے وسیع ذخیرہ آب اور سہیادری کےپہاڑی سلسلوں کا انتہائی دلکش منظر دیکھا جاسکتا ہے، جو سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھگونت گڑھ قلعہ: ساونت واڑی کے قریب واقع تاریخی قلعہ

ایڈونچر اور ٹریکنگ: یہ ٹریکرز کیلئےایک بہترین مقام ہے کیونکہ اس کا راستہ گھنے جنگلات سے گزرتا ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے تقریباً۲؍ سے۳؍ گھنٹےکی پیدل مسافت طے کرنی پڑتی ہے، جو مہم جوئی پسند کرنے والوں کے لیے ایک اچھا چیلنج ہے۔ 
تاریخی ورثہ: یہاں چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے پانی کے تالاب اور قدیم مندرموجود ہیں، جو قدیم فنِ تعمیر اور تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ 
خاموشی اور تنہائی: تجارتی سیاحتی مقامات کے برعکس، یہاں بہت زیادہ بھیڑ نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ لوگ جو شور و غل سے دور سکون تلاش کرنا چاہتے ہیں، یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ 
موجودہ حالت
یہ قلعہ وقت کے ساتھ کافی حد تک شکستہ ہو چکا ہے، لیکن اب بھی اس کے کئی حصے اپنی اصل شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ قلعے کے ۳؍ اہم داخلی دروازے تھے، جن میں سے اب صرف نیچے کے حصے اور کچھ دیواریں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ شمالی دروازے کے آثار تقریباًختم ہو چکے ہیں، جبکہ جنوبی دروازے کی دیواریں اب بھی کھڑی ہیں، حالانکہ ان کا بالائی محراب گر چکا ہے۔ 
یہاں کیسے پہنچیں ؟
ممبئی سےستارا کے بھیروگڑھ قلعہ تک رسائی بنیادی طور پر بس، ٹرین یا نجی گاڑی سے ممکن ہے، جو تقریباً ۲۵۰؍کلومیٹر دور ہے اور یہاں تک پہنچنے میں ۵؍تا ۷؍گھنٹے لگتے ہیں۔ 
بس کے ذریعہ:ممبئی (دادر یا بوریولی بس اسٹینڈ) سے ایم ایس آر ٹی سی کی براہ راست بسیں ستارا روڈ تک جاتی ہیں، جو۴؍ تا۵؍گھنٹے میں پہنچ جاتی ہیں۔ ستارا سےشیئر ٹیکسی یاآٹو(ایک تا۲؍گھنٹے) سے کوینا نگر بیس ویلیج تک پہنچ سکتے ہیں۔ 
ٹرین کے ذریعہ:ممبئی سے ستارا یا کویناروڈ اسٹیشن تک ٹرین سے ۴؍ تا ۶؍گھنٹےلگتےہیں۔ آٹو یا ٹیکسی سےبیس ویلیج تک پہنچنا ہوگا۔ 
پرائیویٹ کار سے:ممبئی-پونےایکسپریس وے سے ستارا ۲۶۰؍ کلومیٹر، ۵؍گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں پھر بیس تک جانا ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK