• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بالاپور قلعہ:اکولہ میں واقع مغل فن تعمیر اور مضبوطی کی عمدہ مثال

Updated: January 08, 2026, 7:15 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

یہ قلعہ مان اور بھینس نامی ندیوں کے سنگم پر موجود ایک اونچے ٹیلے پر واقع ہےجس سے یہ ۳؍جانب سے پانی سے گھرا رہتا ہے صرف ایک راستہ خشکی کا ہے۔

Taken from a distance, the fort can be seen in the middle of the water. Picture: INN
دور سے لی گئی ہے جس میں پانی کے بیچ قلعہ دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
بالاپورقلعہ مہاراشٹر کے ضلع اکولہ کے تعلقہ بالاپور میں واقع ایک اہم مغل قلعہ ہے، جو مان اوربھینس نامی ندیوںکےسنگم کے قریب بلندٹیلےپر بنا ہوا ہے۔ اسے سترہویں اوراٹھارہویں صدی میں دکن پرمغل اقتدار کو مضبوط کرنے، تجارتی راستوں کی نگرانی اور فوجی چوکی کےطور پر تعمیر کیا گیا اور آج بھی ودربھ -خاندیش خطے کے مضبوط ترین قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔
محلِ وقوع اور قلعے کی ساخت
بالاپور قلعہ مغل دور میں ایک اہم فوجی چھاؤنی اور انتظامی مرکز تھا،جہاں سے دکن کے اندرونی حصوں اور گوداوری-تاپتی کے بیچ کے تجارتی راستوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔قلعے کی تعمیر کا آغاز مرزا اعظم شاہ (شہنشاہ اورنگ زیب کے بیٹے)نے ۱۷۲۱ءکےآس پاس کیا، جب وہ دکن میں مغل فوجی مہمات کی قیادت کر رہے تھے۔تعمیر کا کام بعد میں اسماعیل خان، نواب ایلیچ پور (موجودہ اچل پور، ضلع امراؤتی) نے مکمل کیا اور ۱۷۵۷ءمیں قلعہ اپنی پوری شکل میں تیار ہوا۔ بالاپور پر مغل دور میں اتنی توجہ دی گئی کہ اسے اس خطے کی سب سے مضبوط فوجی چوکی سمجھا جاتا تھا، بعد میں مراٹھا اورمغل کشمکش اور انگریزوں کےعہد میں بھی یہ اہم رہا، اگرچہ رفتہ رفتہ اس کی فوجی اہمیت کم اور علامتی/انتظامی حیثیت بڑھتی گئی۔
محل وقوع
بالاپور قلعہ مان اوربھینس نامی ندیوںکےسنگم کے بیچ ایک اونچےٹیلےپر واقع ہے، جس سے یہ قدرتی طور پر تین طرف سے آبی رکاوٹوں سے محفوظ رہتا ہے، برسات میں قلعہ تقریباً ہر سمت سے پانی میں گھِر جاتا ہے، صرف ایک راستہ خشک رہتا ہے۔
یہ قلعہ کیسا ہے؟
یہ قلعہ ۲؍ دائروں/حصوں پر مشتمل ہےجن میں سے بیرونی قلعہ یعنی نچلا حصہ اور اندرونی قلعہ یعنی اوپری حصہ۔
اس کا نچلا حصہ تقریباً۱۰؍ رُخی جس کے ہر کونے پر مضبوط برج بنا ہے۔اندر کی جانب۵؍ کونوں والاحصہ ہے، جس کے ہر گوشے پر ایک برج ہے۔اس کی  دیواریں بیرونی حصے سے بھی بلند ہیں، تاکہ دفاعی لحاظ سے دوہری دیوار کا نظام بن جائے۔قلعے کے۳؍مضبوط دروازے ہیں، ایک کے اندر دوسرا،جو دشمن کے حملے کی صورت میں ہر سطح پر کنٹرول اور دفاع میں مدد دیتے تھے۔
یہ قلعہ مغل-ہندوستانی فنِ تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے، جس میںموٹی، بلند دیواریں اور نیم گول برج،اندر پیچ در پیچ راستےاور ایسی گزرگاہیں شامل ہیں جو دفاعی نقطۂ نظر سے تیروں، توپوں اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کو آسان بناتی تھیں، جبکہ دشمن کے لیے اندرونی ساخت سمجھنا مشکل تھا۔قلعے کی تعمیر میں اُس زمانے کے بہترین اینٹ،گارے اور پتھر استعمال کیے گئے، اس لیے آج بھی یہ خاصی مضبوط حالت میں ہے، اگرچہ کچھ حصوں میں مرمت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
ممبئی سے بالاپور قلعہ تک پہنچنے کے دو آسان طریقے ہیں ایک کاریابس سے سڑک کے ذریعے، دوسرا ریل  کے ذریعے۔ 
سڑک کے ذریعہ:ممبئی سے اکولہ تقریباً ۶۰۰؍کلومیٹردور ہے۔جبکہ اکولہ سے بالاپورکا راستہ تقریباً ۲۵؍تا ۳۰؍کلومیٹر کا ہے۔سڑک کے راستے یہاں جانے کیلئے آپ کو ممبئی، تھانے، شیرڈی،منماڑ کی سمت قومی شاہراہ ۱۶۰؍ پر جلگائوں،بھساول ہوتے ہوئے اکولہ کی سمت جانا ہوگا۔اکولہ شہر سے آپ کو بالاپور روڈ پر تقریباً آدھا گھنٹہ سفر کرنا ہوگا تب آپ بالا پور قصبہ میں پہنچ جائیں گے۔ قلعہ قصبے کے مرکز میں مین روڈ سے ہی دکھائی دیتا ہے۔اس کے علاوہ ممبئی سے اکولہ کیلئے ایم ایس آر ٹی سی یا پرائیویٹ بسیں مل جائیں گی۔
ریل کے ذریعہ:اگر آپ ٹرین کے ذریعہ جانا چاہتے ہیں تو آپ کو ممبئی سی ایس ایم ٹی یا دادر سےدستیاب کئی ٹرینوں میں سےایک ٹرین میں سوار ہونا ہوگا۔اس میں ۱۰؍تا ۱۲؍ گھنٹے لگتے ہیں۔اکولہ  پہنچ کر آپ لوکل ٹرانسپورٹ سے بالاپور قلعہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK