مالون سے ۱۸؍کلومیٹردورپہاڑی پر موجود یہ ایک تاریخی قلعہ ہےجو مراٹھا دور کی دفاعی حکمت عملی اور تنازعات کی علامت ہے۔
بھگونت گڑھ قلعہ کی دیوار نظر آرہی ہے۔ تصویر: آئی این این
بھگونت گڑھ قلعہ مہاراشٹر کے ضلع سندھودرگ میں، مالون سے تقریباً ۱۸؍کلومیٹر دور، کلاول کریک کے شمالی کنارے پر موجود پہاڑی پر واقع ایک تاریخی قلعہ ہےجو مراٹھا دور کی دفاعی حکمت عملی اور تنازعات کی علامت ہے۔ یہ قلعہ پنت پرتی نیدھی نے کولھاپور کے چھترپتی کے حکم پر تعمیر کیا تاکہ ساونت واڑی کے ساونتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے، جو اس کے سامنے بھارت گڑھ قلعہ بنا چکے تھے۔
تاریخی پس منظر
بھگونت گڑھ قلعہ کی بنیاد۱۷۰۱ءکے فوراً بعد رکھی گئی جب ساونتوں نے بھارت گڑھ (ماسورگاؤں) قلعہ تعمیر کیا۔ یہ کولھاپور کی سلطنت کا حصہ بنا مگر چند سال میں ساونت واڑی کےساونتوں کے قبضےمیںآ گیا۔۱۷۴۸ءمیں کانہوجی آنگرے کے بیٹے تلاجی آنگرے نے ۱۸؍ ماہ کاناکام محاصرہ کیا، جبکہ ۱۸۱۸ءمیںبرطانوی افسر کپتان گرے اور پیرسن نے ایسٹ انڈیاکمپنی کی فوج سے فتح کیا۔یہ قلعہ مراٹھا کنفیڈریسی کے سیاسی انتشار اور سمندری تجارت کی حفاظت کی جھلک دکھاتا ہے۔
محل و قوع
بھگونت گڑھ کا سب سے بڑا حسن اس کا قدرتی محلِ وقوع ہے۔قلعے کی چوٹی سےسرسبز وادیاں،دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے،بارش کے موسم میں بہتے نالے اور دھند میں لپٹی فضاصاف نظر آتی ہے۔ مانسون کے دنوں میں یہ قلعہ گویا بادلوں کے درمیان تیرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں یہ جگہ ٹریکنگ اور ہیرٹیج ٹورازم کے شوقین افراد کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔
موجودہ حالت اور سیاحت
قلعہ پہاڑی پر پھیلا ہوا ہے جس کی باقیات میں مغربی سمت کا تباہ شدہ مرکزی دروازہ، دیواریں، برج اور کھنڈرات شامل ہیں۔ دوسرے مستحکم دروازے اور۸؍برجوں والی دیوار اب بھی جزوی طور پرموجود ہیں، جو توپوں اور دفاعی حکمت عملی کے لیے بنائی گئی تھی۔ قلعہ میں کنویں سے پانی کی فراہمی ہوتی تھی اور یہ سمندر اور کریک کی نگرانی کرتا تھا۔ آج یہ کھنڈرات میں تبدیل ہے مگر سدھیشور مندر مکمل حالت میں ہے جو۴؍ مربع فٹ اونچے پلیٹ فارم پر تعمیر ہے، اس کی پتھر کی مورتی اور تلسی ورینڈا مذہبی اہمیت رکھتے ہیں۔
موجودہ حالت
آج بھگوانت گڑھ ایک نیم فراموش شدہ تاریخی ورثہ کی حیثیت رکھتاہے۔ یہاںکوئی باقاعدہ سیاحتی سہولت نہیں۔نہ ہی یہاں رہنمائی کیلئے کوئی بورڈ ہے نہ ہی حکومت کے ذریعہ یہاں کوئی دیکھ بھال کی جاتی ہےمگر شاید یہی اس کی خوبصورتی ہے۔ یہ قلعہ آج بھی اپنے وقار کےساتھ کھڑا ہے جیسے وقت کو خود پر سے گزرنے دیتا ہو۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
بھگوانت گڑھ تک پہنچنے کے لیے عام طور پر ستارا یا کراڈکو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ یہی دو شہر عملی اور آزمودہ راستہ دیتے ہیں۔
سڑک کے ذریعہ:یہاں پہنچنے کیلئے آپ کو ممبئی سے ایس ٹی بس یا کوکن ریلوے سے ساونت واڑی اترنا ہوگا۔پھرآپ کو مالوان جانا ہوگا۔ وہاں سے ۵؍ منٹ چلنے پر آپ ایک اسکول کے قریب پہنچ جائیں گے۔ اسکول کے پیچھے سے مزید ۱۰؍منٹ چلنے پر آپ بھگونت گڑھ قلعہ تک پہنچ جائیں گے۔
•کار کے ذریعہ:اگر آپ اپنیکاریاپرائیویٹ گاڑی سے وہاں جانا چاہتے ہیں تو آپ کو ممبئی-گووا ہائی وے یعنی قومی شاہراہ نمبر ۶۶؍پر سفر کرتے ہوئے مالون پہنچنا ہوگاوہاں سے باقی راستہ وہی اختیار کرنا ہوگا جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔
نوٹ:واضح رہے کہ یہ قلعہ ایک مشہور تفریحی مقام نہیں ہے اس لئے یہاںزیادہ سہولیات نہیں ہیں۔اس لیے آپ پانی،مضبوط جوتے اور اپنا کھانا ساتھ لے کر جائیں۔ اس کے علاوہ یہاں موبائل کا نیٹورک بھی کمزور رہتا ہے اس لئے اپنے اہل خانہ کو پیشگی اطلاع دے کر جائیں ۔ یہاں مانسون میں جانا بہتر ہوتا ہے۔